خیبر پختونخوا کا ترمیم شدہ پولیس ایکٹ سپریم کورٹ میں چیلنج ہوگا، طلال چوہدری

اسلام آباد: وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کا ترمیم شدہ پولیس ایکٹ سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا، وفاق کے پاس اس معاملے پر بہت سے قانونی و آئینی آپشنز موجود ہیں۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے مجوزہ پولیس ایکٹ پر وفاق کو تحفظات ہیں۔ 18ویں ترمیم کے تحت صوبوں کو صرف مخصوص اختیارات دیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی نے آئی جی کے اختیارات صرف واپس نہیں لیے بلکہ پولیس کا پورا اسٹرکچر تباہ کیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے اختیار اپنی جیب میں رکھنے اور اسے اپنی سیاسی جماعت کے تابع کرنے کی کوشش کی ہے۔وزیرِ مملکت برائے داخلہ کا کہنا تھا کہ مجوزہ پولیس ایکٹ میں پولیس کے اختیارات محدود کیے جا رہے ہیں اور آئی جی کے اختیارات واپس لینے کے ساتھ پوری کمانڈ کو متاثر کیا گیا ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا اب خیبر پختونخوا پولیس کا کوئی اسٹرکچر برقرار رہے گا؟ مجوزہ پولیس ایکٹ میں سیاسی عمل دخل واضح نظر آ رہا ہے، اگر ڈی ایس پیز اپنی مرضی سے تعینات کیے جائیں گے تو کیا بھرتیاں بھی ذاتی پسند سے کی جائیں گی؟طلال چوہدری نے کہا کہ ان کے بانی اداروں کو سیاست سے پاک رکھنے کا سبق دیتے اور مغربی ممالک کی مثالیں دیتے تھے، جبکہ پولیس کا بنیادی کام امن و امان برقرار رکھنا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد آنے کے لیے 125 راستے موجود ہیں اور وہ کھلے ہیں، حکومت کسی کے کہنے پر نہیں بلکہ اپنے فیصلوں کے تحت اقدامات کرتی ہے۔
مزید پڑھیں





