Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

معصومیت کی پکار،تحریر: سائرہ علی

نقطہ نظر

آغاز ایک سوال سے...

کیا آپ نے کبھی کسی معصوم بچے کی آنکھوں میں خوف دیکھا ہے؟ وہ خوف جو بھروسے کے ٹوٹنے سے پیدا ہوتا ہے؟ آج ہمارا معاشرہ جس نہج پر پہنچ چکا ہے، وہاں ہر ماں اپنے بچے کو گھر سے باہر بھیجتے ہوئے ڈرتی ہے۔ یہ ڈر کسی حادثے کا نہیں، کسی انسان نما درندے کا ہے۔ یہی ہے آج کی سب سے بڑی حقیقت، جس سے ہم نظریں چرا رہے ہیں۔ یہ کالم کسی ایک واقعے پر نہیں، اس سوچ پر ہے جو ہماری گلیوں، ہمارے محلوں میں پروان چڑھ رہی ہے۔ جنسی زیادتی محض جسمانی تشدد نہیں ہے، یہ ایک پوری نسل کی نفسیات پر حملہ ہے۔ یہ وہ زخم ہے جو نظر نہیں آتا، مگر روح کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔ اور سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم اسے ایک عارضی خبر سمجھ کر بھول جاتے ہیں۔

ہم کہاں غلطی کر رہے ہیں؟

اس ناسور کے پھیلنے کی کئی وجوہات ہیں، جن پر آنکھیں بند کرنا مزید تباہی کو دعوت دینا ہے۔ تربیت کا بحران: ہم نے تعلیم کو ڈگریوں تک محدود کر دیا ہے۔ ہمارے تعلیمی اداروں میں سائنس اور ریاضی تو ہے، لیکن کردار سازی، اخلاقیات، اور دوسرے کی عزت کا سبق کہیں کھو گیا ہے۔ ایک بچہ جو گھر میں عورت کی عزت کرنا نہیں سیکھتا، وہ باہر کسی کی بیٹی کی عزت کیسے کرے گا؟ قانون کی سست روی: انصاف میں تاخیر، انصاف کا قتل ہے۔ جب ایک کیس سالوں عدالتوں میں گھومتا ہے، تو مظلوم کی ہمت ٹوٹ جاتی ہے اور مجرم کے حوصلے بلند ہو جاتے ہیں۔ فوری اور عبرتناک انصاف ہی اس جرم کا واحد حل ہے۔

حوس کے ہاتھوں لٹا ہے بچپن یہاں اور قانون اب بھی سوچ رہا ہے۔ خاموشی کا زہر: ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا دشمن "لوگ کیا کہیں گے" کا جملہ ہے۔ ہم اپنی عزت بچانے کے لیے مظلوم کو ہی چپ کرا دیتے ہیں۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ عزت مجرم کو چھپانے میں نہیں، مظلوم کو انصاف دلانے میں ہے۔ یہی خاموشی کل کو کسی اور معصوم کی چیخ بن جاتی ہے۔

سوشل میڈیا اور بے لگام مواد: انٹرنیٹ ایک نعمت ہے، لیکن بغیر نگرانی کے یہ ایک ہتھیار بھی ہے۔ چھوٹے بچوں کے ہاتھ میں ایسا مواد آ رہا ہے جو ان کی ذہنی عمر سے بہت بڑا ہے، جو ان میں گندگی بھر رہا ہے۔ تو پھر حل کیا ہے؟ حل چیخنے چلانے میں نہیں، عملی قدموں میں ہے۔

پہلا قدم: گھر سے شروع کریں۔ اپنے بچوں کو اعتماد دیں۔ انہیں بتائیں کہ ان کا جسم ان کی امانت ہے۔ انہیں اچھے اور برے لمس میں فرق سکھائیں۔ یہ بے حیائی نہیں، یہ حفاظت ہے۔ انہیں اتنا بااختیار بنائیں کہ وہ کسی بھی غلط بات پر فوراً آپ کو بتا سکیں۔ دوسرا قدم: ریاست اپنا کردار ادا کرے۔ حکومت کو چاہیے کہ ایسے مقدمات کے لیے خصوصی اور تیز رفتار عدالتیں قائم کرے۔ سزا ایسی ہو کہ نشانِ عبرت بن جائے۔ تیسرا قدم: معاشرہ مظلوم کا ساتھ دے۔ ہمیں تماشائی بننا چھوڑنا ہوگا۔ جہاں کہیں زیادتی دیکھیں، آواز اٹھائیں۔ مظلوم خاندان کو طعنے دینے کے بجائے ان کا سہارا بنیں۔ یاد رکھیں، معصوم بچے کسی ایک گھر کے نہیں، پورے معاشرے کے سانجھے ہوتے ہیں۔ اگر آج ایک معصوم کی پکار پر ہم نے کان بند کر لیے، تو کل یہ پکار ہمارے اپنے آنگن سے آئے گی۔ خدا نہ کرے کہ وہ دن آئے۔ آئیے، ہم سب مل کر عہد کریں کہ ہم اپنی آنکھوں کے سامنے کسی

معصومیت کو پامال نہیں ہونے دیں گے۔ کیونکہ جس معاشرے میں معصوم محفوظ نہ ہوں، وہاں ترقی، تعلیم اور روشنی سب بے معنی ہیں۔

رسائی کے اختیارات

Size: NORMAL