Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

مہنگائی اور ہماری خاموشی،تحریر : مریم خان

نقطہ نظر

پٹرول کی قیمت بڑھی تو ہم نے موبائل اٹھایا، خبر پڑھی، دو منٹ کے لیے غصہ کیا، ایک دو جملے لکھے اور پھر اگلے ہی دن گاڑی میں پٹرول ڈلواتے ہوئے وہی بڑھی ہوئی قیمت ادا کر دی۔ شاید ہمارے عہد کی سب سے بڑی خبر یہی ہے کہ ہمیں اب کسی خبر پر زیادہ دیر حیرت نہیں ہوتی۔

کل پٹرول مہنگا تھا، آج مزید مہنگا ہے۔ کل آٹا مہنگا تھا، آج اس کی قیمت اور بڑھ گئی۔ بجلی کا بل آیا تو آنکھیں کھل گئیں، گیس کا بل آیا تو سانس رک گئی، بچوں کی فیس بڑھی تو گھر کا بجٹ دوبارہ بنانا پڑا، مگر اگلے ہی دن زندگی پھر اسی رفتار سے چل پڑی۔

جیسے مہنگائی نہیں بڑھی، صرف ہماری برداشت کی حد بڑھ گئی ہو۔

لیکن سوال صرف یہ نہیں کہ پٹرول مہنگا کیوں ہو رہا ہے۔


اصل سوال یہ ہے کہ مہنگائی کے ساتھ ساتھ ہماری زندگی کتنی سستی ہوتی جا رہی ہے؟


یہ جملہ شاید تلخ ہے، مگر ذرا اپنے اردگرد دیکھیے۔ ایک عام آدمی پہلے اپنی خواہشیں کم کرتا ہے، پھر ضرورتیں، پھر بچوں کی خواہشیں، پھر اپنی صحت، پھر تفریح، اور آخر میں وہ خواب بھی جن کے لیے کبھی زندگی شروع کی تھی۔

مہنگائی صرف جیب سے پیسے نہیں نکالتی، یہ آہستہ آہستہ انسان کی زندگی کا دائرہ بھی چھوٹا کر دیتی ہے۔

پہلے لوگ کہتے تھے، ’’اس بار مشکل ہے، اگلے مہینے حالات بہتر ہو جائیں گے۔‘‘

اب شاید ہم نے ’’اگلے مہینے‘‘ کہنا بھی چھوڑ دیا ہے۔

ہم نے مہنگائی کے ساتھ ایک عجیب سا سمجھوتا کر لیا ہے۔ دکاندار قیمت بتاتا ہے، ہم حیران ہوتے ہیں، پھر وہ قیمت ادا کر دیتے ہیں۔ بجلی کا بل آتا ہے، ہم پریشان ہوتے ہیں، پھر جمع کرا دیتے ہیں۔ پٹرول مہنگا ہوتا ہے، ہم غصے میں ایک پوسٹ لکھتے ہیں، چند لوگ اسے پسند کرتے ہیں، کچھ تبصرے کرتے ہیں اور پھر اگلے دن سب کچھ معمول کے مطابق چلنے لگتا ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں مسئلہ صرف مہنگائی نہیں رہتا۔

مسئلہ اجتماعی بے حسی بن جاتا ہے۔

اس بے حسی کے پیچھے لاکھوں کہانیاں ہیں۔ ایک باپ ہے جو بچوں کی فیس سوچ کر خاموش ہے۔ ایک ماں ہے جو بازار میں چیز اٹھا کر قیمت دیکھتی ہے اور پھر واپس رکھ دیتی ہے۔ ایک طالب علم ہے جو روزانہ کا کرایہ بچانے کے لیے کئی راستے پیدل طے کرتا ہے۔ ایک ملازم ہے جس کی تنخواہ مہینے کے پہلے ہی ہفتے میں تقسیم ہو جاتی ہے اور باقی دن حساب کتاب میں گزر جاتے ہیں۔

اور سب سے عجیب بات یہ ہے کہ یہ سب لوگ زندہ ہیں، کام کر رہے ہیں، مسکرا بھی رہے ہیں۔

بس اپنی زندگی پہلے جیسی نہیں جی رہے۔


ہم نے اپنی خواہشوں کو ’’فضول خرچی‘‘ کہنا شروع کر دیا ہے، اپنے حق کو ’’قسمت‘‘ اور اپنی مجبوری کو ’’صبر‘‘ کا نام دے دیا ہے۔

صبر یقیناً بڑی خوبی ہے، لیکن ہر زیادتی کو صبر کے نام پر قبول کر لینا معاشرے کی صحت کی علامت نہیں۔

ہمیں ہر قیمت پر سڑکوں پر نکلنا ضروری نہیں، مگر ہر قیمت کو معمول سمجھ لینا بھی ضروری نہیں۔

ہمیں ہر خبر پر شور مچانا ضروری نہیں، مگر سوال کرنا تو ضروری ہے۔

آخر ایک شہری یہ پوچھنے کا حق کیوں نہ رکھے کہ اس کی آمدنی اور اخراجات کے درمیان فاصلہ مسلسل کیوں بڑھ رہا ہے؟ ایک چیز مہنگی ہوتی ہے تو اس کے اثرات دوسری چیزوں تک کیوں پہنچتے ہیں؟ اور جب کسی قیمت میں کمی ہوتی ہے تو اس کا فائدہ عام آدمی تک اسی رفتار سے کیوں نہیں پہنچتا؟


یہ سوال کسی ایک فرد، ادارے یا جماعت کا نہیں۔


یہ عوام کے حقِ سوال کا سوال ہے۔


کیونکہ خاموشی ہمیشہ امن نہیں ہوتی۔

کبھی کبھی خاموشی صرف تھکن ہوتی ہے۔

ہم میں سے بہت سے لوگ بولنا چاہتے ہیں، مگر روزمرہ کی دوڑ نے انہیں اتنا تھکا دیا ہے کہ احتجاج سے پہلے انہیں اپنے گھر کا چولہا یاد آ جاتا ہے۔ انہیں بچوں کی فیس، بجلی کا بل، کرایہ، راشن اور دو وقت کی روٹی کا حساب یاد آ جاتا ہے۔

اور پھر وہ خاموش ہو جاتے ہیں۔

یہ خاموشی رضامندی نہیں۔

یہ اکثر مجبوری ہوتی ہے۔

مگر مجھے ڈر اس دن سے نہیں جب پٹرول مزید مہنگا ہو جائے گا۔ مجھے ڈر اس دن سے ہے جب کوئی شخص یہ قیمت سن کر کندھے اچکا کر کہے گا:


’’کوئی بات نہیں، اب تو عادت ہو گئی ہے۔‘‘


کیونکہ جس معاشرے کو مہنگائی، ناانصافی اور محرومی کی عادت ہو جائے، وہاں سب سے مہنگی چیز پٹرول نہیں رہتی۔

سب سے مہنگی چیز انسان کی بے حسی بن جاتی ہے۔

اور شاید آج ہمیں پٹرول کی قیمت سے زیادہ اپنی اس قیمت کا حساب کرنے کی ضرورت ہے جو ہم خاموش رہ کر ادا کر رہے ہیں۔