زندگی میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کا احسان انسان چاہ کر بھی الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا۔ والدین ہمیں زندگی دیتے ہیں، مگر استاد ہمیں اس زندگی کو سمجھنے، سنوارنے اور ایک مقصد کے ساتھ گزارنے کا ہنر سکھاتا ہے۔ استاد صرف کتابیں نہیں پڑھاتا، وہ شخصیت بناتا ہے، سوچ کو وسعت دیتا ہے اور انسان کے اندر چھپی صلاحیتوں کو پہچان کر اسے آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتا ہے۔
یومِ اساتذہ میرے لیے محض ایک دن نہیں بلکہ اپنی زندگی کے ان محسنوں کو یاد کرنے کا موقع ہے جنہوں نے میرے ہاتھ میں قلم دیا، مجھے علم کی روشنی سے روشناس کرایا اور میرے کردار کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالا۔
اگر میں اپنی تعلیمی زندگی کے ابتدائی سفر کو یاد کروں تو سب سے پہلے میرے استادِ محترم قاضی غلام مرتضٰی صاحب کا نام ذہن میں آتا ہے۔ میں نے مکتب سکول بھگوال میں اپنی تعلیم کا آغاز انہی کی شفقت اور محبت کے سائے میں کیا۔ انہوں نے مجھے نہایت محبت اور خلوص سے پڑھایا اور سب سے بڑھ کر مجھے قلم پکڑنا سکھایا۔ آج میں جو کچھ بھی ہوں، جس انداز میں لکھتا ہوں اور قلم سے اپنے خیالات کا اظہار کرتا ہوں، اس سفر کی بنیاد میرے انہی استادِ محترم نے رکھی۔
میرے لیے یہ کہنا اعزاز کی بات ہے کہ میری زندگی میں قلم سے تعلق قائم کرنے والے پہلے استاد قاضی غلام مرتضیٰ صاحب تھے۔ انہوں نے صرف حروف اور الفاظ نہیں سکھائے بلکہ علم سے محبت کا وہ جذبہ دیا جو آج بھی میرے ساتھ ہے۔
اس کے بعد جب میں نے پانچویں جماعت میں گورنمنٹ ہائیر سکینڈری سکول بھگوال میں تعلیم کا آغاز کیا تو میری زندگی میں کئی ایسے اساتذہ آئے جنہوں نے میری شخصیت کو مزید نکھارنے میں اپنا کردار ادا کیا۔ ان میں میرے محترم استاد جہانگیر خان صاحب، امیر افضل صاحب، راجہ یعقوب صاحب، افتخار حسین صاحب، عقیل انجم اور ماسٹر عبداللہ صاحب بالخصوص قابلِ ذکر ہیں۔
ان اساتذہ نے مجھے صرف نصابی کتابوں تک محدود نہیں رکھا بلکہ ایک بہتر انسان بننے، دوسروں کا احترام کرنے، نظم و ضبط اپنانے، محنت کرنے اور زندگی کے چیلنجز کا سامنا کرنے کا شعور بھی دیا۔ ان کی ڈانٹ میں بھی اصلاح تھی، ان کی نصیحت میں بھی محبت تھی اور ان کی رہنمائی میں ہمارے بہتر مستقبل کی فکر شامل تھی۔
لیکن میری زندگی میں استاد کا سفر صرف درسگاہ تک محدود نہیں رہا۔ جب میں نے صحافت کے میدان میں قدم رکھا تو مجھے ایک نئی درسگاہ ملی، جہاں کتابیں کم اور عملی تجربات زیادہ تھے۔ یہاں بھی اللہ تعالیٰ نے مجھے ایسے اساتذہ عطا کیے جنہوں نے میرے ہاتھ میں موجود قلم کو مقصد، اصول اور ذمہ داری کا شعور دیا۔
اگر میں اپنے صحافتی کیریئر کی بات کروں تو سب سے پہلے جس شخصیت کا نام میرے ذہن میں آتا ہے وہ میرے استادِ محترم قاسم اعوان صاحب ہیں۔ میرے لیے وہ نہایت قابلِ عزت اور قابلِ احترام شخصیت ہیں۔ انہوں نے مجھے صحافت کے بنیادی اصولوں سے روشناس کرایا، خبر لکھنا سکھایا، خبر کے معیار کو سمجھایا اور یہ بتایا کہ ایک صحافی کے لیے خبر صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہے۔
ان کے بعد میرے محترم ریاض بٹ صاحب نے میرے صحافتی سفر میں ایک اہم رہنما کا کردار ادا کیا۔ انہوں نے مجھے صحافت کے مزید باریک اصولوں سے روشناس کرایا، خبر کے مختلف پہلوؤں کو سمجھنے اور عملی صحافت کے تقاضوں کو جاننے میں میری بھرپور رہنمائی کی۔ ان کی شفقت، رہنمائی اور تجربے سے مجھے صحافت کو محض ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک ذمہ داری کے طور پر سمجھنے کا موقع ملا۔ میرے صحافتی سفر میں ان کی رہنمائی ایک ایسی سمت ثابت ہوئی جس نے میرے قلم اور سوچ کو مزید پختگی عطا کی۔
اسی طرح سعید احمد اعوان صاحب وہ شخصیت ہیں جن سے مجھے صحافتی اقدار، اصولوں اور صحافت کی ذمہ داریوں کے بارے میں بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔ ان کی شخصیت اور ان کی دی ہوئی تربیت میرے لیے ہمیشہ قابلِ احترام رہے گی۔
میں اپنے صحافتی سفر میں ان تینوں شخصیات، قاسم اعوان صاحب، ریاض بٹ صاحب اور سعید احمد اعوان صاحب کا جتنا احسان مند ہوں، شاید اسے الفاظ میں مکمل طور پر بیان کرنا میرے لیے ممکن نہیں۔ انہوں نے مجھے صرف خبر لکھنا نہیں سکھایا بلکہ یہ سمجھایا کہ قلم کی طاقت کے ساتھ قلم کی ذمہ داری بھی ہوتی ہے، اور صحافت میں اصول، دیانت اور معیار کو کبھی نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔
آج اگر میرے ہاتھ میں قلم ہے، میں خبر لکھتا ہوں، اپنے خیالات کا اظہار کرتا ہوں اور صحافت کو ایک ذمہ داری سمجھ کر نبھانے کی کوشش کرتا ہوں تو اس سفر میں میرے ان اساتذہ کی تربیت اور رہنمائی کا بہت بڑا حصہ ہے۔
زندگی کے مختلف مراحل میں مجھے مختلف اساتذہ ملے۔ کسی نے مجھے الفاظ لکھنا سکھایا، کسی نے علم کو سمجھنا سکھایا، کسی نے بہتر انسان بننا سکھایا اور کسی نے قلم کی ذمہ داری نبھانا سکھایا۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کی وجہ سے انسان اپنی ذات سے آگے بڑھ کر معاشرے کے لیے کچھ کرنے کے قابل بنتا ہے۔
آج یومِ اساتذہ کے موقع پر میں اپنے تمام اساتذہ کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں۔ بالخصوص قاضی غلام مرتضیٰ صاحب، جہانگیر خان صاحب، امیر افضل صاحب، راجہ یعقوب صاحب، عقیل انجم صاحب، افتخار حسین صاحب، قاسم اعوان صاحب، ریاض بٹ صاحب اور سعید احمد اعوان صاحب کا، جنہوں نے میری زندگی کے مختلف مراحل میں میری رہنمائی کی، میری تربیت کی اور مجھے بہتر انسان اور ذمہ دار قلم کار بنانے میں اپنا کردار ادا کیا۔
میں ان تمام اساتذہ کا بھی احسان مند ہوں جنہوں نے میری زندگی میں کسی نہ کسی مرحلے پر مجھے کچھ سکھایا۔ بعض اساتذہ ہمارے ساتھ چند سال رہتے ہیں، مگر ان کی تعلیم اور تربیت پوری زندگی ہمارے ساتھ رہتی ہے۔
استاد کا دیا ہوا سبق شاید کتاب کے ایک صفحے پر ختم ہو جائے، مگر اس کی تربیت انسان کی پوری زندگی میں ساتھ چلتی ہے۔ میرے تمام اساتذہ کو سلام، جنہوں نے ہمیں صرف پڑھایا نہیں بلکہ جینا سکھایا۔
مزید پڑھیں






