قلم خاموش ہو جائے تو،تحریر: مبراء عبدالقیوم
نقطہ نظر
کبھی کبھی انسان کے پاس کہنے کو بہت کچھ ہوتا ہے مگر الفاظ ساتھ نہیں دیتے ہیں۔ وہ سوچتا ہے، محسوس کرتا ہے، مگر کچھ بھی لکھ نہیں پاتا ہے۔ ہر خاموشی کے پیچھے کوئی نہ کوئی کہانی ضرور ہوتی ہے۔
ایک لکھنے والے کے لیے قلم صرف لکھنے کا ذریعہ نہیں ہوتا ہے۔ یہ قلم اس کے احساسات کا ساتھی بھی ہوتا ہے۔ جب دل میں کوئی بات رہ جائے اور زبان اسے بیان نہ کر سکے تو کاغذ سامنے آتا ہے اور قلم خود بولنے لگتا ہے۔
لیکن آج کے دور میں لکھنا شاید پہلے سے زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔ ہر طرف جلدی ہے۔ لوگ تحریر پڑھنے سے پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ اسے کس نے لکھا ہے، کتنے لائکس آئے ہیں اور کتنے لوگوں نے تعریف کی ہے۔ کبھی کبھی اچھی تحریر صرف اس لیے نظر انداز ہو جاتی ہے کہ اس کے پیچھے کوئی مشہور نام نہیں ہوتا ہے۔
یہ رویہ نئے لکھنے والوں کے لیے بہت حوصلہ شکن ہے۔
ایک شخص جب پہلی بار کچھ لکھتا ہے تو وہ صرف الفاظ نہیں لکھ رہا ہوتا، وہ اپنا اعتماد بھی ہمارے سامنے رکھ رہا ہوتا ہے۔ اس کی غلطیاں نکالنا آسان ہے مگر اس کے اندر کے لکھنے والے کو زندہ رکھنا اصل کام ہے۔
تنقید ضرور ہونی چاہیے مگر ایسی جو راستہ دکھائے۔ اگر کسی تحریر میں کمی ہے تو بتا دیں مگر اس انداز سے کہ لکھنے والا اگلی بار بہتر لکھنے کی کوشش کرے۔ ایک اچھا جملہ کبھی کبھی کئی صفحات سے زیادہ اثر رکھتا ہے۔ اور ایک سخت جملہ کسی کے قلم کو ہمیشہ کے لیے خاموش بھی کر سکتا ہے۔
باغی رائٹرز فورم جیسا ادبی پلیٹ فارم اسی لیے اہم ہے، کہ یہاں نئے اور پرانے لکھنے والے ایک دوسرے سے سیکھ سکتے ہیں۔ کوئی افسانہ لکھ رہا ہے، کوئی کالم، کوئی نظم اور کوئی اپنے دل کی بات لکھ رہا ہے۔ سب کا انداز الگ ہے مگر منزل ایک ہے: اپنے لفظوں کو بہتر بنانا۔
ہمیں صرف اچھا لکھنے والا نہیں بننا، بلکہ اچھا قاری بھی بننا ہے۔ کیونکہ جو دوسروں کو پڑھتا ہے، وہ اپنے اندر کے لکھنے والے کو بھی بہتر سمجھ پاتا ہے۔
میرا ماننا ہے کہ قلم کی اصل طاقت تعریف میں نہیں بلکہ اثر میں ہے۔ ضروری نہیں کہ ہماری ہر تحریر پر سینکڑوں لوگ تبصرہ کریں۔ کبھی ایک شخص بھی ہماری بات سمجھ لے تو تحریر اپنا مقصد حاصل کر لیتی ہے۔
اس لیے لکھتے رہیے۔
لائکس کے لیے نہیں، دکھاوے کے لیے نہیں، بلکہ اس احساس کے لیے جو شاید کسی ایک دل تک پہنچ جائے۔
کیونکہ قلم کی سب سے بڑی کامیابی یہ نہیں کہ کتنے لوگوں نے اسے پڑھا ہے۔ بلکہ اصل کامیابی یہ ہے کہ پڑھنے کے بعد کتنے دلوں میں کوئی سوچ جاگی ہے۔
مزید پڑھیں





