روس میں پارلیمانی انتخابات کا آغاز، پاکستانی مبصر وفد ماسکو پہنچ گیا

ماسکو: روس میں نویں ریاستی دُوما، یعنی پارلیمان کے ایوانِ زیریں، کے انتخابات کے لیے تین روزہ پولنگ کا باقاعدہ آغاز ہوگیا ہے۔ ملک بھر میں ووٹرز ریاستی دُوما کی 450 نشستوں کے لیے اپنے نمائندوں کا انتخاب کر رہے ہیں۔ روس کے انتہائی مشرقی علاقوں کامچاٹکا اور چکوتکا میں پولنگ اسٹیشن سب سے پہلے کھولے گئے، جس کے بعد ملک کے مختلف ٹائم زونز کے مطابق دیگر علاقوں میں بھی ووٹنگ کا عمل شروع ہوگیا۔ انتخابی عمل 18، 19 اور 20 ستمبر تک جاری رہے گا۔ روسی مرکزی الیکشن کمیشن کے مطابق ریاستی دُوما کی 450 نشستوں میں سے 225 ارکان کا انتخاب سیاسی جماعتوں کو ملنے والے ووٹوں کی بنیاد پر متناسب نمائندگی کے نظام کے تحت کیا جائے گا، جبکہ باقی 225 ارکان براہ راست انتخابی حلقوں سے منتخب ہوں گے۔ پارلیمانی انتخابات میں مجموعی طور پر 10 سیاسی جماعتیں حصہ لے رہی ہیں، جن میں یونائیٹڈ رشیا، کمیونسٹ پارٹی آف رشین فیڈریشن، لبرل ڈیموکریٹک پارٹی آف رشیا، نیو پیپل، اے جسٹ رشیا فار ٹروتھ، رشین پارٹی آف پنشنرز فار سوشل جسٹس، کمیونسٹس آف رشیا، رودینا، پارٹی آف ڈائریکٹ ڈیموکریسی اور رشین ایکولوجیکل پارٹی دی گرینز شامل ہیں۔ ریاستی دُوما کے انتخابات کے ساتھ روس کے 39 علاقوں میں علاقائی قانون ساز اداروں کے انتخابات بھی منعقد کیے جا رہے ہیں، جبکہ متعدد علاقوں میں گورنرز، علاقائی سربراہان اور بلدیاتی نمائندوں کا بھی انتخاب ہوگا۔ مختلف سطحوں پر مجموعی طور پر تقریباً 23 ہزار نشستوں اور عہدوں کے لیے ووٹنگ کی جا رہی ہے۔ روسی مرکزی الیکشن کمیشن کی جانب سے ملک بھر میں پولنگ کے انتظامات مکمل کیے گئے ہیں۔ ووٹرز کو روایتی طور پر پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹ ڈالنے کے ساتھ ساتھ بعض علاقوں میں ریموٹ الیکٹرانک ووٹنگ کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔ ماسکو میں روسی مرکزی الیکشن کمیشن کا انفارمیشن سینٹر بھی قائم کیا گیا ہے، جہاں بڑی اسکرینوں اور ویڈیو رابطوں کے ذریعے مختلف علاقوں میں جاری پولنگ، ووٹر ٹرن آؤٹ اور انتخابی عمل کی نگرانی کی جا رہی ہے۔ مختلف علاقوں سے موصول ہونے والی انتخابی معلومات بھی اس مرکز میں مسلسل جمع کی جا رہی ہیں۔ روسی مرکزی الیکشن کمیشن کی چیئرپرسن ایلا پامفیلووا نے کہا ہے کہ ملک کا انتخابی نظام پارلیمانی اور علاقائی انتخابات کے انعقاد کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ ان کے مطابق انتخابی عمل میں شریک ووٹرز، امیدواروں اور انتخابی عملے کی سلامتی کو ترجیح دی گئی ہے، جبکہ انتخابات میں شفافیت اور قانونی تقاضوں پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے بھی اقدامات کیے گئے ہیں۔ انتخابات کی نگرانی کے لیے چیف الیکشن کمشنر آف پاکستان سکندر سلطان راجہ کی قیادت میں چار رکنی پاکستانی وفد بھی ماسکو پہنچ چکا ہے۔ پاکستانی وفد بین الاقوامی مبصر کی حیثیت سے روسی پارلیمانی انتخابات کے دوران انتخابی عمل، پولنگ کے انتظامات اور ووٹوں کی گنتی کے طریقہ کار کا جائزہ لے گا۔ اس سے قبل روسی مرکزی الیکشن کمیشن کی چیئرپرسن ایلا پامفیلووا اور چیف الیکشن کمشنر آف پاکستان سکندر سلطان راجہ کے درمیان قازقستان کے دارالحکومت آستانہ میں ملاقات ہوئی تھی۔ ملاقات کے دوران پاکستانی وفد کی روسی پارلیمانی انتخابات میں بطور بین الاقوامی مبصر شرکت کے انتظامات پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔ روسی مرکزی الیکشن کمیشن کے مطابق انتخابات کی نگرانی کے لیے 133 ممالک سے ایک ہزار 126 بین الاقوامی مبصرین اور انتخابی ماہرین روس پہنچے ہیں۔ روسی حکام کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی مبصرین کی یہ تعداد 2024 میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے مقابلے میں بھی زیادہ ہے۔ روسی مرکزی الیکشن کمیشن کے جاری کردہ ضابطے کے مطابق بین الاقوامی مبصرین پولنگ اسٹیشنوں کا دورہ کر سکتے ہیں، ووٹنگ اور ووٹوں کی گنتی کے عمل کا جائزہ لے سکتے ہیں اور متعلقہ انتخابی کمیشنوں سے معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔ بین الاقوامی مبصرین کو ملک بھر میں ووٹنگ کا عمل مکمل ہونے تک انتخابات کے بارے میں عوامی سطح پر حتمی رائے یا جائزہ پیش کرنے سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ پولنگ مکمل ہونے کے بعد مبصرین انتخابی عمل سے متعلق اپنی رائے اور مشاہدات پیش کر سکیں گے۔ روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے انتخابات سے قبل قوم سے اپنے خطاب میں شہریوں سے ووٹنگ میں بھرپور شرکت کی اپیل کی ہے۔ صدر ولادیمیر پوتن نے کہا کہ ہر ووٹر کی آواز اہمیت رکھتی ہے اور عوام کے ذاتی انتخاب سے یہ طے ہوگا کہ کون سے امیدوار اور سیاسی قوتیں وفاقی پارلیمان، علاقائی اسمبلیوں اور مقامی اداروں میں شہریوں کے مفادات کی نمائندگی کریں گی۔ روسی صدر نے کہا کہ انتخابات میں شرکت ایک ذمہ دارانہ شہری قدم اور ملک کو مضبوط بنانے میں عوامی کردار کا اظہار ہے۔ انہوں نے ووٹرز سے اپنا آئینی حق استعمال کرتے ہوئے سوچ سمجھ کر اور ذمہ داری کے ساتھ فیصلہ کرنے کی اپیل کی۔ صدر ولادیمیر پوتن کے مطابق انتخابات کے نتائج روسی معاشرے کی پختگی اور استحکام کا اظہار کریں گے، جبکہ ووٹنگ میں شہریوں کی شرکت ملک کے مستقبل کے تعین میں اہم کردار ادا کرے گی۔ روس میں تین روزہ پولنگ 20 ستمبر کو مکمل ہوگی۔ ملک کے تمام ٹائم زونز میں پولنگ اسٹیشن بند ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی اور انتخابی نتائج مرتب کرنے کا عمل شروع ہوگا، جس کے بعد ریاستی دُوما اور علاقائی انتخابات کے ابتدائی نتائج سامنے آنا شروع ہو جائیں گے۔
مزید پڑھیں





