Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

جنرل اسمبلی اجلاس، قطری امیر کا غزہ میں نسل کشی اور خلیجی بحران پر اظہارِ تشویش


قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی نے کہا ہے کہ خلیجی بحران کسی کے لیے حیران کن نہیں ہونا چاہیے کیونکہ یہ عارضی حل، غیر حقیقت پسندانہ پالیسیوں، برسوں کے التوا اور بحران کو صرف منظم کرنے کا مجموعی نتیجہ ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے اعلیٰ سطحی عام مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے قطر کے امیر نے کہا کہ موجودہ خطرناک صورتحال کی بنیادی وجہ اجتماعی سلامتی کے ایسے علاقائی نظام کا فقدان ہے جو ریاستوں کی خودمختاری، سالمیت اور اتحاد کا احترام کرے اور اندرونی تنازعات کو پرامن طریقے سے حل کرنے کی حوصلہ افزائی کرے۔

شیخ تمیم بن حمد الثانی نے زور دیا کہ تمام تر پیش رفت کے باوجود وہ حقیقت پسندانہ بنیادوں پر یقین رکھتے ہیں کہ خلیجی بحران کو سفارتی طریقے سے حل کیا جاسکتا ہے۔ ان کے مطابق اس کے لیے آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کے لیے کھولنا اور مذاکرات کی طرف واپس آنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ممکنہ اور حقیقت پسندانہ پرامن سفارتی حل کے لیے اس موقع کو ضائع نہیں کرنا چاہیے۔

غزہ کی صورتحال پر قطر کے امیر نے کہا کہ غزہ میں جو کچھ ہوا وہ ہر لحاظ سے نسل کشی تھی، جو پوری انسانیت کے ضمیر پر ایک داغ ہے۔ انہوں نے کہا کہ آنے والی نسلیں اس تباہی اور اسے روکنے کے لیے عالمی ردعمل کی سطح کے درمیان موجود وسیع خلیج پر حیران ہوں گی۔ شیخ تمیم نے کہا کہ جب تک فلسطین عالمی نظام کے اندر ایک اندھا دھبہ بنا رہے گا، اس وقت تک کسی بین الاقوامی نظام کی بات کرنا ناممکن ہے۔

غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کی براہ راست ذمہ داری ہے کہ وہ معاہدے پر عمل درآمد کے لیے دباؤ ڈالے اور اس کے نفاذ کو کسی ایسے فریق کے فیصلے سے مشروط نہ کیا جائے جو مواقع ملنے پر اپنے وعدوں کی خلاف ورزی کا عادی ہے۔ قطر کے امیر نے مقبوضہ مغربی کنارے میں جاری ظلم و ستم، نسل پرستی اور آبادکاروں کی دہشت گردی کی بھی مذمت کی۔ انہوں نے اسلامی اور عیسائی مقدس مقامات، بالخصوص مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی اور فلسطینی عوام کے حقوق سے انکار کو بھی مسئلے کا اہم حصہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی عوام کا مشرقی یروشلم کو دارالحکومت بنا کر اپنی آزاد ریاست قائم کرنے کا حق ان کے بنیادی حقوق میں شامل ہے اور یہی مسئلے کا کھلا زخم ہے۔

شیخ تمیم بن حمد الثانی نے زور دیا کہ اسرائیل کے ساتھ معاملہ کرنا، اس کے نقصان کو روکنا اور اس کے غیر قانونی رویے پر قابو پانا ہی وہ اصل امتحان ہے جس کے ذریعے عالمی برادری اقدار اور قانون کی حکمرانی کے لیے اپنی سنجیدگی ثابت کرسکتی ہے۔ شام کے حوالے سے قطر کے امیر نے کہا کہ ان کا ملک بحالی اور تعمیر نو کے مرحلے میں شامی عوام کے ساتھ کھڑا ہے اور ریاستی اداروں، خودمختاری، آزادی اور قومی و علاقائی اتحاد کی حمایت کرتا ہے۔ سوڈان کے بارے میں شیخ تمیم نے جامع مذاکرات پر زور دیا تاکہ ایسا پائیدار امن قائم کیا جاسکے جو ملک کے اتحاد اور خودمختاری کو برقرار رکھے۔ لبنان کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ قطر ریاستی اداروں اور ملک کی تمام سرزمین پر اس کی خودمختاری کی حمایت کرتا ہے، اسرائیلی حملوں کی مذمت کرتا ہے اور جنگ بندی کے ساتھ ساتھ سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 پر عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قطر اقوام متحدہ کے زیر اہتمام قومی مذاکرات کے نتائج کی بنیاد پر یمن میں ایک جامع سیاسی تصفیے تک پہنچنے کے لیے اقوام متحدہ کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے، جس سے یمن کے اتحاد اور خودمختاری کا تحفظ ہو اور سلامتی و استحکام حاصل کیا جاسکے۔

رسائی کے اختیارات

Size: NORMAL