روزگار چھن جانے کا المیہ،تحریر:سید علی جبران نقوی
نقطہ نظر
مہنگائی کے اس پرآشوب دور میں جہاں دو وقت کی روٹی کا حصول غریب اور متوسط طبقے کے لیے ایک کٹھن امتحان بن چکا ہے، وہیں معاشرے میں بڑھتی ہوئی چوری اور اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں نے عام آدمی کا جینا محال کر دیا ہے۔ جب ایک محنت کش، جو دن بھر کی محنت مزدوری یا نوکری کے بعد ماہانہ تنخواہ پر اپنے بچوں کا پیٹ پالتا ہے، اس کی آمدورفت کا اکلوتا ذریعہ یعنی موٹر سائیکل بھی چوری ہو جائے، تو اس کی دنیا اجڑ جاتی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسی کمر توڑ مہنگائی میں وہ بے چارہ نیا موٹر سائیکل کیسے خریدے گا اور اپنے گھر کا خرچ کیسے چلائے گا؟
ایسا ہی دل دہلا دینے والا اور قانونی و اخلاقی سوال اٹھانے والا واقعہ حال ہی میں لاہور کے علاقے کینال ویو سوسائٹی ملتان روڈ لاہور میں پیش آیا۔ درج ہونے والی ایف آئی آر (مقدمہ نمبر 1002/26) کے مطابق، نجم علی ولد اعجاز حسین، جو کہ کینال ویو سوسائٹی ملتان روڈ لاہور میں بحیثیت ایک سیکیورٹی گارڈ ملازم ہیں ہیں، ان کی روزمرہ نقل و حرکت کی واحد سواری ان کا ہنڈا سی ڈی 70 (Honda CD70) موٹر سائیکل تھی جو انہوں نے مورخہ 12 ستمبر 2026 کو دن گیارہ بجے اپنی روزمرہ کی ڈیوٹی دینے والے گھر کے باہر سائیڈ لاک لگا کر کھڑا کیا تھا۔ اگلے روز یعنی 13 ستمبر 2026 کو دوپہر بارہ بجے جب انہوں نے دیکھا تو موٹر سائیکل اپنی جگہ پر موجود نہیں تھا، جسے کوئی نامعلوم چور باآسانی چرا کر لے گیا۔ اس لرزہ خیز واردات کے شواہد سی سی ٹی وی کیمروں میں بھی واضح طور پر ریکارڈ ہوئے ہیں جن میں ملزم کو دن دہاڑے سفاکانہ انداز میں موٹر سائیکل لے اڑتے دیکھا جا سکتا ہے۔
ایک ایسے معاشرے میں جہاں ٹرانسپورٹ کے سرکاری ذرائع ناکافی اور مہنگے ہوں، موٹر سائیکل صرف ایک سواری نہیں بلکہ غریب اور محنت کش طبقے کی روزی روٹی کا ستون ہوتی ہے۔ اسی موٹر سائیکل پر سوار ہو کر ایک باپ اپنے بچوں کے لیے رزق حلال تلاش کرنے نکلتا ہے۔ جب یہ سہولت بھی چھن جائے تو انسان نہ صرف معاشی بلکہ شدید ذہنی اذیت کا شکار ہو جاتا ہے۔ بیوی اور بچوں کے منہ کا نوالہ چھن جانے کا ڈر اور معاشرے کے بے رحم رویے اس غریب کو اندر سے توڑ کر رکھ دیتے ہیں۔
یہ وقت صرف ایف آئی آر درج کرنے تک محدود رہنے کا نہیں ہے، بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں بالخصوص ایس ایچ او تھانہ مصطفیٰ ٹاؤن اور انوسٹی گیشن ونگ کی ذمہ داری ہے کہ وہ سی سی ٹی وی فوٹیجز اور جدید سائنسی خطوط پر تفتیش کرتے ہوئے اس سفاک چور کو فوری گرفتار کریں۔ مسروقہ موٹر سائیکل برآمد کر کے متاثرہ محنت کش کے حوالے کی جائے تاکہ اس کے گھر کا چولہا چلتا رہے اور قانون کی بالادستی کا یقین بحال ہو۔
ریاست اور قانون کے محافظوں کو اس بات کا ادراک کرنا ہوگا کہ غریب کی ایک ایک پائی کی حفاظت ہی اصل امن عامہ ہے۔ اگر ایسے عناصر کھلے عام دندناتے پھریں گے تو عام آدمی کا قانون پر سے اعتماد اٹھ جائے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پولیس فوری اور بروقت کارروائی کرتے ہوئے اس اندھیری سرنگ میں امید کا چراغ روشن کرے اور چور کو کیفر کردار تک پہنچائے۔
مزید پڑھیں





