خود احتسابی سے سچی تبدیلی تک،تحریر: مہوش بنت بشارت
نقطہ نظر
ہم اکثر چائے خانوں، بیٹھکوں اور مختلف محفلوں میں بیٹھ کر معاشرے کی گرتی ہوئی اخلاقیات پر لمبی لمبی بحثیں کرتے ہیں۔ ہمارا ہر دوسرا جملہ نظام کی خرابی، لوگوں کے بدلتے ہوئے رویوں، اور اخلاقی پستی کے گلے شکووں سے بھرا ہوتا ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ ہر خرابی کی وجہ کوئی دوسرا شخص ہے، اور اگر وہ خود کو سدھار لے تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔ لیکن معاشرے کی اصلاح کا سب سے پہلا، سنہرا اور بنیادی اصول یہ ہے کہ اصلاح کی شروعات ہمیشہ انسان کی اپنی ذات سے ہوتی ہے۔ جب تک ہم دوسروں کو بدلنے کی خواہش چھوڑ کر خود کو بدلنے کا عزم نہیں کرتے، تب تک کوئی بھی بڑی تبدیلی محض ایک خواب ہی رہے گی۔معاشرہ کوئی الگ سے مٹی کا ڈھیر یا پتھروں کی دیوار نہیں ہے، بلکہ یہ مجھ سے، آپ سے اور ہم سب سے مل کر بننے والا ایک زندہ وجود ہے۔ جب ایک فرد بگڑتا ہے تو معاشرے کا ایک حصہ بیمار ہو جاتا ہے، اور جب ایک فرد اپنی اصلاح کر لیتا ہے تو معاشرے کا ایک حصہ صحت مند ہو جاتا ہے۔ آج ہمارا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہمارے پاس دوسروں کی غلطیاں پکڑنے کے لیے تو دوربین موجود ہے، لیکن اپنی خامیوں کو دیکھنے کے لیے آئینہ موجود نہیں ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ سڑک پر چلنے والا ہر شخص قانون کی پابندی کرے، لیکن جہاں ہمیں موقع ملتا ہے، ہم خود قانون توڑنے میں عار محسوس نہیں کرتے۔ ہم چاہتے ہیں کہ دکاندار ہمیں خالص چیز دے، لیکن خود اپنے فرائض کی ادائیگی میں ڈنڈی مار جاتے ہیں۔سچی تبدیلی کا سفر خود احتسابی سے شروع ہوتا ہے۔ خود احتسابی کا مطلب یہ ہے کہ رات کو سونے سے پہلے انسان چند منٹ کے لیے تنہائی میں بیٹھے اور سوچے کہ آج کے پورے دن میں اس کے ہاتھ یا زبان سے کسی کو تکلیف تو نہیں پہنچی؟ کیا اس نے اپنے فائدے کے لیے کسی کا حق تو نہیں مارا؟ جب ہم دوسروں میں خامیاں ڈھونڈنے کے بجائے اپنے گریبان میں جھانکنا شروع کرتے ہیں، تو ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ بہت سی تبدیلیاں تو ہمیں خود اپنے اندر لانی ہیں۔ اگر ہم معاشرے میں سچائی اور دیانت داری دیکھنا چاہتے ہیں، تو ہمیں سب سے پہلے خود جھوٹ اور منافقت کو خیرباد کہنا ہوگا۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ لوگ ایک دوسرے کی عزت کریں، تو پہلے ہمیں دوسروں کو، خواہ وہ ہم سے رتبے میں کتنے ہی چھوٹے کیوں نہ ہوں، احترام دینا ہوگا۔کسی دانا کا قول ہے:
"میں دنیا بدلنے نکلا تھا مگر ناکام رہا، پھر میں نے خود کو بدلا تو دنیا خود ہی بدل گئی۔"
یہ ایک جملہ اپنے اندر اصلاحِ معاشرہ کا پورا فلسفہ سمیٹے ہوئے ہے۔ جب آپ خود کو ایک بہتر انسان بنا لیتے ہیں، تو آپ اپنے اردگرد موجود کم از کم ایک شخص کی اصلاح کر چکے ہوتے ہیں اور وہ شخص آپ خود ہوتے ہیں۔ آپ کا یہی مثبت رویہ ایک لہر کی طرح دوسرے لوگوں تک منتقل ہوتا ہے۔ اچھے اخلاق اور مثبت رویے خاموشی سے پھیلتے ہیں اور دلوں کو فتح کرتے ہیں۔آئیے آج سے دوسروں پر تنقید کرنے، نظام کو کوسنے اور مایوسی پھیلانے کے بجائے خود کو ایک مثال بنانے کی کوشش کریں۔ یاد رکھیے، موم بتی اندھیرے کو گالی دینے سے نہیں، بلکہ خود جلنے سے روشنی کرتی ہے۔ جب ہم میں سے ہر شخص اپنے حصے کا چراغ جلائے گا، تو معاشرے کا اندھیرا خود بخود ختم ہو جائے گا اور ایک پرامن، مہذب اور اخلاقی معاشرے کی بنیاد پڑے گی۔





