Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

ہماری جلد اور اس کی حفاظت ،تحریر: ڈاکٹر نازیہ ندیم

نقطہ نظر
dr nazia nadeem

انسانی شخصیت کا پہلا اور سب سے نمایاں تعارف انسان کا چہرہ اور اس کی جلد ہوتی ہے۔ خوبصورتی کا تعلق کسی مخصوص رنگ، بناوٹ یا خدوخال سے ہرگز نہیں بلکہ اس کا حقیقی تعلق ایک صحت مند، صاف اور چمکدار جلد سے ہے۔ ہمارے معاشرے میں خواتین کی اکثریت گھریلو ذمہ داریوں، ملازمت کی مصروفیات، بچوں کی دیکھ بھال اور خاندان کی ضروریات کو پورا کرنے کے چکر میں خود کو بالکل نظر انداز کر دیتی ہیں۔ صبح سے شام تک کی یہ لامتناہی دوڑ دھوپ نہ صرف ان کی جسمانی توانائی نچوڑ لیتی ہے بلکہ اس کا براہِ راست اور گہرا اثر ان کے چہرے کی تازگی اور رونق پر بھی پڑتا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ چہرے پر ابھرنے والی باریک لکیریں، آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے، بے رونقی اور مرجھایا ہوا رنگ دراصل اسی مسلسل بے توجہی کا خاموش نوحہ ہوتے ہیں۔ اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ جب جلد بالکل بے جان ہو جاتی ہے یا کوئی بڑا مسئلہ سر اٹھا لیتا ہے، تب خواتین کی توجہ اس طرف جاتی ہے، اور پھر وہ فوری نتائج کی امید میں بازاری کیمیکلز، تیز بلیچنگ کریموں اور نقصان دہ بیوٹی فارمولوں کا سہارا لینے لگتی ہیں۔ یہ عارضی چمک تو شاید دے دیں، لیکن طویل مدت میں جلد کی اندرونی ساخت کو بری طرح تباہ کر دیتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم جلد کی دیکھ بھال کو کسی خاص تقریب تک محدود رکھنے کے بجائے اسے اپنی روزمرہ کی سادہ عادات اور گھریلو تدابیر کا حصہ بنائیں۔

حقیقت یہ ہے کہ قدرت نے ہمارے کچن اور باورچی خانے کے ڈبوں میں وہ تمام تر خزانے چھپا رکھے ہیں جن کی ہماری جلد کو روزانہ ضرورت ہوتی ہے۔ صدیوں پرانے یہ نسخے اور روایتی گھریلو علاج نہ صرف سستے اور ہر ایک کی پہنچ میں ہیں بلکہ سائیڈ ایفیکٹس سے بھی مکمل طور پر پاک ہیں۔ مثال کے طور پر کچا دودھ ایک ایسا قدرتی کلینزر ہے جس کا ثانی بازار کے مہنگے ترین لوشنز میں بھی نہیں ملتا۔ اگر روزانہ رات کو روئی کے چھوٹے سے ٹکڑے کی مدد سے چہرے پر کچا دودھ لگایا جائے تو یہ دن بھر کی گرد و غبار، آلودگی اور بند مساموں کو نرمی سے صاف کر کے جلد کو گہرائی سے سانس لینے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اسی طرح بیسن اور دہی کا صدیوں پرانا امتزاج کسی بھی مہنگے فیس واش سے بدرجہا بہتر ہے۔ بیسن چہرے کے اضافی تیل کو جذب کرتا ہے جبکہ دہی میں موجود قدرتی لیکٹک ایسڈ جلد کے مردہ خلیات کو ختم کر کے اس کی کھوئی ہوئی نمی اور نرمی بحال کرتا ہے۔ اگر اس آمیزے میں ایک چٹکی خالص ہلدی شامل کر لی جائے تو اس کی جراثیم کش اور اینٹی آکسیڈنٹ خصوصیات چہرے پر نکلنے والے کیل مہاسوں اور دانوں کے خلاف ایک قدرتی ڈھال بن جاتی ہیں۔

جلد کی دیکھ بھال میں عرقِ گلاب کی اہمیت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ایک ایسا شاندار اور سستا ٹونر ہے جو جلد کی قدرتی پی ایچ سطح کو متوازن رکھتا ہے اور کھلے مساموں کو سکیڑنے میں بے حد مددگار ثابت ہوتا ہے۔ دن میں دو سے تین بار چہرے پر عرقِ گلاب کا سادہ سپرے کرنے سے جلد میں ایک دم سے نئی زندگی اور تازگی کا احساس پیدا ہو جاتا ہے۔ خشک اور کچی جلد والی خواتین کے لیے ایلوویرا اور شہد ایک قدرتی آبِ حیات کی حیثیت رکھتے ہیں۔ تازہ ایلوویرا جیل پودے سے لے کر چہرے پر پندرہ منٹ تک مساج کرنا جلد کی جلن، دھوپ کے اثرات اور سرخی کو مٹانے کا بہترین ذریعہ ہے۔ شہد نہ صرف قدرتی طور پر جلد میں نمی کو مقفل کرتا ہے بلکہ چہرے کو ایک نرم اور ریشمی چمک بھی عطا کرتا ہے۔ خواتین اکثر یہ بھول جاتی ہیں کہ جلد کی اوپری سطح کو چمکانے سے پہلے اس کی بنیادی حفاظت اور روزمرہ کی احتیاط سب سے اہم سنگِ میل ہے۔

گھریلو علاج اپنی جگہ بے حد فائدہ مند ہیں، مگر جب تک احتیاطی تدابیر اور عادات کو نہ بدلا جائے، نتائج دیرپا نہیں ہو سکتے۔ سورج کی الٹرا وائلٹ شعاعیں جلد کی سب سے بڑی خاموش دشمن سمجھی جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں عام طور پر یہ سوچا جاتا ہے کہ دھوپ کی حدت صرف گرمیوں میں نقصان پہنچاتی ہے یا سن اسکرین صرف تب لگانی چاہیے جب دھوپ تیز ہو، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ چاہے موسم سردی کا ہو یا آسمان پر بادل چھائے ہوں، سورج کی مضر لہریں جلد کے اندرونی کولاجن کو توڑتی ہیں جس کے نتیجے میں وقت سے پہلے جھریاں اور چھائیاں جنم لیتی ہیں۔ لہٰذا صبح کے وقت جب بھی باہر نکلیں، یا اگر کچن میں چولہے کی تیز آنچ کے سامنے طویل وقت گزارنا ہو، سن بلاک کا استعمال لازمی معمول بنانا چاہیے۔ اس کے علاوہ صابن اور تیز فیس واش سے چہرے کو بار بار دھونے سے پرہیز کرنا چاہیے، کیونکہ یہ جلد کی قدرتی چکنائی کو ختم کر کے اسے وقت سے پہلے بوڑھا کر دیتے ہیں۔ دن میں دو بار نیم گرم یا تازہ پانی سے چہرہ دھونا کافی ہوتا ہے۔

جلد کی اصل رونق اور چمک کا راز باہر کی کریموں سے زیادہ انسان کے اپنے اندر چھپا ہوتا ہے۔ اندرونی صحت کے بغیر کسی بیرونی چمک کا خواب دیکھنا محض خام خیالی ہے۔ انسانی جسم کا ستّر فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہے، اور جب جسم میں پانی کی کمی واقع ہوتی ہے تو جلد سب سے پہلے سوکھنے، کھردری ہونے اور بے رونق ہونے لگتی ہے۔ دن بھر میں کم از کم آٹھ سے دس گلاس پانی کا باقاعدہ استعمال زہریلے مادوں کو خارج کرتا ہے اور جلد کے ہر خلیے کو ہائیڈریٹ رکھتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ متوازن غذا، تازہ سبزیاں، پھل اور سلاد جلد کو وہ ضروری وٹامنز فراہم کرتے ہیں جو مہنگی دوائیں بھی نہیں دے سکتیں۔ وٹامن سی اور ای سے بھرپور غذائیں، جیسے مالٹا، لیموں، بادام اور اخروٹ، چہرے کے قدرتی نکھار کو نکھارنے میں جادوئی کردار ادا کرتی ہیں۔ تیز مصالحہ دار، تلی ہوئی بازاری اشیاء اور حد سے زیادہ میٹھے کھانوں سے بچنا دانوں اور چکنائی کے مسائل کو نصف کر دیتا ہے۔

ایک اور بنیادی عنصر جس کی طرف ہماری خواتین کی توجہ اکثر سب سے آخر میں جاتی ہے، وہ نیند اور ذہنی دباؤ کا انتظام ہے۔ مسلسل ذہنی تناؤ اور بے چینی جسم میں کورٹیسول نامی ہارمون کی مقدار بڑھا دیتے ہیں، جو جلد پر دانوں، سوزش اور تیزی سے بڑھتی جھریوں کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔ رات کو سات سے آٹھ گھنٹے کی گہری اور پرسکون نیند کو کبھی بھی عیاشی نہ سمجھیں بلکہ یہ جلد کا قدرتی ریپیئر سیشن ہوتا ہے، جس کے دوران جلد اپنے تباہ شدہ خلیات کی مرمت کرتی ہے اور نئے خلیے جنم لیتے ہیں۔ سونے سے پہلے میک اپ کو ہر صورت اتارنا اور چہرے کو دھو کر کوئی سادہ قدرتی موئسچرائزر لگانا وہ معمولی سا قدم ہے جو عمر کے اثرات کو طویل عرصے تک روکے رکھتا ہے۔

عورت کے لیے اپنا خیال رکھنا کوئی خود غرضی یا نمود و نمائش کا نام نہیں بلکہ یہ اپنی ذات سے سچی محبت اور شکر گزاری کا عمل ہے۔ اگر آپ اندر اور باہر سے صحت مند، پراعتماد اور تروتازہ ہوں گی تو اپنے اردگرد کے پیاروں اور ذمہ داریوں کو بھی زیادہ بہتر طریقے سے سنبھال سکیں گی۔ کیمیکلز سے بھری فوری گورا کرنے والی خطرناک بیوٹی کریموں کے جھانسے سے خود کو نکال کر سادہ گھریلو نسخوں، قدرتی اجزاء، صاف ستھری خوراک اور پرسکون طرزِ زندگی کو اپنا شعار بنائیں۔ جلد کا ہر روز تھوڑا سا احترام اور توجہ دراصل آپ کے اپنے وجود کی شادابی کا ضمانت نامہ ہے، اور یہی وہ حقیقی خوبصورتی ہے جو وقت کی گرد پڑنے کے باوجود کبھی ماند نہیں پڑتی۔

رسائی کے اختیارات

Size: NORMAL