صحت نامہ کے بارے میں ایک ضروری وضاحت ،تحریر: ڈاکٹر نازیہ ندیم
نقطہ نظر
ہمارے معاشرے میں جب بھی خواتین کے حوالے سے کسی موضوع، بالخصوص صحت اور طرزِ زندگی پر بات کی جاتی ہے تو عام طور پر یہ گمان کر لیا جاتا ہے کہ یہ تحریر محض صنفِ نازک کے مطالعے کے لیے ہے۔ یہ ایک ایسی فکری غلط فہمی ہے جس کی تصحیح ناگزیر ہے۔ عورت دراصل کسی بھی گھرانے کا وہ ناگزیر اور مضبوط ستون ہے جس پر پورے خاندانی نظام کی عمارت قائم ہوتی ہے۔ وہ ماں کے روپ میں ایثار اور دعا کا سرچشمہ ہے، بہن کے روپ میں مخلصانہ تعلق اور غم خواری کی علامت ہے، بیٹی کی صورت میں گھر کی رونق اور رحمت ہے، اور شریکِ حیات کے روپ میں زندگی کے ہر نشیب و فراز کی حقیقی رفیق ہے۔ ایسے میں اس اہم ترین فرد کی جسمانی، ذہنی اور جذباتی صحت کو نظر انداز کرنا درحقیقت پورے گھر کی بنیادوں کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔
خواتین کی صحت کی اہمیت کا اندازہ اس حقیقت سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ ایک بیمار یا نڈھال عورت کبھی بھی ہنستے بستے گھر کی نگہداشت کا بار احسن طریقے سے نہیں اٹھا سکتی۔ ہمارے ہاں گھریلو ذمہ داریوں اور قربانی کے جذبے تلے دبی عورتیں اکثر اپنی علامات، تکالیف اور کمزوریوں کو اس وقت تک چھپائے رکھتی ہیں جب تک کہ بیماری شدید صورت اختیار نہ کر لے۔ وہ سب کے کھانے، آرام اور صحت کا دھیان رکھتے رکھتے خود کو فراموش کر بیٹھتی ہیں۔ اس نقطۂ نظر کو بدلنے کے لیے ضروری ہے کہ گھر کے تمام افراد، بالخصوص مرد حضرات، اس بات کو دل سے تسلیم کریں کہ عورت کی صحت پر توجہ دینا کوئی احسان نہیں بلکہ خاندان کی بقا اور ترقی کا لازمی تقاضا ہے۔
یہ صحت نامہ اسی مقصد کے تحت پیش کیا جا رہا ہے تاکہ شعور کی وہ شمع روشن کی جا سکے جو محض سطحی علاج تک محدود نہ ہو بلکہ ایک باقاعدہ فکری بیداری کا باعث بنے۔ اس سلسلے کی تحریروں کا مخاطب صرف خواتین نہیں بلکہ وہ تمام باشعور افراد ہیں جو کسی ماں کی گود، کسی بہن کے سائے، کسی بیٹی کی مسکراہٹ اور کسی شریکِ حیات کے تعاون کے مقروض ہیں۔ جب تک ہم اپنے گھروں میں ان کی متوازن غذا، مناسب آرام، بروقت علاج اور ذہنی آسودگی کا خصوصی خیال نہیں رکھیں گے، تب تک ایک متوازن، صحت مند اور خوشحال معاشرے کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ عورت تندرست رہے گی تو خاندان توانا رہے گا، اور اگر خاندان توانا ہوگا تو پوری قوم صحت مند اور پُرامید مستقبل کی جانب گامزن ہو سکے گی۔ لہٰذا اس صحت نامہ کو ایک مشترکہ خاندانی فریضے کے طور پر پڑھیں اور اپنے گھر کی ہر رشتے دار خاتون کی عافیت کو اپنی اولین ترجیح بنائیں۔
صحت نامہ سب کی صحت کی ضامن ہے بیماری کا کوئی تعلق صنف یا رتبے سے نہیں ہوتا، یہ کسی تخصیص کے بغیر ہر جاندار پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ انسانی جسمانی نظام میں اگرچہ کچھ فطری اور ساخت کے فرق موجود ہیں، مگر بنیادی طور پر وائرس، بیکٹیریا، ذہنی دباؤ اور دائمی امراض مرد اور عورت میں کوئی تفریق نہیں کرتے۔ شوگر، بلڈ پریشر، دل کے عوارض، گردوں کی تکالیف اور موروثی یا وبائی مسائل جتنی شدت سے ایک عورت کو اپنی لپیٹ میں لیتے ہیں، اتنی ہی بے رحمی سے مردوں کو بھی نڈھال کرتے ہیں۔ مرض کے اثرات اور اس سے جڑی تکالیف دونوں اصناف کے لیے یکساں اذیت ناک ہوتی ہیں۔
اسی لیے جب ہم صحت اور بیماریوں پر گفتگو کرتے ہیں تو مردوں کے طبی مسائل کو کسی طور نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ایک گھر کا نظام اور اس کی بقا تبھی ممکن ہے جب گھر کے دونوں پہیے تندرست اور فعال ہوں۔ اگر مرد روزگار اور بیرونی مصروفیات کی کڑوی دھوپ سمیٹتے ہوئے اپنی علامات کو محض غفلت یا برداشت کے نام پر دباتا رہے گا، تو اس کی بیماری بھی پورے خاندان کو معاشی و ذہنی طور پر ہلا کر رکھ دے گی۔ یہ صحت نامہ اس حقیقت کا ترجمان ہے کہ تندرستی ہر فرد کا حق اور ضرورت ہے۔ صحت کا تحفظ مشترکہ ذمہ داری ہے، جس میں مرد اور عورت دونوں کا یکساں خیال رکھنا ہی دراصل ایک مضبوط، متوازن اور صحت مند گھرانے کی بنیاد ہے۔





