Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

شاید میں پہلے بھی مر چکا ہوں،تحریر:سید ضیغم حسن عابدی

zaigham abidi syed

رات کے تقریباً تین بجے تھے جب مجھے پہلی بار یہ خیال آیا کہ شاید میں اپنی زندگی پہلی بار نہیں جی رہا۔ عجیب بات یہ تھی کہ اس خیال کے ساتھ مجھے خوف محسوس نہیں ہوا، بلکہ ایک عجیب سی پہچان محسوس ہوئی۔ جیسے کوئی بہت پرانی چیز اچانک یاد آ گئی ہو، مگر یاد یہ نہ آ رہا ہو کہ وہ کیا تھی۔ میں نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔ شہر سو رہا تھا، مگر میرے ذہن میں ایک سوال جاگ چکا تھا: اگر انسان واقعی سات جنم لیتا ہے تو کیا ہر جنم میں اسے پچھلی زندگی بھول جاتی ہے؟ اور اگر بھول جاتی ہے تو پھر کچھ لوگ اجنبی جگہوں، اجنبی لوگوں اور اجنبی زمانوں کو دیکھ کر یہ کیوں محسوس کرتے ہیں کہ وہ یہاں پہلے بھی آ چکے ہیں؟


سائنس نے ابھی تک سات جنموں کی تصدیق نہیں کی، لیکن سائنس نے ایک ایسی دنیا کا دروازہ ضرور کھول دیا ہے جہاں ہماری عام سمجھ کے قوانین ناکافی محسوس ہونے لگتے ہیں۔ کوانٹم فزکس، وقت کی نسبت، متوازی کائناتیں اور کثیر جہانی نظریات ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ حقیقت شاید صرف وہ نہیں جو ہماری آنکھ دیکھ رہی ہے۔ ممکن ہے کائنات ایک ہی کہانی نہ ہو، بلکہ بے شمار کہانیاں ایک ساتھ لکھی جا رہی ہوں۔ ممکن ہے کہیں ایک اور دنیا ہو جہاں آپ بالکل مختلف زندگی گزار رہے ہوں۔ وہی چہرہ، مگر مختلف فیصلے۔ وہی آنکھیں، مگر مختلف خواب۔ وہی نام، مگر مختلف انجام۔


کبھی کبھی میں سوچتا ہوں، اگر ایسی کوئی دنیا واقعی موجود ہے تو وہاں میرا دوسرا وجود اس وقت کیا کر رہا ہوگا؟ شاید وہ کسی ایسے شہر میں رہتا ہو جہاں میں کبھی نہیں گیا۔ شاید اس نے وہ محبت قبول کر لی ہو جسے میں نے یہاں ٹھکرا دیا۔ شاید اس نے وہ نوکری چھوڑ دی ہو جسے میں نے مجبوری میں پکڑ لیا۔ شاید وہ آج وہاں بیٹھا یہ سوچ رہا ہو کہ کاش وہ میری زندگی جی سکتا۔


اور شاید یہی سب سے خوفناک سوال ہے اگر ہماری زندگی کے ہر ممکن فیصلے کہیں نہ کہیں کسی اور کائنات میں وقوع پذیر ہو رہے ہیں، تو پھر اصل ہم کون ہیں؟ ایک نظریہ کہتا ہے کہ ہر فیصلہ حقیقت کی نئی شاخ پیدا کر سکتا ہے۔ آپ نے ایک راستہ چنا، دوسری سمت ایک اور امکان پیدا ہو گیا۔ آپ نے کسی کو فون کیا، شاید ایک کائنات میں اس نے جواب دے دیا اور دوسری میں نہیں دیا۔ آپ نے کسی شہر کو چھوڑ دیا، شاید ایک دنیا میں آپ کامیاب ہو گئے اور دوسری میں اسی شہر میں رہ کر برباد ہو گئے۔ یعنی ممکن ہے ہماری ہر ’’اگر‘‘ کسی دوسری دنیا میں ’’حقیقت‘‘ بن چکی ہو۔


مگر اس رات میرے ذہن میں ایک اور خیال آیا، جو ان سب سے زیادہ عجیب تھا۔کیا معلوم جس شخص کو ہم اپنا ماضی سمجھتے ہیں، وہ دراصل کسی دوسری دنیا میں موجود ہمارا مستقبل ہو شاید اسی لیے کبھی کوئی جگہ پہلی نظر میں جانی پہچانی لگتی ہے۔ کبھی کسی اجنبی انسان کی آواز سن کر دل چند لمحوں کے لیے رک جاتا ہے۔ کبھی خواب میں ہم ایسی گلیوں میں چل رہے ہوتے ہیں جہاں حقیقت میں کبھی گئے ہی نہیں۔ سائنس اسے دماغ کی یادداشت، خواب، ادراک یا محض اتفاق کہہ سکتی ہے۔ لیکن فکشن کا سوال ہمیشہ ایک قدم آگے جاتا ہے: اگر دماغ یاد نہیں کر رہا، بلکہ کائنات ہمیں کچھ یاد دلانے کی کوشش کر رہی ہو تو؟


تصور کیجیے، مرنے کے بعد کوئی دروازہ کھلتا ہے۔ سامنے کوئی فرشتہ نہیں، کوئی حساب کی کتاب نہیں، بلکہ ایک ایسی مشین ہے جو آپ کو آپ کی تمام ممکنہ زندگیاں دکھاتی ہے۔ ایک اسکرین پر آپ وہ انسان ہیں جو آپ بن سکتے تھے۔ دوسری پر وہ شخص جس سے آپ محبت کر سکتے تھے۔ تیسری پر وہ زندگی ہے جسے آپ نے ایک چھوٹے سے فیصلے کی وجہ سے کھو دیا۔ اور آخری اسکرین پر ایک چہرہ نظر آتا ہے۔ وہ چہرہ آپ کا اپنا ہے۔ وہ آپ کو دیکھ کر مسکراتا ہے اور کہتا ہے، تم آخرکار یہاں پہنچ ہی گئے۔


آپ پوچھتے ہیں، تم کون ہو؟ وہ جواب دیتا ہے، میں تم ہوں۔ لیکن وہ والا تم، جس نے پہلی زندگی میں یہ سوال پوچھا تھا۔ شاید سات جنم اسی لیے سات نہیں ہوتے کہ انسان سات بار پیدا ہوتا ہے۔ شاید سات جنم دراصل سات امکانات ہیں۔ سات زندگیاں جو ایک ہی روح، ایک ہی شعور، یا ایک ہی سوال کے گرد گھومتی ہیں۔ اور شاید ہر بار ہمیں نئی دنیا نہیں ملتی، صرف ایک نیا موقع ملتا ہے کہ ہم وہ غلطی نہ دہرائیں جو پچھلی دنیا میں کر چکے ہیں۔


پھر ایک سوال باقی رہ جاتا ہے، اور شاید یہی اس پوری کہانی کا سب سے پراسرار حصہ ہے۔


اگر آپ واقعی پہلے بھی جی چکے ہیں، تو آپ کی پچھلی زندگی کہاں ختم ہوئی تھی؟


اور اگر یہ دنیا آپ کی پہلی دنیا نہیں تو آپ کو یقین کیسے ہے کہ یہ آپ کی آخری دنیا ہے؟

رسائی کے اختیارات

Size: NORMAL