ڈگڈگی، تماشا اور عوام،تحریر:یاسمین اختر طوبیٰ
نقطہ نظر
"بھوک مداری کو لگتی ہے، ناچنا بندر کو پڑتا ہے۔" یہ محض ایک عام سا محاورہ نہیں، ہمارے اجتماعی حالات کی ایسی تصویر ہے جس میں پورے معاشرے کا دکھ سمٹ آتا ہے۔ مداری ڈگڈگی بجاتا ہے، تماشا سجتا ہے، مجمع واہ واہ کرتا ہے مگر رسی پر جھولنے، قلابازیاں کھانے اور تماشائیوں کو محظوظ کرنے کی ساری مشقت بندر کے حصے میں آتی ہے۔ آج وطن کا منظر بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ فیصلے کہیں اور ہوتے ہیں مگر ان فیصلوں کا بوجھ گلی، محلے، بازار اور چولہے تک پہنچتے پہنچتے عام آدمی کے کندھوں پر آن گرتا ہے۔
ہمیں بتایا جاتا ہے کہ ملک مشکل دور سے گزر رہا ہے، اس لیے قربانی دینا ہوگی۔ کبھی بجلی مہنگی ہوتی ہے، کبھی گیس، کبھی پٹرول، کبھی آٹا اور دال کے نرخ آسمان سے باتیں کرنے لگتے ہیں۔ پھر ایک سنجیدہ چہرے کے ساتھ قوم سے کہا جاتا ہے کہ یہ "مشکل فیصلے" ہیں اور ملک کو بچانے کے لیے ضروری ہیں مگر سوال یہ ہے کہ مشکل فیصلوں کی مشکل ہمیشہ غریب کے گھر کا دروازہ ہی کیوں کھٹکھٹاتی ہے؟ کیوں ہر اصلاح کا پہلا امتحان اس ماں کے چولہے پر ہوتا ہے جو پہلے ہی گنتی کر کے آٹا خریدتی ہے؟ کیوں ہر معاشی تجربے کا آخری نتیجہ اس مزدور کی جیب میں دکھائی دیتا ہے جس کی آمدنی مہینے کے آخری ہفتے سے پہلے ہی ختم ہوجاتی ہے؟
غریب آدمی کی زندگی بھی عجیب حساب کتاب ہے۔ وہ بجٹ نہیں بناتا، سانسوں کو قسطوں میں تقسیم کرتا ہے۔ تنخواہ آتی ہے تو مکان کا کرایہ ایک طرف، بچوں کی فیس دوسری طرف، راشن تیسری طرف اور بجلی کا بل چوتھی طرف کھڑا مسکرا رہا ہوتا ہے۔ جیب میں موجود چند نوٹ ایسے لگتے ہیں جیسے پیاسے صحرا میں پانی کے چند قطرے۔ آدمی ایک ضرورت پوری کرتا ہے تو دوسری ضرورت ناراض ہوکر سامنے آ کھڑی ہوتی ہے۔ آخر میں وہ اپنے بچوں کی خواہشوں کو دلاسہ دے کر خود بھوکا سو جاتا ہے۔
مسئلہ صرف مہنگائی کا نہیں، احساسِ شراکت کا بھی ہے۔ ریاست جب قوم سے قربانی مانگتی ہے تو قربانی کا مطلب صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کم آمدنی والا مزید کم کھائے، اپنے بچوں کی تعلیم مؤخر کرے، علاج ٹال دے اور ضروریاتِ زندگی کو خواہشات کا نام دے کر دل کو بہلاتا رہے۔ قربانی کا اصل مفہوم تب پیدا ہوتا ہے جب بوجھ معاشرے کے کمزور طبقے سے لے کر طاقتور طبقے تک منصفانہ انداز میں تقسیم ہو۔ ورنہ یہ قربانی نہیں، یک طرفہ قیمت وصولی بن جاتی ہے۔
ایک ملک صرف اعداد و شمار، قرضوں، محصولات اور بجٹ کی کتابوں سے نہیں بنتا، ملک انسانوں سے بنتا ہے۔ وہ کسان جو خون پسینہ ایک کرتا ہے، وہ مزدور جو اینٹ پر اینٹ رکھتا ہے، وہ استاد جو محدود وسائل میں نسلوں کو پڑھاتا ہے، وہ دکاندار جو دن بھر بیٹھ کر شام کو معمولی سا منافع گھر لے جاتا ہے اور وہ عورت جو ایک محدود آمدنی میں پورے گھر کا نظام چلاتی ہے، یہ سب اس وطن کی اصل معیشت ہیں۔ اگر ان کے چہروں پر مسلسل فاقہ، خوف اور بے یقینی لکھی جائے تو محض معاشی اشاریوں کی بہتری بھی مکمل کامیابی نہیں کہلا سکتی۔
حکمرانوں کے لیے مشکل فیصلے شاید ایک فائل کے چند صفحات ہوں، ایک اجلاس کا ایجنڈا ہوں، ایک پریس کانفرنس کا جملہ ہوں مگر عام آدمی کے لیے یہی فیصلے چولہے کی آنچ، بچوں کے دودھ، دوا کی گولی اور کرائے کے مکان کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ کاغذ پر لکھی ہوئی ایک فیصد تبدیلی کسی دفتر میں معمولی عدد ہوسکتی ہے مگر غریب کے گھر میں وہ ایک وقت کی روٹی کم ہونے کا نام بھی ہوسکتی ہے،
اس لیے قوم کو صرف یہ بتانا کافی نہیں کہ مشکل وقت ہے، قوم یہ بھی دیکھنا چاہتی ہے کہ مشکل وقت میں مشکل کس کس پر پڑ رہی ہے۔ اگر ملک واقعی سب کا ہے تو خوش حالی بھی مشترک ہونی چاہیے اور قربانی بھی۔ مداری صرف ڈگڈگی بجانے والا نہ ہو، تماشے کی قیمت ادا کرنے والا بھی ہو اور بندر کو ہمیشہ ناچنے پر مجبور کرنے کے بجائے کبھی یہ بھی سوچا جائے کہ آخر وہ کب تک ناچ سکتا ہے۔
وطن کی اصل طاقت وہ دن ہوگا جب "مشکل فیصلے" صرف غریب کے دسترخوان کا دوسرا نام نہیں رہیں گے، جب ریاست کی نظر میں عام آدمی محض اعداد کا ایک ہندسہ نہیں بلکہ ایک زندہ انسان ہوگا کیونکہ خالی پیٹ کو معاشی اصطلاحات سمجھ نہیں آتیں؛ اسے صرف روٹی کی زبان آتی ہے اور جب کسی قوم کے لاکھوں گھروں میں روٹی کا سوال مسلسل سوالیہ نشان بن جائے تو پھر مسئلہ صرف معیشت کا نہیں رہتا، پورے معاشرتی انصاف کا بن جاتا ہے۔





