Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

تنہا عورت ،تحریر: سید آزاد گیلانی

نقطہ نظر

ہمارے معاشرے میں عورت کا اکیلا ہونا شاید اس کا اپنا مسئلہ کم اور دوسروں کے لیے زیادہ بڑا مسئلہ ہے۔ شوہر کا انتقال ہو جائے، ازدواجی رشتہ ختم ہو جائے، شادی نہ ہو یا حالات اسے شوہر سے الگ زندگی گزارنے پر مجبور کر دیں، فوراً سوالوں کا ایک ہجوم اس کے دروازے پر پہنچ جاتا ہے۔ وہ ابھی اپنے حالات کو سمجھ بھی نہیں پاتی کہ معاشرہ اس کے بارے میں اپنی رائے قائم کر چکا ہوتا ہے۔ اس کے دکھ سے زیادہ اس کے اکیلے ہونے پر گفتگو ہوتی ہے۔


تنہا عورت کی زندگی کا المیہ یہ نہیں کہ اس کے ساتھ کوئی نہیں؛ المیہ یہ ہے کہ اس کے اردگرد بہت سے لوگ ہوتے ہیں، مگر اسے سمجھنے والا کوئی نہیں ہوتا۔


بیوہ عورت کے لیے شوہر کی موت صرف شریکِ حیات سے محرومی نہیں ہوتی۔ کئی گھروں میں اس کے ساتھ آمدن کا ایک بڑا ذریعہ، سماجی تحفظ اور روزمرہ فیصلوں کا سہارا بھی ختم ہو جاتا ہے۔ چند دن تعزیت کے بعد زندگی اپنے اصل چہرے کے ساتھ سامنے آ کھڑی ہوتی ہے۔ بچوں کی فیس، گھر کا خرچ، علاج، کرایہ، بجلی کے بل اور مستقبل کی فکر۔ اسے غم بھی منانا ہے اور گھر بھی چلانا ہے۔ آنسو بھی ہیں اور حساب کتاب بھی۔


مطلقہ عورت کی کہانی اس سے مختلف ضرور ہے، مگر آسان نہیں۔ ہمارے ہاں طلاق اب بھی صرف ایک ازدواجی واقعہ نہیں سمجھی جاتی؛ اسے عورت کے کردار، تربیت اور خاندان کے خلاف فردِ جرم بنانے میں دیر نہیں لگتی۔ سوال یہ کم ہوتا ہے کہ رشتہ کیوں ناکام ہوا اور یہ زیادہ کہ عورت نے اسے کیوں نہ بچایا۔ مرد کی ناکام شادی اس کی زندگی کا ایک باب ہوتی ہے، عورت کی ناکام شادی اکثر اس کا پورا تعارف بنا دی جاتی ہے۔


اگر ایسی عورت کے بچے بھی ہوں تو مسئلہ مزید سنگین ہو جاتا ہے۔ وہ ماں ہے، مگر اسے باپ کی ذمہ داریاں بھی نبھانی ہیں۔ دفتر کی مصروفیت کے بعد گھر، گھر کے بعد بچوں کی تعلیم، بیماری اور تربیت؛ اور ان سب کے درمیان اپنی ذات کہیں پیچھے رہ جاتی ہے۔ وہ اپنے بچوں کے سامنے پریشان نہیں ہو سکتی، کیونکہ اس کے چہرے کی گھبراہٹ ان کے مستقبل کا خوف بن سکتی ہے۔ سو وہ مسکراتی ہے، چاہے اس کے پاس مسکرانے کی کوئی وجہ نہ ہو۔


معاشی خودمختاری اس عورت کے لیے اختیار سے زیادہ ضرورت ہے۔ مگر ملازمت بھی اسے مکمل آزادی نہیں دیتی۔ کام کی جگہ پر اس کی قابلیت سے زیادہ اس کی ذاتی زندگی زیرِ بحث آ سکتی ہے۔ کسی مرد ساتھی سے بات کرے تو قیاس، دیر سے گھر پہنچے تو سوال، ترقی کرے تو شک اور خاموش رہے تو بھی لوگوں کو کوئی نہ کوئی کہانی درکار ہوتی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے معاشرے نے عورت کو جینے کا حق تو دیا ہے، مگر اس کے جینے کی نگرانی کا حق ہر شخص کو دے رکھا ہے۔


سب سے افسوس ناک رویہ ان لوگوں کا ہے جو تنہا عورت کی مجبوری کو مدد کا نام دے کر اس پر اپنا اختیار قائم کرنا چاہتے ہیں۔ کوئی احسان جتاتا ہے، کوئی اس کے فیصلے اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کرتا ہے اور کوئی اس کی خاموشی کو رضامندی سمجھ لیتا ہے۔ مدد اور مداخلت کے درمیان فرق سمجھنا ہوگا۔ جس مدد کے بدلے عورت کو اپنی عزت، آزادی یا فیصلے کا حق دینا پڑے، وہ مدد نہیں، ایک نیا بوجھ ہے۔


ہمیں تنہا عورت کے بارے میں اپنی زبان اور اپنے رویے دونوں بدلنے ہوں گے۔ بیوہ ہونا جرم نہیں، مطلقہ ہونا کردار کی خرابی نہیں، غیر شادی شدہ ہونا کوئی نقص نہیں اور اکیلے زندگی گزارنا اخلاقی ناکامی نہیں۔ زندگی ہر شخص کو ایک جیسا راستہ نہیں دیتی۔ بعض لوگوں کے حصے میں رشتوں کی چھاؤں آتی ہے اور بعض کو دھوپ میں اپنا راستہ خود بنانا پڑتا ہے۔


ایک ذمہ دار معاشرہ تنہا عورت کو ترس نہیں دیتا؛ اسے مواقع، تحفظ اور عزت دیتا ہے۔ اسے ہر قدم پر یہ نہیں پوچھتا کہ وہ اکیلی کیوں ہے، بلکہ یہ یقینی بناتا ہے کہ وہ اکیلی ہو تو بھی محفوظ ہے۔


کیونکہ تنہا عورت کو سب سے زیادہ تکلیف تنہائی نہیں دیتی۔ اسے یہ احساس توڑتا ہے کہ اس کی زندگی میں جو خلا پہلے ہی کسی حادثے، جدائی یا محرومی نے پیدا کیا ہے، معاشرہ اسے اپنی باتوں، شکوں اور فیصلوں سے مزید گہرا کرتا جا رہا ہے۔


وہ عورت جو دن بھر بچوں کے سامنے مضبوط رہتی ہے، دفتر میں اپنے کام کا بوجھ اٹھاتی ہے، بازار میں ضرورت کی چیزیں خریدتی ہے اور رشتہ داروں کے سامنے مسکرا کر کہتی ہے، "میں ٹھیک ہوں"، ضروری نہیں کہ واقعی ٹھیک ہو۔


ممکن ہے وہ صرف اس لیے "ٹھیک" کہہ رہی ہو کہ اسے معلوم ہے، اگر وہ ایک بار ٹوٹ گئی تو اسے سمیٹنے کے بجائے معاشرہ اس کے ٹکڑے گننا شروع کر دے گا۔


شاید ہماری اصل تہذیب کا امتحان یہی ہے کہ ہم تنہا عورت کے بارے میں کیا کہتے ہیں، نہیں؛ بلکہ یہ ہے کہ جب وہ خاموشی سے ہمارے درمیان سے گزرے تو ہم اسے مزید زخمی کیے بغیر گزرنے دیتے ہیں یا نہیں۔


اللہ تعالیٰ ہر بہن بیٹی کے نصیب اچھے کرے ۔اور انہیں باکردار ، مخلص ہمسفر عطا فرماۓ ۔جن کے ہمسفر ہیں انہیں احساس اور عمر دراز نصیب فرماۓ ۔آمین