بھارت میں 30 دریاؤں کو ملانے کے منصوبے پر قبائلی سراپا احتجاج، گھر اور مندر زیرِ آب آنے پر شدید غم و غصہ

بھارت میں دریاؤں کو آپس میں ملانے کے 87 ارب ڈالر کے بڑے منصوبے کے خلاف قبائلی آبادی نے احتجاج شروع کر دیا ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ منصوبے پر کام کے نتیجے میں پانی کی سطح بلند ہونے سے ان کے گھر اور مندر زیرِ آب آ گئے ہیں، جبکہ معاوضے کی رقم ان کے نقصانات پورے کرنے کے لیے ناکافی ہے۔
بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے علاقے اجے گڑھ میں دریائے کین کے کنارے سینکڑوں قبائلی باشندے منصوبے کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ مظاہرین میں شامل بٹی بائی کوندر نے اپنے چہرے پر کیچڑ مل رکھا تھا، جو اس زمین سے ان کے تعلق کی علامت ہے، جس پر ان کا خاندان ایک صدی سے زیادہ عرصے سے کاشت کاری کرتا آ رہا ہے۔ ان کے چاروں بالغ بیٹے بھی احتجاج میں شریک ہیں۔ بٹی بائی کوندر کے مطابق منصوبے پر جاری کام کے باعث پانی کی سطح بلند ہونے سے ان کا گاؤں زیرِ آب آ گیا ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ بہتر معاوضہ اور متبادل رہائش فراہم کیے بغیر وہ اپنے آبائی گھروں کو چھوڑنے کے بجائے مرنے کو ترجیح دیں گے۔
بٹی بائی کوندر نے کہا کہ حکومت ان کی زمین اور پانی لے رہی ہے، لیکن انہیں رہنے کے لیے کوئی دوسری جگہ فراہم نہیں کی جا رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیم کی تعمیر کے لیے ان کی زمین کھودی جا رہی ہے، مگر زندگی دوبارہ شروع کرنے کے لیے مناسب معاوضہ نہیں دیا جا رہا۔ احتجاج میں شریک متعدد افراد نے اپنے مطالبات کے حق میں علامتی چتاؤں پر لیٹ کر بھی احتجاج کیا۔
یہ تنازع بھارت کے اس بڑے منصوبے کے لیے ابتدائی امتحان بن گیا ہے جس کے تحت ملک بھر میں تقریباً 30 دریاؤں کو آپس میں ملانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ اس منصوبے پر کئی دہائیوں سے غور کیا جا رہا تھا، تاہم حالیہ برسوں میں وزیراعظم نریندر مودی کی حمایت کے باعث اسے زیادہ اہمیت حاصل ہوئی ہے۔
منصوبے کا بنیادی مقصد پانی کو ان علاقوں تک منتقل کرنا ہے جہاں خشک سالی اور پانی کی قلت کا سامنا رہتا ہے۔ بھارتی حکومت کا مؤقف ہے کہ اس اقدام سے لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں کسانوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے اور زرعی پیداوار کے لیے پانی کی دستیابی بہتر ہونے سے غذائی تحفظ کو تقویت ملے گی۔ بھارت میں زراعت اب بھی روزگار کا ایک اہم ذریعہ ہے۔
تاہم بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ دریاؤں کو ملانے کے اس منصوبے سے مقامی آبادیوں کو اپنے آبائی علاقوں سے بے دخل ہونا پڑ سکتا ہے اور قدرتی ماحول کو بھی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ منصوبے کے پہلے مرحلے میں مدھیہ پردیش کے دریائے کین کو اتر پردیش کے دریائے بیتوا سے ملایا جا رہا ہے، جس پر تقریباً 4.6 ارب ڈالر لاگت آنے کا تخمینہ ہے۔ دریائے کین کے کنارے واقع ضلع پنا میں متاثرہ رہائشیوں کو معاوضے کی پیشکش کی گئی ہے۔
حکومت نے فی ہیکٹر کم از کم 12 لاکھ 50 ہزار بھارتی روپے، یعنی تقریباً 13 ہزار ڈالر معاوضہ دینے کی پیشکش کی ہے۔ یہ رقم ابتدائی طور پر پیش کیے گئے پانچ لاکھ بھارتی روپے کے معاوضے سے دو گنا سے بھی زیادہ ہے۔
ضلع کی انتظامی سربراہ اوشا پرمار کے مطابق متاثرہ آبادی میں سے 90 فیصد سے زائد افراد کو معاوضہ ادا کیا جا چکا ہے۔ تاہم بعض مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ انہیں دی جانے والی رقم ان کے تمام نقصانات پورے کرنے کے لیے کافی نہیں اور صرف معاوضے کی ادائیگی سے ان کے مسائل حل نہیں ہو سکتے۔
منصوبے سے متاثر ہونے والوں میں مقامی مندر سے وابستہ افراد بھی شامل ہیں۔ علاقے کے مقامی پجاری دھنیرام بھٹناگر نے بتایا کہ جس مندر میں وہ کام کرتے تھے، وہ مکمل طور پر پانی میں ڈوب چکا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مندر ہی ان کی آمدنی کا واحد ذریعہ تھا، لیکن اب وہ ختم ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے دیا جانے والا معاوضہ صرف ان کے گھر کے نقصان کے لیے ہے، جو ان کے بقول کافی نہیں، کیونکہ اس سے ان کی روزی روٹی کا نقصان پورا نہیں ہوتا۔ ماہرینِ ماحولیات ایک طویل عرصے سے اس منصوبے کی مخالفت کرتے آ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دریائے کین پر مجوزہ دو کلومیٹر طویل ڈاؤدھن ڈیم کی تعمیر سے تقریباً 9 ہزار ہیکٹر، یعنی 22 ہزار 200 ایکڑ اراضی زیرِ آب آ سکتی ہے۔ اس میں پنا ٹائیگر ریزرو کا ایک اہم حصہ بھی شامل ہے، جسے بھارت میں شیروں کے تحفظ کے کامیاب منصوبوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
ماحولیاتی ماہرین کو خدشہ ہے کہ ڈیم کی تعمیر اور پانی ذخیرہ کرنے کے لیے وسیع اراضی زیرِ آب آنے سے جنگلی حیات اور قدرتی ماحولیاتی نظام متاثر ہوں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے منصوبے کے اثرات صرف مقامی آبادی تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ جنگلات اور جنگلی جانوروں کی رہائش گاہوں کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
بھارتی حکومت نے تسلیم کیا ہے کہ منصوبے کے ماحولیاتی اثرات سے مکمل طور پر بچنا ممکن نہیں، تاہم اس کا کہنا ہے کہ شجرکاری، جنگلی حیات کے تحفظ اور دیگر اقدامات کے ذریعے ان اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔
اس کے باوجود بعض ناقدین نے منصوبے کی سائنسی بنیادوں اور عملی افادیت پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ جنوبی ایشیا میں ڈیموں، دریاؤں اور عوامی مسائل کے نیٹ ورک کے رابطہ کار ہمانشو ٹھاکر نے کہا کہ منصوبے کی قابلِ عمل ہونے کی صلاحیت پر بڑا سوالیہ نشان موجود ہے، کیونکہ اس کی بنیاد اس مفروضے پر رکھی گئی ہے کہ دریائے کین کے طاس میں پانی ضرورت سے زیادہ ہے، جبکہ دریائے بیتوا کے طاس میں پانی کی کمی ہے۔
ان کے مطابق اس مفروضے کو اب تک حتمی طور پر ثابت نہیں کیا جا سکا، اس لیے منصوبے کی بنیاد بننے والے آبی تخمینوں پر مزید سوالات اٹھتے ہیں۔
بھارتی حکومت کی ترجمان نے منصوبے کے سائنسی مفروضوں پر فوری تبصرہ کرنے سے گریز کیا، تاہم 21 اگست کو جاری کیے گئے ایک بیان کی جانب توجہ دلائی۔ اس بیان میں کہا گیا تھا کہ دریاؤں کو ملانے کا منصوبہ خطے بندیل کھنڈ میں پانی کی مسلسل قلت سے نمٹنے میں مدد دے گا اور اس سے آبپاشی، پینے کے پانی اور پن بجلی کی ضروریات پوری کرنے میں معاونت ملے گی۔
یوں بھارت کا دریاؤں کو ملانے کا منصوبہ ایک جانب پانی کی قلت، زرعی ضروریات اور توانائی کے مسائل کے حل کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ دوسری جانب متاثرہ قبائلی آبادی اپنے گھروں، آبائی زمینوں، روزگار اور مذہبی مقامات کے نقصان پر احتجاج کر رہی ہے۔ معاوضے کی ادائیگی، متاثرین کی بحالی اور ماحولیات پر پڑنے والے اثرات اس منصوبے کے حوالے سے اہم تنازعات بن کر سامنے آئے ہیں۔
مزید پڑھیں





