جنرل اسمبلی اجلاس، برطانیہ بدلتی دنیا میں استحکام اور تعاون کی قیادت کے لیے تیار، برنم
.jpg%3F2026-09-23T18%253A15%253A05.607Z&w=3840&q=75)
برطانیہ کے وزیراعظم اینڈی برنم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں سالانہ اجلاس کے عام مباحثے سے اپنے پہلے خطاب میں کہا ہے کہ برطانیہ بدلتی ہوئی دنیا میں استحکام، بین الاقوامی تعاون اور مشترکہ مشکلات کے حل کے لیے قائدانہ کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین سے علیحدگی (بریگزٹ) کے بعد کے تجربات نے برطانیہ کو اہم سبق سکھائے ہیں اور اب ان کا ملک عالمی سطح پر دوبارہ فعال اور تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
وزیراعظم برنم نے کہا کہ برطانیہ اقوام متحدہ کے منشور، انصاف، قانون کی حکمرانی اور کمزور طبقات کے حقوق کے دفاع کے لیے عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا کو خوف اور تقسیم کے بجائے اتحاد، امید اور مسائل کے مشترکہ حل کی ضرورت ہے اور اس حوالے سے برطانیہ پر اعتماد کیا جا سکتا ہے۔ برطانوی وزیراعظم نے روس پر برطانیہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر گمراہ کن معلومات پھیلانے، عوامی رائے کو متاثر کرنے اور سماجی تقسیم کو ہوا دینے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ روسی ادارے جعلی ویب سائٹس، بوٹس اور جھوٹی خبروں کے ذریعے جمہوری اداروں کو کمزور کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔
انہوں نے اس مبینہ خطرے سے نمٹنے کے لیے ’’نیشنل سینٹر فار انفارمیشن ڈیفینس‘‘ کے قیام کا اعلان کیا، جو ریاستی سطح پر کی جانے والی معلوماتی مداخلتوں کی نشاندہی، ان کے ذمہ داروں کا تعین اور ان کا تدارک کرے گا۔ وزیراعظم برنم نے یوکرین کے لیے برطانوی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک یوکرین کی دفاعی صلاحیت، توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور شہریوں کے تحفظ میں مدد جاری رکھے گا۔ انہوں نے اپنے حالیہ دورہ کیئو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یوکرینی عوام غیرمعمولی حوصلے اور استقامت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
انہوں نے روس سے جنگ بندی اور مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کا مطالبہ کیا، تاہم واضح کیا کہ برطانیہ یوکرین کے ساتھ ’’جتنی دیر تک ضرورت ہوگی‘‘ کھڑا رہے گا۔ اقوام متحدہ کے حوالے سے برطانوی وزیراعظم نے کہا کہ عالمی ادارے کو موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق مضبوط بنانے کی ضرورت ہے تاکہ عالمی صحت، مستقبل کی وباؤں، مسلح تنازعات اور موسمیاتی تبدیلی جیسے مسائل سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کو قومی اور عالمی سلامتی کا مسئلہ قرار دیا۔ ان کے بقول ماحول دوست توانائی کی جانب منتقلی نہ صرف ماحول کے تحفظ کے لیے ضروری ہے بلکہ روزگار، اقتصادی ترقی اور صنعتوں کے فروغ کے نئے مواقع بھی پیدا کر سکتی ہے۔
مصنوعی ذہانت کے حوالے سے وزیراعظم برنم نے اسے عصر حاضر کے اہم ترین مواقع اور چیلنجز میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ٹیکنالوجی صحت، تعلیم اور معیشت میں انقلابی تبدیلی لا سکتی ہے، تاہم اس کے خطرات سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر مشترکہ اصول وضع کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ اور امریکا اہم قومی ڈھانچے کے تحفظ کے لیے ایک نئے اے آئی دفاعی اشتراک پر کام کر رہے ہیں، جبکہ برطانیہ G20 کی اپنی صدارت کے دوران اے آئی نظم و ضبط کو مرکزی ترجیح بنائے گا۔
مشرق وسطیٰ کے حوالے سے برطانوی وزیراعظم نے 7 اکتوبر 2023 کے حماس حملے کی شدید مذمت کی اور اسرائیل کی سلامتی کے حق کی حمایت کا اعادہ کیا۔ تاہم ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ غزہ اور مغربی کنارے میں اسرائیلی حکومت کی پالیسیاں اور شہری ہلاکتوں کی بلند تعداد ناقابلِ جواز ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہت زیادہ فلسطینی، خصوصاً بچے، ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ غزہ میں پہنچنے والی انسانی امداد ناکافی ہے اور اس سلسلے کو ختم ہونا چاہیے۔
وزیراعظم برنم نے کہا کہ ان کی حکومت نے غیرقانونی اسرائیلی بستیوں میں تیار کردہ اشیا کی تجارت پر پابندی عائد کی ہے، فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضے کو غیرقانونی قرار دیا ہے اور غیرقانونی بستیوں کی تعمیر میں ملوث افراد پر پابندیاں لگائی ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مجوزہ ای ون وسیع آبادکاری ایک قابلِ عمل فلسطینی ریاست کے قیام کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔
انہوں نے مسئلے کے دو ریاستی حل کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے لیے امن اور سلامتی کے ساتھ بقائے باہمی کی امید کو زندہ رکھنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گا۔
مزید پڑھیں





