استاد کا وقت بچے کا مستقبل،تحریر: فاطمہ زہراء
نقطہ نظر
ہم اکثر یہ شکایت کرتے ہیں کہ آج کے بچے پڑھائی میں کمزور ہیں ان کی ریڈنگ اچھی نہیں، لکھائی کمزور ہے، مطالعے کی عادت ماند پڑ چکی ہے، سبق یاد تو کر لیتے ہیں مگر سمجھ نہیں پاتے اور امتحانات میں مطلوبہ کارکردگی دکھانے سے قاصر رہتے ہیں پھر جب نتائج سامنے آتے ہیں تو سب سے آسان راستہ یہ ہوتا ہے کہ انگلی فوراً استاد کی طرف اٹھا دی جائے
بچے کی تیاری کیوں نہیں ہوئی؟ پورا قصور استاد کا ہے۔
مگر کیا واقعی معاملہ اتنا سادہ ہے؟
کیا ہم نے کبھی یہ جاننے کی کوشش کی کہ جس استاد کو ہم بچے کی تعلیمی کمزوری کا ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں اسے پورا سال کن ذمہ داریوں میں مصروف رکھا گیا؟
ایک استاد کا کام صرف کتاب کھول کر سبق پڑھا دینا نہیں اسے روزانہ سبق کی منصوبہ بندی کرنی ہے، بچوں کو پڑھانا ہے، نوٹ بکس چیک کرنی ہیں، کمزور طلبہ کی نشاندہی کرنی ہے، ان پر خصوصی توجہ دینی ہے، بچوں کی ریڈنگ اور لکھائی بہتر بنانی ہے، والدین سے رابطہ رکھنا ہے، تعلیمی کارکردگی کا جائزہ لینا ہے اور ساتھ ہی بچے کی تربیت اور شخصیت سازی میں بھی اپنا کردار ادا کرنا ہے۔
مگر اسی استاد کے کندھوں پر اگر مسلسل فائلیں، رپورٹس، اضافی سرگرمیاں، تقریبات اور انتظامی ذمہ داریاں بھی ڈال دی جائیں تو پھر ایک بنیادی سوال ضرور پیدا ہوتا ہے
بچے کو پڑھانے کے لیے استاد کے پاس وقت کتنا بچا؟
ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا بچہ روانی سے پڑھے، خوبصورت لکھے، سوال کرے، سوچے، سمجھے اور اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائے !
مگر یہ سب کچھ صرف نصاب مکمل کر دینے سے ممکن نہیں اس کے لیے استاد کو بچے کے ساتھ وقت گزارنا ہوگا اس کی غلطی سمجھنی ہوگی، اسے دوبارہ سمجھانا ہوگا، اس کے سوال سننے ہوں گے اور کبھی ایک ہی سبق کئی مرتبہ پڑھانا ہوگا۔
خصوصاً کمزور طالب علم کو صرف ایک سبق نہیں، اضافی توجہ چاہیے۔
مگر ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم استاد کو ہر کام میں مصروف رکھتے ہیں اور پھر توقع کرتے ہیں کہ وہ بچے کے لیے مکمل طور پر دستیاب بھی رہے۔
کبھی کوئی تقریب، کبھی نئی سرگرمی، کبھی اضافی فائل، کبھی رپورٹ اور کبھی ایسا انتظامی کام جس کا شاید کچھ عرصے بعد کسی کو یاد بھی نہ رہے۔ ہر کام اپنی جگہ اہم دکھائی دیتا ہے، لیکن جب یہ سب کام استاد کے اصل کام پر غالب آنے لگیں تو نقصان بالآخر بچے کا ہوتا ہے۔
پھر پیپرز قریب آتے ہیں
اچانک بچے کی کمزور تیاری نظر آتی ہے ریڈنگ کمزور، لکھائی ناقص، بنیادی تصورات غیر واضح اور نصاب نامکمل۔
اور ہم فیصلہ سنا دیتے ہیں
"استاد نے اپنا کام نہیں کیا۔"
مگر کیا ہم نے یہ دیکھا کہ استاد کو اپنا بنیادی کام کرنے کا موقع کتنا ملا؟
یہ سوال استاد کو بری الذمہ قرار دینے کے لیے نہیں، بلکہ مسئلے کی اصل جڑ تلاش کرنے کے لیے ہے۔
کیونکہ ایک اچھا استاد بھی تب ہی اپنی بہترین صلاحیتیں استعمال کرسکتا ہے جب اسے تدریس کے لیے مناسب وقت، وسائل اور ماحول میسر ہو۔
استاد صرف کتاب کا سبق نہیں پڑھاتا، وہ بچے کے اندر سیکھنے کی خواہش پیدا کرتا ہے۔ وہ اس بچے کو بھی دیکھتا ہے جو کلاس میں خاموش بیٹھا ہے، اس بچے کو بھی جو بار بار غلطی کرتا ہے اور اس بچے کو بھی جو بظاہر شرارتی ہے مگر شاید اندر سے کسی توجہ کا منتظر ہے
ایک استاد کا ایک حوصلہ افزا جملہ کسی بچے کے اندر اعتماد پیدا کرسکتا ہے، جبکہ مسلسل نظرانداز کیا جانا اسے اپنی صلاحیتوں سے بدظن کرسکتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ تعلیم صرف نصاب مکمل کرنے کا نام نہیں؛ تعلیم بچے کی فہم، عادت، کردار، سوچ اور تربیت کو سنوارنے کا نام ہے۔
اور یہاں والدین کا کردار بھی ختم نہیں ہوتا۔
بچے کی تعلیمی ذمہ داری صرف اسکول کے دروازے تک محدود نہیں۔ گھر میں کتاب کے لیے وقت، مطالعے کا ماحول، موبائل کے استعمال کی حدود، بچے کے ساتھ گفتگو اور اس کی تعلیمی مشکلات کو سمجھنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔
اگر گھر میں بچے کو ہر وقت موبائل میسر ہو، کتاب صرف امتحان کے دن کھولی جائے اور والدین کی توجہ صرف نمبروں تک محدود ہو تو پھر ہم صرف استاد سے معجزے کی توقع نہیں کرسکتے۔
اسی طرح تعلیمی ادارے کو بھی یہ سوچنا ہوگا کہ کیا ہر کام واقعی اتنا ضروری ہے کہ اس کے لیے استاد کا تدریسی وقت قربان کردیا جائے؟
ایک مینٹور اپنی ٹیم کو صرف کام دینا نہیں جانتا؛ وہ یہ بھی جانتا ہے کہ کون سا کام واقعی ضروری ہے اور کون سا کچھ وقت کے لیے مؤخر کیا جاسکتا ہے۔
کسی نئی ذمہ داری سے پہلے تین سوال بہت ضروری ہیں:
کیا یہ کام واقعی ضروری ہے؟
کیا اس کے لیے استاد کو بچوں کی تعلیم کا وقت چھوڑنا پڑے گا؟
اگر یہ کام ضروری ہے تو استاد کے موجودہ کاموں میں سے کون سا کام کم کیا جاسکتا ہے؟
کیونکہ ہر نئی ذمہ داری کے ساتھ اضافی وقت نہیں آتا۔ بعض اوقات ایک کام بڑھانے کے لیے دوسرا کام کم کرنا پڑتا ہے۔
ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہمارے لیے زیادہ اہم کیا ہے
ایک اور فائل کا مکمل ہونا یا ایک بچے کا بنیادی تصور سمجھ جانا؟
ایک اور سرگرمی کا کامیاب انعقاد یا کمزور بچے کی ریڈنگ بہتر ہونا؟
ایک رپورٹ کا بروقت جمع ہونا یا ایک طالب علم کا اعتماد بحال ہونا؟
یہ مقابلہ کسی ایک فریق کو قصوروار ٹھہرانے کا نہیں، بلکہ اپنی ذمہ داری پہچاننے کا ہے۔
بچے کی تعلیمی کمزوری صرف استاد کی ناکامی نہیں ہوسکتی، جیسے اسے صرف موبائل، والدین یا نظام کے کھاتے میں بھی نہیں ڈالا جاسکتا۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس میں بچہ، والدین، استاد اور تعلیمی ادارہ سب اپنا اپنا کردار رکھتے ہیں۔
اور شاید ہمیں بچوں کو کمزور کہنے سے پہلے یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کہیں ہم نے خود ان کے مضبوط ہونے کے راستے تو مشکل نہیں بنا دیے؟
کیونکہ بچے صرف نصاب سے قابل نہیں بنتے
انہیں وقت، توجہ، تربیت، حوصلہ اور ایک ایسا استاد چاہیے جو غیرضروری کاموں کے ہجوم میں نہیں بلکہ بچے کے قریب موجود ہو۔
اچھی قیادت یہ نہیں کہ ٹیم سے زیادہ سے زیادہ کام لے لیا جائےاچھی قیادت یہ بھی ہے کہ ٹیم کو غیرضروری کاموں سے بچایا جائے تاکہ وہ اپنی اصل ذمہ داری بہتر طریقے سے نبھا سکے۔
اور استاد کی اصل ذمہ داری کیا ہے؟
اگر ہم نے اس دور کے استاد کو غیرضروری مصروفیات کے بوجھ تلے دبا دیا، اس کا وقت فائلوں، رپورٹس اور رسمی سرگرمیوں کی نذر کردیا، تو کل جب ایک کمزور نسل ہمارے سامنے کھڑی ہوگی، شاید ہمیں اس کا شکوہ کرنے کا حق بھی نہ رہے۔
استاد کو وقت دیجیے، بچے کو توجہ دیجیے، اور تعلیم کو محض نصاب مکمل کرنے کا نام نہ بنائیے؛ اسے تربیت، کردار سازی اور انسان بنانے کا عمل سمجھیے
کیونکہ قومیں صرف پڑھے لکھے افراد سے نہیں بنتیں، تربیت یافتہ انسانوں سے بنتی ہیں۔
مزید پڑھیں





