Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

استاد کی عظمت ،تحریر:دانیال حسن چغتائی

نقطہ نظر
danial hassan

بچپن کا زمانہ معصومیت کا دور ہوتا ہے۔ اس عہدِ طفلی میں جب اسکول کے امتحانات میں یہ سوال سامنے آتا تھا کہ ”اپنے پسندیدہ استاد پر مضمون تحریر کیجیے“ تو ہم گھسے پٹے، روایتی اور خوش نما جملے کاغذ پر رقم کر کے یہی گمان کرتے تھے کہ حقِ مضمون ادا ہو گیا۔ سچ تو یہ ہے کہ اس نازک عمر میں استاد کی قدر و قیمت اور ان کی ذاتِ بابرکات کی رفعت کا ادراک ہی کہاں تھا۔ بلکہ سچ پوچھیے تو اس زمانے میں استاد کا وجود ایسی صاحبِ جلال شخصیت معلوم ہوتا تھا جن سے دور ہی رہنے میں عافیت نظر آتی۔ ہوم ورک کا وبال، ڈانٹ ڈپٹ کا خوف، سوالات کی بوچھاڑ، ٹیسٹ کی فکر اور نظم و ضبط کی پابندی، یہ تمام امور اس وقت ہمیں استاد کا جور و جفا اور سختی جلوہ گر کرتے تھے، ان کا شفیقانہ مقصد اور بے لوث محبت دیکھنے سے ہماری نظر قاصر تھی۔

پھر جوں جوں عمر کی طنابیں دراز ہوئیں، وقت کا دھارا آگے بڑھا اور زندگی نے اپنے کٹھن امتحانات سے نبرد آزما کیا تو استاد کے حقیقی معنی و مفہوم ذہن کے افق پر روشن ہونے لگے۔ تب جا کر تلے دل سے یہ احساس بیدار ہوا کہ جس استادِ محترم کی ڈانٹ ہمیں زہرِ ہلاہل محسوس ہوتی تھی، وہ ہماری اصلاح و ترقی درجات کے لیے آبِ حیات تھی۔ جس استاد کی سخت گیری اور پابندیاں ہمیں ناگوار بوجھ معلوم ہوتی تھیں، وہ ہمیں زندگی کی باقاعدگی اور سلیقہ مندی سکھا رہی تھیں اور جن مشکل سوالات سے ہم گھبرا کر بغلیں جھانکنے لگتے تھے، وہ ہمیں آنے والے دورِ حیات کے دباؤ اور پرپیچ مسائل کا مردانہ وار مقابلہ کرنے کے قابل بنا رہے تھے۔

استاد کی عظمت و منزلت کو لفظوں کے ترازو میں تولنا یا اسے کسی محدود پیمانے سے ناپنا دائرہ امکان سے باہر ہے۔ یہ ایسی برحق اور ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ دنیا کی کوئی بھی قوم، چاہے وہ کتنی ہی دعویدار کیوں نہ ہو، اس وقت تک اوجِ ثریا کو پہنچ سکتی ہے، نہ ہی تہذیبی و اخلاقی بلندیاں حاصل کر سکتی ہے، جب تک وہ اپنے اساتذہ کو مکمل عزت، تکریم، وقار اور شایانِ شان معاشرتی مقام عطا نہ کرے۔ فلک بوس عمارتیں، کشادہ سڑکیں، پختہ پل اور عظیم الشان کارخانے قوموں کے مستقبل کا فیصلہ نہیں کرتے۔ قومیں ذی روح انسانوں سے بنتی ہیں اور انسان کو ”انسان“ بنانے کا گراں قدر اور مقدس فریضہ صرف اور صرف استاد کی ذات انجام دیتی ہے۔

اگر غور فرمائیے تو استاد ہی وہ واحد اور یگانہ پیشہ ور ہے جو کائنات کے دیگر تمام پیشوں کو جنم دیتا ہے۔ دنیا کا کوئی نامور ڈاکٹر ہو یا حاذق معالج، بلا کا ماہر انجینئر ہو یا قانون کا شگاف نکتہ دان، عبقری سائنس دان ہو یا عالی مرتبت افسر، کامیاب تاجر ہو یا حق گو صحافی، جہاں دیدہ سیاست دان ہو یا خود عظیم استاد یہ تمام تر گوہرِ نایاب کسی نہ کسی استاد کی درسگاہ اور آستانہ علم ہی سے تراش کر نکلتے ہیں۔ اب یہاں یہ سوال از خود پیدا ہوتا ہے کہ جو شخصیت معاشرے کے ہر شعبہ زندگی کے معماروں کو جنم دیتی ہو، خود اس کے اپنے احترام، مرتبہ اور قدر و منزلت کا معیار کس قدر رفیع ہونا چاہیے؟

مگر صد افسوس! ہمارا موجودہ معاشرہ استاد کی عظمت کا اعتراف تو بڑی پرشور تقریروں میں کرتا ہے، لیکن جب عملی طور پر اس مقامِ عالی کے تقاضے پورے کرنے کی باری آتی ہے تو انتہائی غفلت اور ناکامی کا مظاہرہ کرتا ہے۔ ہم اپنے نخلِ تمنا یعنی بچوں سے بہترین نتائج، اعلیٰ کارکردگی اور بلبلِ ہزار داستان بننے کی امیدیں تو وابستہ کر لیتے ہیں مگر استاد کو وہ سازگار ماحول، کامل اعتماد اور احترام دینے سے کتراتے ہیں جس کی فضا میں پرواز کر کے وہ بچے کو ثریا تک پہنچا سکے۔ ہم استاد سے یہ تقاضا تو کرتے ہیں کہ وہ ہمارے بچوں کے اخلاق و کردار کو سانچے میں ڈھالے مگر خود اپنے بازاری رویوں، بے جا دخل اندازیوں اور تضحیک آمیز رویے سے اس کے خود دار کردار کو مجروح کرنے سے باز نہیں آتے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا نخلستانِ نوخیز نظم و ضبط سے آراستہ ہو لیکن جب استاد اصلاح کی غرض سے کوئی نظم و ضبط نافذ کرتا ہے تو سب سے پہلی شکایت خود والدین کی طرف سے داغ دی جاتی ہے۔ یہ دوغلا اور نا مسعود رویہ یکسر بدلنے کی اشد ضرورت ہے۔

استاد صحیفہ حیات کے رموز و اوقاف سکھاتا ہے۔ وہ بے تراشیدہ وجود کو شائستہ شخصیت میں ڈھالتا ہے۔ وہ امتحان پاس کرنے کی تدبیریں نہیں بتاتا بلکہ حوادثِ روزگار اور زندگی کے کٹھن معرکوں کے لیے ذہن کو صیقل کرتا ہے۔ وہ رپورٹ کارڈ کے نمبروں میں اضافہ نہیں کرتا بلکہ فکر کے افق کو وسعت بخشتا اور سوچ کے معیار کو بلندی عطا کرتا ہے۔ بابرکت اور کامل استاد خام دھات کو کندن، بے آب پتھر کو درِ شاہوار، بنجر زمین کو زرخیز لالہ زار اور ویران صحرا کو رشکِ گلستان بنانے کی اعجاز نما صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے دشتِ تدریس میں قلم اور کتاب نہیں ہوتی، بلکہ پوری آنے والی نسل کا بخت و اقبال اس کے دائرہ کار میں ہوتا ہے۔

استاد کی کامیابی یہ ہرگز نہیں کہ اس کے تلامذہ سو فیصد نمبر حاصل کر لیں بلکہ استاد کی معراج اور فتح یہ ہے کہ اس کا تربیت یافتہ طالب علم صاحبِ اخلاق انسان، ذمہ دار شہری، باکردار فرد اور معاشرے کا نافع و باوقار رکن بن کر ابھرے۔

آج وقت کا سخت تقاضا اور لمحہ فکریہ یہ ہے کہ ہم استاد کو کوئی تنخواہ دار ”ملازم“ یا ادنیٰ خدمت گار سمجھنے کے بجائے اسے قوم کا حقیقی معمار تسلیم کریں۔ اس کی رات دن کی جگر کاوشی کو روپوں کے پیمانے سے نہ ناپا جائے، اس کے عالی مقام کو بورڈ کے نتائج کی فہرستوں سے نہ پرکھا جائے اور اس کی عظمتِ بے بہا کو سال میں ایک بار منعقد ہونے والی تقریبِ یومِ اساتذہ کے چند رسمی اور تعریفی جملوں تک محدود نہ رکھا جائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ استاد کے بوئے ہوئے بیج کا ثمر فوراً ظاہر نہیں ہوتا بلکہ اس کی محنت کا نتیجہ سالہا سال کے بعد جا کر نسلوں کی صورت میں سامنے آتا ہے۔

یہ ممکن ہے کہ استاد کا پڑھایا ہوا کوئی ریاضی کا فارمولا یا سائنس کا کلیہ طالب علم کے ذہن سے محو ہو جائے مگر استاد کی دی ہوئی عالی ظرفی، اخلاقی تربیت، خود اعتمادی کی رمق، حکیمانہ نصیحت اور اس کی اپنی جاذب و باوقار شخصیت کا نقشِ جمیل انسان کے ساتھ تا دمِ زیست قائم رہتا ہے۔

استاد کی عظمت کو دنیوی ترازو میں تولنے کی نادانی نہ کیجیے۔ وہ ناپید اور انمول ہے کیونکہ وہ گل تراشی کرتا ہے اور خام انسان سے گوہر بناتا ہے۔ وہ عظیم اور عالی مرتبت ہے، کیونکہ وہ نسلوں کے اخلاق کو سنوارتا ہے اور ان کی تہذیبی آبیاری کرتا ہے۔ اور وہ تاابد قابلِ تعظیم و تکریم ہے، کیونکہ اسی کے فکرِ رسا اور دستِ شفیق سے شائستہ معاشروں اور تابناک مستقبل کی تشکیل ہوتی ہے۔ اگر ہم مہذب، تعلیم یافتہ، باوقار اور سرخرو قوم بننے کی تمنا رکھتے ہیں، تو ہمیں سب سے پہلے اپنے اساتذہ کے آستانے پر سرِ تسلیم خم کرنا ہوگا اور ان کے مقام کو معاشرے میں سب سے بلند تر کرنا ہوگا۔ کیونکہ جس معاشرے میں استاد باوقار، خوددار اور محترم ہوتا ہے، وہاں تعلیم کا علم بلند ہوتا ہے اور جہاں تعلیم باوقار ہو، وہاں کا مستقبل تابناک اور درخشندہ ہونا لازمی امر ہے۔