استاد کی عظمت،علم سے کردار تک،تحریر: ماہ جبین اظہر
نقطہ نظر
استاد کا نام ذہن میں آتے ہی میرے ذہن میں سب سے پہلے ماں کا خیال آتا ہے۔ وہ ماں، جس نے ہمیں بولنے سے پہلے لفظوں کا شعور دیا، چلنے سے پہلے قدم سنبھالنا سکھایا اور زندگی کے پہلے سبق اپنی گود کی درس گاہ میں پڑھائے۔ دنیا کے کسی بھی تعلیمی ادارے میں جانے سے بہت پہلے انسان اپنی ماں سے سیکھنا شروع کر دیتا ہے۔ اس کے لہجے سے محبت، اس کے عمل سے صبر، اس کی تربیت سے تہذیب اور اس کی دعاؤں سے زندگی کا حوصلہ پاتا ہے۔ شاید اسی لیے ماں کو انسان کا پہلا مدرسہ اور پہلا استاد کہا جاتا ہے۔
ماں کی انگلی تھام کر چلنے والا بچہ صرف راستے پر چلنا نہیں سیکھتا بلکہ زندگی کے نشیب و فراز سے گزرنے کا ہنر بھی سیکھتا ہے۔ ماں کی ایک نصیحت کبھی پوری زندگی کا سرمایہ بن جاتی ہے اور اس کی ایک دعا مشکل ترین راستوں کو آسان کر دیتی ہے۔ وہ کتاب کھول کر سبق نہیں پڑھاتی، مگر اس کی پوری زندگی ایک ایسی کتاب ہوتی ہے جس کا ہر صفحہ محبت، تربیت اور ایثار سے عبارت ہوتا ہے۔
اور جب استاد کی عظمت کا ذکر ہو تو دل بے اختیار اس عظیم ہستی کی طرف جھک جاتا ہے جو پوری انسانیت کے لیے سب سے عظیم معلم بن کر تشریف لائے، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ۔ قرآنِ مجید کی پہلی وحی کا آغاز ہی "اقْرَأْ" یعنی ’’پڑھو‘‘ کے حکم سے ہوتا ہے۔ یہ اس بات کی واضح علامت ہے کہ اسلام میں علم کو کس قدر بلند مقام حاصل ہے۔ قرآنِ مجید میں ایک اور مقام پر ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایمان والوں اور اہلِ علم کے درجات بلند فرماتا ہے۔
حضور اکرم ﷺ نے صرف الفاظ کے ذریعے تعلیم نہیں دی بلکہ اپنے کردار، عمل، شفقت اور اسوۂ حسنہ سے انسانیت کو جینے کا سلیقہ عطا فرمایا۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "إنما بُعثتُ معلِّمًا" یعنی ’’مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے۔‘‘ ایک اور حدیثِ مبارکہ میں ارشاد ہے: "خیرکم من تعلم القرآن وعلمه" یعنی ’’تم میں بہترین وہ ہے جو قرآن سیکھے اور اسے سکھائے۔‘‘ ان ارشادات سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام میں علم حاصل کرنا، اسے سمجھنا اور دوسروں تک پہنچانا کس قدر عظیم عمل ہے۔
حضور اکرم ﷺ کی تعلیم کا دائرہ صرف کتاب اور قلم تک محدود نہ تھا۔ آپ ﷺ نے دلوں کو بدلا، کردار سنوارے اور انسان کو انسان کی قدر سکھائی۔ آپ ﷺ نے علم کو اخلاق سے، شعور کو عمل سے اور تعلیم کو کردار سے جوڑ دیا۔ یہی وہ پہلو ہے جو ایک حقیقی استاد کو محض معلومات فراہم کرنے والے شخص سے ممتاز کرتا ہے۔
استاد صرف وہ نہیں جو ہمیں کسی مضمون کے سوالات کے جواب بتائے؛ استاد وہ ہے جو ہمارے اندر سوچنے کی صلاحیت پیدا کرے، ہماری کمزوریوں کو سمجھے، ہماری صلاحیتوں کو پہچانے اور ہمیں آگے بڑھنے کا حوصلہ دے۔ ایک استاد طالب علم کے ذہن میں صرف معلومات نہیں بھرتا بلکہ اس کے اندر سوال کرنے، غور کرنے اور درست فیصلہ کرنے کی صلاحیت بھی پیدا کرتا ہے۔
استاد وہ چراغ ہے جو خود جل کر دوسروں کے راستے روشن کرتا ہے۔ اس کا علم ایک طالب علم تک محدود نہیں رہتا بلکہ ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہوتا ہے۔ وہ ایک بچے کو پڑھاتا ہے، مگر درحقیقت آنے والے معاشرے کی تعمیر کرتا ہے۔ اس کی کلاس میں بیٹھنے والا ایک طالب علم کل ڈاکٹر، انجینئر، سائنس دان، ادیب، استاد، افسر یا ملک کا ذمہ دار شہری بن سکتا ہے۔ یوں ایک استاد کی محنت کا دائرہ اس کی کلاس روم کی چار دیواری سے کہیں آگے تک پھیل جاتا ہے۔
ایک اچھا استاد طالب علم کو صرف یہ نہیں بتاتا کہ کیا پڑھنا ہے، بلکہ یہ بھی سکھاتا ہے کہ کیوں پڑھنا ہے اور حاصل کیے ہوئے علم کو زندگی میں کیسے برتنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ استاد کا کردار صرف تعلیمی نہیں بلکہ اخلاقی اور معاشرتی بھی ہے۔ اگر علم کے ساتھ کردار نہ ہو تو تعلیم محض ڈگری بن کر رہ جاتی ہے، لیکن جب علم کے ساتھ اخلاق، ذمہ داری، برداشت اور انسان دوستی شامل ہو جائے تو تعلیم شخصیت سازی کا ذریعہ بن جاتی ہے۔
آج کا دور معلومات کا دور ہے۔ موبائل، انٹرنیٹ اور جدید ٹیکنالوجی نے علم کے دروازے ہر شخص کے لیے کھول دیے ہیں۔ چند لمحوں میں دنیا بھر کی معلومات ہماری اسکرین پر آ جاتی ہیں، مگر معلومات اور علم میں فرق ہے۔ معلومات ہمیں بہت کچھ بتا سکتی ہیں، لیکن ان معلومات کو پرکھنا، درست اور غلط میں فرق کرنا، انہیں مثبت مقصد کے لیے استعمال کرنا اور انہیں کردار کا حصہ بنانا ایک مخلص استاد ہی بہتر انداز میں سکھا سکتا ہے۔
اسی لیے آج کے استاد کی ذمہ داری پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ اسے کتاب کے ساتھ ساتھ بدلتے ہوئے معاشرے، جدید ٹیکنالوجی اور نئی نسل کی نفسیات کو بھی سمجھنا ہوگا۔ طالب علم کو محض امتحان میں کامیابی کے لیے نہیں بلکہ زندگی کے امتحان کے لیے تیار کرنا ہوگا۔
پانچ اکتوبر، یومِ اساتذہ، ہمیں اپنے اساتذہ کی محنت، محبت اور قربانیوں کو یاد کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ یہ دن صرف پھول دینے یا مبارک باد کے چند الفاظ کہنے تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہم اپنے تعلیمی نظام اور اپنے اساتذہ کے مقام کو کس طرح بہتر بنا سکتے ہیں۔
اس سلسلے میں وزیرِ تعلیم کی ذمہ داری نہایت اہم ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت کے لیے مؤثر اور جدید پروگرام شروع کرے، نصاب کو وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرے اور ایسا تعلیمی ماحول فراہم کرے جہاں استاد اطمینان اور وقار کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے سکے۔ اساتذہ کی تنخواہوں، سہولیات، ترقی اور پیشہ ورانہ عزتِ نفس کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔
اسی طرح وزیرِ اعلیٰ کو چاہیے کہ صوبے کے تمام تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائیں۔ اسکولوں میں صاف ستھرا ماحول، لائبریریاں، سائنسی و کمپیوٹر لیبارٹریاں اور تربیت یافتہ اساتذہ موجود ہوں۔ دیہی اور پسماندہ علاقوں کے بچوں کو بھی وہی تعلیمی مواقع ملنے چاہئیں جو بڑے شہروں کے بچوں کو حاصل ہیں، کیونکہ قوم کا کوئی بچہ صرف اس لیے پیچھے نہیں رہنا چاہیے کہ وہ کسی دور دراز علاقے میں پیدا ہوا ہے۔
اور سب سے بڑھ کر وزیرِ اعظم کو چاہیے کہ تعلیم کو قومی ترجیحات میں حقیقی معنوں میں اولین مقام دیا جائے۔ ایسا مضبوط اور یکساں تعلیمی نظام تشکیل دیا جائے جو صرف ڈگریاں نہ بانٹے بلکہ باشعور، باکردار، ذمہ دار اور انسان دوست شہری تیار کرے۔ تعلیمی بجٹ میں اضافہ، اساتذہ کی فلاح و بہبود، تحقیق کے فروغ اور جدید تعلیمی سہولیات کی فراہمی پر سنجیدہ توجہ دی جائے، کیونکہ کسی بھی ملک کی حقیقی ترقی اس کی عمارتوں سے نہیں بلکہ اس کے تعلیم یافتہ اور باکردار افراد سے ہوتی ہے۔
یومِ اساتذہ پر میں اپنی ماں، اپنے تمام اساتذہ اور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی عظیم تعلیمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتی ہوں۔ استاد کے ہاتھ میں صرف کتاب نہیں ہوتی، وہ دراصل ایک نسل کا مستقبل تھامے ہوتا ہے۔ اگر ہم نے استاد کو عزت، سہولت اور وہ مقام دے دیا جس کا وہ حق دار ہے تو ہم صرف ایک استاد کی قدر نہیں کریں گے بلکہ اپنی آنے والی نسلوں کے مستقبل کو سنوارنے کی بنیاد رکھیں گے۔ یہی استاد کی عظمت ہے، یہی علم کی روشنی ہے اور یہی ایک مضبوط قوم کی پہچان بھی۔





