اہلیہ کے علاج کے لیے 14 گھنٹے روزانہ کام کرنے والے 81 سالہ شخص کی ویڈیو وائرل

امریکی ریاست ٹیکساس کے 81 سالہ ڈونلڈ ’’ڈان‘‘ جانسن کی کہانی نے سوشل میڈیا صارفین کو متاثر کردیا، جو اہلیہ کے کینسر کے علاج کے اخراجات پورے کرنے کے لیے روزانہ 14 گھنٹے کام کرتے رہے۔
ڈونلڈ اور جوزفین کی شادی کو 57 سال ہوچکے ہیں، ڈونلڈ آزاد ڈرائیور کے طور پر کئی سو میل کا سفر کرکے ایئرلائنز کا گمشدہ سامان متعلقہ افراد تک پہنچاتے ہیں تاکہ اہلیہ کے علاج کے اخراجات پورے کیے جاسکیں۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب جوڑے کی بیٹی ایمی جانسن نے گھر کے باہر نصب کیمرے کی ریکارڈنگ دیکھی۔ ویڈیو میں ڈونلڈ کو تھکن سے چور حالت میں بھاری سوٹ کیس سیڑھیوں سے اوپر لے جاتے دیکھا گیا۔
والد کی مالی مشکلات کا علم ہونے پر ایمی نے ’’ہیلپ ڈان ریٹائر‘‘ کے نام سے چندہ مہم شروع کی، جس کا مقصد والد کو سخت محنت سے ریٹائر کرانا اور خاندان کا مالی بوجھ کم کرنا تھا۔
کہانی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو بڑی تعداد میں لوگوں نے عطیات دینا شروع کردیے اور مہم کے ذریعے لاکھوں ڈالر جمع ہونے لگے، تاہم چندہ جمع کرنے والے پلیٹ فارم نے بعد میں ’’حقائق کی غلط نمائندگی‘‘ کے باعث مہم بند کردی۔
مہم چلانے والی ایمی نے ابتدا میں خود کو جوڑے کی بیٹی کے بجائے مقامی رہائشی ’’ایرن ہاول‘‘ ظاہر کیا تھا، جس کے بعد عطیات دینے والوں کو رقم واپس کردی گئی۔
بعد ازاں خاندان نے واضح تعارف کے ساتھ نئی چندہ مہم شروع کی، جس کا مقصد جوزفین کے علاج سے متعلق طبی قرض ادا کرنا اور ڈونلڈ کو ریٹائرمنٹ کا موقع فراہم کرنا ہے۔
ڈونلڈ جانسن نے غیر متوقع مدد پر عطیہ دینے والوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ تعاون ان کے لیے کسی معجزے سے کم نہیں، جس سے وہ اب اپنی اہلیہ کے ساتھ رہنے اور کینسر کے خلاف ان کی جدوجہد میں ساتھ دینے پر توجہ مرکوز کرسکیں گے
مزید پڑھیں





