"ابر رحمت و عظمت سے بھری بے مثال، الله کے بعد ذات ہے والدین کی ان جیسی نعم البدل ذات میں نہ صفات کے جہاں میں مثال کوئی".
والدین الله تعالیٰ کی عظیم نعمت ہیں۔ اس نعمت کا تقاضا ہے کہ ان کی قدر کی جائے، ان کی بہت عزت و احترام کیا جائے۔ ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آیا جائے۔ اچھا برتاؤ کیا جائے۔ ایک اولاد کا وجود ہی اس کے والدین کی بدولت ہوتا ہے۔ وہ جب دُنیا میں آتا ہے تو اس کے والدین اس کے لیے تب سے ہی محنت اور کوششوں میں لگ جاتے ہیں کہ وہ اچھے سے اچھی بہترین پرورش اپنی اولاد کی کر سکیں۔ اسے دنیا کی ہر آسائش و دولت اور اچھی تعلیم دے سکیں۔ ایک قابل انسان بنا سکیں جو اپنا نام بنا سکے اور خوب ترقی کر سکے۔ ہر والدین کی یہ کوشش اور خواہش ہوتی ہے کہ وہ جس طرح مرضی سے اپنی اولاد کی خوشیاں پوری کر سکیں۔ ان کو دنیا جہان کی نعمتیں لا کر دے سکیں۔
اگر ایک اولاد یہ سب کبھی سوچے کہ اس کے والدین اس کی پیدائش سے ہی اس کے لیے محنت کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ ایک باپ اپنی اولاد کی پرورش کے لیے دن رات، سردی، گرمی، محنت مشقت کر کے کس طرح سے اس کی سب ضرورتیں پوری کرتا ہے۔ وہ خود بیمار ہو، کتنی بھی مشکلات، پریشانیاں ہوں سب کچھ وہ برداشت کرتا ہے۔ تب بھی اپنی اولاد کے لیے محنت کر کے کما کے لاتا ہے کہ اس کی اولاد بھوکی نہ سو سکے۔ دوسرے بچوں کو دیکھ کر ان کی کوئی حسرت باقی نہ رہ سکے۔
ایسے ہی ایک ماں گھر میں رہ کر اپنی اولاد کو ہر خوشی دیتی ہے۔ اس کا خیال رکھتی ہے، اس کے کھانے پینے، کپڑوں کا سب چیزوں کا دھیان رکھتی ہے۔ اپنی اولاد کو گرمی، سردی، سے بچاتی ہے۔ اس کے گیلے بستر پر خود لیٹ جاتی ہے پر اپنی اولاد کو سنبھال کر پیار سے رکھتی ہے۔ اس کی خاطر سب سے لڑ بھی جاتی ہے۔ دن، رات جاگ کر اس کا دھیان رکھتی ہے۔ جب ایک اولاد بیمار ہوتی ہے تو اس کے والدین بے چین ہو جاتے ہیں۔ ان کی نیندیں تک حرام ہو جاتی ہیں۔ اس کے علاج کے لیے ڈاکڑ کے پاس جاتے ہیں اس کو دوائی دیتے ہیں۔ اس کا بہت زیادہ خیال رکھتے ہیں۔ والدین تڑپ سے جاتے ہیں جب ان کی اولاد کو کوئی چھوٹی سی بھی چوٹ یا کوئی بیماری لگتی ہے۔ وہ کچھ بھی کر کے اپنی اولاد کا علاج کرواتے ہیں، اس کو صحت و تندرست کر کے سکون کا سانس لیتے ہیں۔ ہر والدین اپنی اولاد کی سب فرمائشیں پوری کرتے ہیں۔ ان کی اعلیٰ تعلیم کے لیے محنت کرتے ہیں اور ان کو اعلیٰ افسر بنانے کے لیے بہت کوشش اور محنت کرتے ہی۔ ہر والدین اولاد کی پیدائش سے لے کر اس کی جوانی تک اپنی ہر آسائش، آرام و راحت سب کچھ اپنی اولاد کے لیے قربان کردیتے ہیں۔ اولاد کو یہ سوچنا چاہیئے کہ میں آج جو کچھ بھی ہوں، جتنا بڑا افسر بنا ہوں، اپنے والدین کی بدولت بنا ہوں۔ میں جو کچھ بھی ہوں اسی کی دعاؤں اور محنتوں کے سبب بن سکا ہوں۔ میرا وجود ہی میرے والدین کی وجہ سے ہے۔ ایک انسان اپنے وجود، اپنی شناخت، اور ذات ہر اعتبار سے اپنے والدین کا محتاج ہے۔ انسان پر الله تعالیٰ کا یہ احسان ہے کہ اس کے دنیا میں آنے کا ذریعہ دو شفیق و محبت پیار کرنی والی ہستیوں کو بنا دیا جو اس کی راحت و تسکین، اس کی خاطر ہر مصیبت جھیلنے کو ہر وقت تیار رہتے ہیں۔ ان کے مستقبل کو سنوارنے، ان کی کامیابی کے لیے بہت محنت کرتے ہیں اور ان کی خوشیوں کے لیے اپنی پوری زندگی لگا دیتے ہیں۔ اولاد کے لیے اس کے والدین ہی بہت بڑی نعمت ہوتے ہیں۔ والدین کے سہارے سے اولاد کو کبھی کسی مشکلوں، پریشانیوں، کسی ضرورتوں، کسی بھی قسم کی مسائل، کا سامنا نہیں کرنا پڑتا ہے۔ وہ خود کو بے تاج بادشاہ سمجھتے ہیں اور اسی مزے اور غرور کے ساتھ اپنی زندگی گزارتے ہیں۔ کتنا خوبصورت اور مخلص رشتہ ہوتا ہے والدین کا اور جب یہی والدین ساری زندگی اپنی اولاد کی خاطر محنت کر کے اس کو پالتے ہیں اور خود بڑھاپے میں پہنچ جاتے ہیں تب یہی اولاد اپنے والدین کو کہتی ہے آپ نے ہمارے لیے کیا کیا ہے؟ وہ اپنے والدین کو پوچھتے نہیں ہیں، ان کا خیال، دھیان نہیں رکھتے ہیں۔ ان کی قدر عزت نہیں کرتے ہیں۔ ان کے بڑھاپے کا سہارا نہیں بنتے ہیں۔ ان کی بیماری میں ان کی دوائی اور تیمارداردی کا خیال نہیں رکھتے ہیں۔ ان کو چھوڑ کر چلے جاتے ہیں یا ان کو گھر سے نکال دیتے ہیں اور اولڈ ایج ہوم میں چھوڑ آتے ہیں۔ والدین کی پوری زندگی کی محنت کا یہ صلہ دیتے ہیں۔ ایسی اولاد کو یہ بھی سوچنا چاہئیے کہ یہ دُنیا مکافاتِ عمل کا گھر ہے، اگر آج ہم اپنے بوڑھے والدین کا ساتھ چھوڑ دیں گے، ان کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کریں گے تو کل کو ہماری اولاد جس کے ہم ہر نخرے پورے کرتے ہیں ان کے آرام و آسائش کا خیال کرتے ہیں وہی اولاد ہمارے ساتھ بھی ایسا بد تر سلوک کرے گی اور ہمیں بھی بڑھاپے میں تنہا چھوڑ دے گی، بے گھر کر دے گی۔ ہمارے ساتھ بھی وہی سلوک کیا جائے گا اور تب ہمیں پچھتانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا تب شرمندگی اور پچھتاوے کے سِوا ہمارے پاس کچھ نہیں ہوگا۔ ہمارے وہ عظیم والدین اس دُنیا سے جا چُکے ہونگیں اور ہم صرف اپنے ندامت کے آنسوؤں کے ساتھ اپنی زندگی گُزارتے رہیں گے تب ہمیں معافی مانگنے کا بھی موقع نہیں مِل سکے گا۔ والدین جب دُنیا سے چلے جاتے ہیں نہ تو انسان کی زندگی اس کی دُنیا ہی ویران ہو جاتی ہے۔ اس کے ہر دُکھ، سُکھ، میں شامل ہونے والے اس کو دُعائیں دینے والے اب نہیں رہے۔ اس کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھنے والے اس کو تنہا اس ویران دنیا میں چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔ انسان کی زندگی میں کوئی بھی خوشی آتی ہے وہ پہلے فوراً اپنے والدین کو بتاتا ہے، ان کے پاس جاتا ہے، ان سے دُعائیں لیتا ہے، فوراً اس کے منہ سے یہ الفاظ نِکلتے ہیں میں اپنے والدین کو بتاؤں گا، ان کے پاس جاؤں گا، لیکن وہ والدین جب دُنیا سے ہی چلے جاتے ہیں تو انسان ٹوٹ جاتا ہے، بِکھر جاتا ہے، سب کے ہوتے ہوئے بھی وہ اکیلا، اُداس، اور تنہا ہی رہتا ہے۔ اس کو اپنی پوری زندگی اپنے والدین کے بغیر تنہا حزارنی پڑتی ہے۔ یہی دُنیا کا دستور ہے بس، جو آیا ہے یہاں اس نے واپس پلٹ کر اپنے رب کے پاس جانا ہی ہے اور اگر یہی سب ہم بھی سوچ لیں اور اپنے حیات والدین کی عزت، قدر، کر سکیں ان کے بڑھاپے میں ان کو تنہا نہ چھوڑیں، ان کا خیال رکھیں جیسے بچپن سے انہوں نے ہمارا خیال رکھ کر پالا ہے، تو ہمیں جیتے جی جنت مل جائے گی۔ والدین کا دل جیت لو کامیاب ہو جاؤ گے، ورنہ ساری دُنیا جیت کر بھی ناکام ہی رہو گے۔ جتنی مرضی ترقی کر لو اگر والدین کے ساتھ حُسن سلوک نہیں کیا تو کبھی خوشی اور کامیابی نہیں ملے گی نہ دُنیا والے آپ کو عزت دیں گے۔ "مجھ پر وقف کر گزرے اپنے ہمت و جذبات،
تمام عمر صرف کر گزرے اپنے اوقات و لمحات".
ہماری اسلامی تعلیمات میں والدین کی فرمانبرداری، ان کی خدمت، ان کے ساتھ حُسنِ سلوک، ان کی عزت، قدر کرنے کی سختی کے ساتھ تاکید کی گئی ہے۔ جس پر ہمیں بتایا گیا ہے کہ اولاد پر والدین کا حق ہے۔ ان کے ساتھ حُسن سلوک ان کی خدمت و اطاعت اور ان کی رضا و فرمانبرداری کی بدولت تم جنت حاصل کر سکتے ہو اور ان سے بدسلوکی، نافرمانی، سیدھا تمہیں جہنم میں لے جائے گی۔ اللہ تعالیٰ نے جہاں اپنا شکر کرنے کا حکم دیا ہے وہاں والدین کی شکر گزاری کا بھی حکم دیا ہے۔ لیکن ہم انسان یہ سب باتیں بھول جاتے ہیں اور اپنے والدین کی قدر نہیں کرتے ہیں۔ جب وہ حیات ہوتے ہیں ہمیں ہر موقع پر، ہر بات سے سمجھاتے ہیں، روکتے ٹوکتے ہیں، ہمارے ہر بھلے کی باتیں ہمیں سمجھاتے ہیں۔ پر ہم لوگ ان کی کسی بات کو نہیں مانتے ہیں، ان کی ہر بات پر غصہ کرتے ہیں، ان کو چُپ کروا دیتے ہیں اور ان کی روک ٹوک، پابندیاں، ہمیں بری لگتی ہیں اور یہ باتیں تب ہمیں سمجھ آتی ہیں جب ہم خود والدین بنتے ہیں۔ ہماری اپنی اولاد ہوتی ہے اور اسی طرح ہم ان کو ان کی زندگی کے ہر اچھے برے سے روکتے ہیں۔ ان کو سمجھاتے ہیں کیونکہ والدین کی محبت وہ ہوتی ہے جو زمانے میں ہر اچھائی، بُرائی، کو سمجھتے ہیں اور اپنی اولاد کے مستقبل کے لیے فکرمند رہتے ہیں۔ اس لیے ان کو ہر طرح سے بچانے، سمجھانےکی پوری کوشش کرتے ہیں۔ لیکن اولاد اس بات کو سمجھتی ہی تب ہے جب وہ خود والدین بنتے ہیں اور تب سوائے پچھتاوے کے کچھ نہیں ملتا ہے۔ تب آپ کے والدین دُنیا سے جا چُکے ہوتے ہیں۔ " ڈھونڈو اب اُن کو چراغِ رُخ زیبا لے کر"۔
اگر اولاد یہ سوچے کہ آج کوئی علم حاصل کرنے میں کامیاب ہوا ہے تو صرف اپنے والدین کی بدولت، ان کی محنتوں کا صلہ ہے۔ اگر کسی اولاد پر والدین کا سایہ نہیں ہوتا ہے، وہ پڑھائی چھوڑ دیتا ہے۔ اس کے نصیب میں آرام وآسائش، سکون، پیار والی زندگی نہیں ہوتی ہے۔ وہ خود محنت مزدوری کر کے اپنا گھر چلاتا ہے۔ وہ بُھوک کی خاطر محنت مزدوری کرتا ہے ان کے لیے پڑھائی اور اعلیٰ افسر بننا ایک خواب بن کر رہ جاتا ہے۔ اس بچے کے چہرے پر کوئی رونق نہیں رہتی ہے۔ کوئی خوشی اور مسکراہٹ نہیں ہوتی ہے۔ وہ یتیم بچے ہر وقت اپنے والدین کی محبت کو ترستے ہیں۔ ان کے سر پر باپ کی شفقت کا سایہ نہیں ہوتا ہے۔ ماں کی مامتا ان کو نہیں ملتی ہے اور وہ بے سہارا اپنی زندگی میں تنہا رہتے ہوئے در بدر کی ٹھوکریں کھاتے ہیں۔ ایک اولاد سے سب سے زیادہ محبت کرنے والے اس کے والدین ہی ہوتے ہیں اور انہی والدین کی وجہ سے دُنیا والے اولاد کو پہچانتے اور محبت کرتے ہیں نہیں تو جو یتیم بچے ہوتے ہیں ان سے نہ کوئی محبت کرتا ہے نہ ان بچوں کا کوئی سہارا ہوتا ہے۔ خدارا ! اپنے والدین کی قدر کریں، ان کی عزت کریں، اگر آپ کو والدین جیسی نعمت ملی ہے تو اپنے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں، خوب دعائیں لیں اپنے والدین کی اور ان کی خدمت کریں، ان سے بہت محبت کریں۔ ان کے ساتھ وقت گزاریں۔ اگر بڑھاپے میں ان کی کوئی بات ناگوار لگے کبھی اُف تک نہ کریں پلٹ کر کوئی جواب نہ دیں، ان کو غصے میں کچھ نہ کہیں، ان کو کسی بات سے جھڑپ نہ دیں۔ ان کے آگے محبت، شفقت، عاجزی و انکساری، ادب سے سر جُھکائے کھڑے رہیں، مگر اُن کو کبھی اُف نہیں کہیں۔ ہمیشہ اپنے والدین کے لیے دعائیں کرتے رہیں۔ اے اللہ تو ان پر رحمت فرما جیسے بچپن ميں انہوں نے مجھے پالا ہے،) تمہارا رب تمہارے دلوں کا حال جانتا ہے، تمہاری دعائیں قبول کرے گا۔ دل سے اپنے والدین کا احترام کریں ان کی عزت و قدر کریں،
والدین کا خیال رکھیں ان کی قدر کریں، ان کے لیے اپنی مصروف زندگی میں سے وقت نکالیں، ان جیسی عظیم ہستیوں کا کوئی نعم البدل نہیں ہے۔"
"اُن ہی کے سائے تلے ہیں یہ بہاریں، کہ رکاوٹیں بھی مجھ پر آسائشوں کی طرح برسی،"
اللہ سب کے حیات والدین کو صحت و تندرستی والی، خوشیوں والی زندگی عطا کرے۔ جس کے والدین میں سے کوئی ایک بھی یا دونوں ہی اس دُنیا سے چلے گئے ہیں تو ان کے درجات بلند کر کے ان کی مغفرت و بخشش کرے، آمین ثم آمین
ہر اولاد پر اپنے والدین کا سایہ ہمیشہ سلامت رہے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین
مزید پڑھیں





