Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

وقت کی دھول،تحریر: مہوش بنت بشارت

نقطہ نظر

کائنات کے اس وسیع کینوس پر اگر کوئی چیز سب سے زیادہ خاموش اور طاقتور ہے، تو وہ وقت ہے۔ وقت ایک ایسا مسافر ہے جو کبھی نہیں رکتا، اور اپنے پیچھے جو کچھ چھوڑ جاتا ہے، اسے ہم 'ماضی' کہتے ہیں۔ اسی ماضی کے چہرے پر جو دھندلی سی تہہ جم جاتی ہے، اسے "وقت کی دھول" کہا جاتا ہے۔ یہ دھول مٹی کی نہیں ہوتی، بلکہ یہ یادوں، چہروں، لمحوں اور خوابوں کی راکھ ہوتی ہے جو آہستہ آہستہ ہمارے شعور پر بیٹھتی چلی جاتی ہے۔جب ہم زندگی کے ہنگاموں میں مصروف ہوتے ہیں، تو ہمیں اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ کب کوئی لمحہ ہمارے ہاتھ سے پھسل کر اس دھول کا حصہ بن گیا۔ بچپن کی وہ گلیاں جہاں کبھی ہماری ہنسی گونجتی تھی، پرانے دوستوں کے وہ قہقہے جو کبھی روح کو تازہ کرتے تھے، اور وہ خطوط جن کے لفظ کبھی دل کی دھڑکن تیز کر دیتے تھے۔آج ان سب پر وقت کی ایک گہری دھول جم چکی ہے۔ اگر آپ کبھی اپنے پرانے گھر کے کسی بند کمرے کو کھولیں، تو وہاں رکھی ہوئی پرانی کتابوں، دھندلے آئینوں اور بوسیدہ کھلونوں پر جمی مٹی دراصل وقت کی وہی خاموش دستک ہوتی ہے جو ہمیں یاد دلاتی ہے کہ کچھ بھی مستقل نہیں ہے۔وقت کی دھول صرف چیزوں پر ہی نہیں، بلکہ جذبوں اور رشتوں پر بھی جمتی ہے۔ وہ محبتیں جن کے بغیر جینا محال لگتا تھا، وہ نفرتیں جن کی آگ میں انسان برسوں جلتا ہے، اور وہ صدمے جو کبھی ناقابلِ برداشت محسوس ہوتے تھے، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سب دھیمے پڑ جاتے ہیں۔ یہ وقت کی دھول کا ایک مثبت پہلو بھی ہے؛ یہ ایک مرہم کی طرح کام کرتی ہے۔ یہ زخموں کو بھر دیتی ہے، درد کی شدت کو کم کرتی ہے اور انسان کو دوبارہ جینے کے قابل بناتی ہے۔ اگر یہ دھول نہ ہو، تو انسان اپنے ماضی کے ملبے تلے دب کر پاگل ہو جائے۔لیکن اس کا دوسرا رخ بڑا دردناک ہے۔ یہ دھول بسا اوقات اتنی گہری ہو جاتی ہے کہ انسان خود اپنی اصل پہچان کھو بیٹھتا ہے۔ ہم دنیا کی دوڑ میں اتنے آگے نکل جاتے ہیں کہ اپنے اندر کے اس معصوم انسان کو بھول جاتے ہیں جو کبھی چھوٹی چھوٹی چیزوں میں خوشیاں ڈھونڈتا تھا۔ ہم پر عہدوں، پیسوں اور معاشرتی رتبوں کی ایک ایسی دھول جم جاتی ہے کہ مخلص رشتے اور سچی مسکراہٹیں اس کے نیچے دفن ہو جاتی ہیں۔مگر وقت کی اس دھول کی ایک خاصیت ہے؛ یہ کبھی مستقل نہیں ہوتی۔ جب کبھی یادوں کی کوئی تیز ہوا چلتی ہے، یا کوئی پرانی دھن کانوں میں رس گھولتی ہے، یا کوئی پرانا شناسا چہرہ اچانک سامنے آ جاتا ہے، تو یہ دھول ایک لمحے میں اڑ جاتی ہے۔ سب کچھ اتنا ہی صاف اور تازہ نظر آنے لگتا ہے جیسے کل ہی کی بات ہو۔ انسان تڑپ اٹھتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ دھول تو ہٹائی جا سکتی ہے، لیکن گزرا ہوا وقت کبھی واپس نہیں لایا جا سکتا۔ہم سب وقت کے اس سفر میں ایسے ہی مسافر ہیں جن کے پاؤں تلے سے لمحوں کی ریت نکل رہی ہے۔ دانشمندی اسی میں ہے کہ ہم اس دھول کے نیچے دبنے کے بجائے، ہر لمحے کو بھرپور طریقے سے جئیں، تاکہ جب زندگی کے آخری موڑ پر ہم پیچھے مڑ کر دیکھیں، تو ہمیں وقت کی دھول کے نیچے صرف پچھتاوے نہیں، بلکہ خوبصورت یادوں کے جگنو چمکتے ہوئے نظر آئیں۔