وہ ایجاد جس نے دنیا بدل دی،تحریر: انیم چوہدری
نقطہ نظر
کبھی کبھی دنیا بدلنے والی چیزیں اتنی معمولی ہوتی ہیں کہ ان کے سامنے سے گزرتے ہوئے ہمیں اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ ہم تاریخ کے کسی بڑے موڑ کے قریب سے گزر رہے ہیں۔ آج ہم چند سیکنڈ میں دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پیغام پہنچا دیتے ہیں۔ ہزاروں میل دور بیٹھے کسی شخص سے بات کر لیتے ہیں، اس کی تصویر دیکھ لیتے ہیں، ویڈیو سن لیتے ہیں اور اپنی ضرورت کی معلومات ایک لمحے میں تلاش کر لیتے ہیں۔ ہمیں یہ سب کچھ اتنا معمولی لگتا ہے کہ شاید ہی کبھی خیال آتا ہو کہ اس سہولت تک پہنچنے میں انسان نے کتنے برس لگائے۔ یہ کہانی انٹرنیٹ کی ہے۔ کہانی کا آغاز بیسویں صدی کے وسط میں ہوتا ہے، جب دنیا سرد جنگ کے خوف میں مبتلا تھی۔ امریکہ اور سوویت یونین ایک دوسرے کے مقابل کھڑے تھے اور ایٹمی جنگ کا خدشہ ہر وقت موجود رہتا تھا۔ اسی ماحول میں امریکی تحقیقاتی ادارے ایک ایسے مواصلاتی نظام پر کام کر رہے تھے جس میں معلومات کسی ایک مرکزی مقام پر منحصر نہ ہوں۔ اگر نیٹ ورک کا ایک حصہ ناکام بھی ہو جائے تو رابطہ کسی دوسرے راستے سے قائم رہ سکے۔ یہ خیال اُس وقت شاید بہت عجیب محسوس ہوتا تھا، لیکن آگے چل کر اسی سوچ نے دنیا بدل دی۔ 1969ء میں ARPANET کے ذریعے مختلف مقامات پر موجود کمپیوٹروں کے درمیان رابطے کا ایک اہم تجربہ کیا گیا۔ 29 اکتوبر کو یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، لاس اینجلس سے اسٹینفورڈ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی طرف پیغام بھیجنے کی کوشش کی گئی۔
پیغام کا لفظ تھا:
LOGIN
پہلا حرف، L، دوسری طرف پہنچ گیا۔
پھر O بھی کامیابی سے پہنچ گیا۔
لیکن جب G بھیجا گیا تو نظام رک گیا۔
یوں تاریخ کا پہلا ARPANET پیغام مکمل لفظ "LOGIN" نہیں بلکہ صرف دو حروف، "LO" بن کر رہ گیا۔ بظاہر یہ ایک چھوٹی سی ناکامی تھی، مگر شاید تاریخ کی خوبصورتی بھی یہی ہے کہ بعض اوقات بڑے سفر کا آغاز ایک ادھورے جملے سے ہوتا ہے۔ وقت گزرتا گیا۔ مختلف اداروں اور تحقیقی مراکز میں نیٹ ورک بننے لگے، مگر ایک مسئلہ ابھی باقی تھا۔ مختلف نیٹ ورک ایک دوسرے سے آسانی سے بات نہیں کر سکتے تھے۔ انہیں ایک ایسے مشترکہ طریقے کی ضرورت تھی جس کے ذریعے مختلف کمپیوٹر نیٹ ورک آپس میں رابطہ قائم کر سکیں۔ 1970ء کی دہائی میں ونٹ سرف اور باب کاہن نے ایسے اصولوں پر کام کیا جو مختلف نیٹ ورکس کو ایک دوسرے سے جوڑنے میں مدد دے سکتے تھے۔ یہی کام آگے چل کر TCP/IP کی بنیاد بنا۔
پھر 1 جنوری 1983ء کو ARPANET نے TCP/IP کو اپنے بنیادی مواصلاتی پروٹوکول کے طور پر اختیار کیا۔ یہ انٹرنیٹ کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل تھا۔ مختلف نیٹ ورکس کے درمیان رابطے کا راستہ مزید واضح ہو گیا۔ لیکن اس وقت بھی انٹرنیٹ عام آدمی کی دنیا سے بہت دور تھا۔ یہ زیادہ تر جامعات، تحقیقی مراکز اور مخصوص اداروں تک محدود تھا۔ عام آدمی کے لیے کمپیوٹر کی اسکرین پر نظر آنے والے پیچیدہ حروف اور کمانڈز کسی اجنبی زبان سے کم نہیں تھے۔پھر 1989ء میں ایک برطانوی سائنسدان نے معلومات کی دنیا کے بارے میں ایک ایسا خیال پیش کیا جس نے آنے والے برسوں کا نقشہ بدل دیا۔اس شخص کا نام ٹم برنرز لی تھا۔ سوئٹزرلینڈ میں CERN کی لیبارٹری میں کام کرتے ہوئے اس نے ایسا نظام تجویز کیا جس کے ذریعے مختلف دستاویزات اور معلومات کو آپس میں hyperlinks کے ذریعے جوڑا جا سکے۔ یہی تصور آگے چل کر World Wide Web کے نام سے دنیا کے سامنے آیا۔ اب معلومات صرف ایک کمپیوٹر میں بند نہیں رہنی تھی۔ ایک صفحے سے دوسرے صفحے تک جانا ممکن تھا۔ ایک لنک دوسرے دروازے تک لے جاتا اور دوسرا دروازہ کسی نئی دنیا میں داخل کر دیتا۔ یہ وہ مرحلہ تھا جب انٹرنیٹ آہستہ آہستہ ماہرین کی دنیا سے نکل کر عام لوگوں تک پہنچنے لگا۔ لیکن ایک نئی مشکل سامنے آ گئی۔ معلومات اتنی زیادہ ہو گئیں کہ ضرورت کی چیز تلاش کرنا آسان نہیں رہا۔1998ء میں لیری پیج اور سرگئی برن نے Google کو باقاعدہ کمپنی کی شکل دی۔ تلاش کا یہ نیا انداز تیزی سے مقبول ہوا اور دنیا بھر میں پھیلی معلومات تک رسائی پہلے سے کہیں آسان ہو گئی۔ پھر 2004ء میں Facebook آیا اور 2005ء میں YouTube نے لوگوں کو اپنی بات، اپنی تصاویر اور اپنی ویڈیوز دنیا کے ساتھ شیئر کرنے کا ایک نیا راستہ دے دیا۔ انٹرنیٹ اب صرف معلومات حاصل کرنے کی جگہ نہیں رہا تھا۔ یہ لوگوں کو ایک دوسرے سے ملانے لگا تھا۔ اور پھر 2007ء میں Apple کے iPhone نے اسمارٹ فون کے استعمال کو ایک نئی سمت دی۔ انٹرنیٹ کمپیوٹر کی میز سے نکل کر ہماری جیب تک پہنچ گیا۔ آج صورتِ حال یہ ہے کہ ہم زندگی کے بے شمار کاموں کے لیے اسی عالمی نیٹ ورک پر انحصار کرتے ہیں۔ تعلیم ہو، تجارت ہو، بینکنگ ہو، روزگار ہو یا دنیا کے کسی دوسرے حصے میں موجود اپنے کسی عزیز سے رابطہ—انٹرنیٹ ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔ اور اب مصنوعی ذہانت اس سفر میں ایک اور باب کا اضافہ کر رہی ہے۔ سوچتا ہوں تو حیرت ہوتی ہے کہ ایک وقت میں صرف دو حروف "LO" دوسری مشین تک پہنچنا ایک بڑی کامیابی سمجھی گئی تھی۔ آج ہم چند الفاظ لکھ کر دنیا بھر کی معلومات اپنے سامنے لے آتے ہیں۔یہ صرف ٹیکنالوجی کی ترقی کی کہانی نہیں۔ یہ انسان کی اس خواہش کی کہانی ہے کہ وہ دور بیٹھے انسان تک پہنچ سکے، معلومات کو محفوظ رکھ سکے اور دنیا کو ایک دوسرے کے قریب لا سکے۔ شاید اسی لیے انٹرنیٹ کی سب سے بڑی ایجاد مشینیں نہیں، رابطہ ہے۔ کبھی دو کمپیوٹروں کے درمیان صرف دو حروف پہنچے تھے۔ آج انہی رابطوں نے پوری دنیا کو ایک دوسرے کے قریب کر دیا ہے۔اور شاید آنے والی نسلیں جب ہماری اس دنیا کو دیکھیں گی تو انہیں حیرت ہوگی کہ کبھی انسانوں کے لیے ایک دوسرے تک پہنچنا بھی اتنا مشکل ہوا کرتا تھا۔
مزید پڑھیں





