یادیں سرمایہ حیات ہوتی ہیں اور ہمارا قیمتی اثاثہ اور تنہائی کا بہترین ساتھی بھی ہوتی ہیں۔ جو کبھی تنہا رہنے ہی نہیں دیتیں ۔جب عمر کا پنچھی بہت آگے نکل جاتا ہے تو یادوں کا پنچھی ہمراہ ہوجاتا ہے ۔آپ تنہا ہوں تو یادوں کا پنچھی آپ کو بچپن میں لے جا تا ہے۔ جہاں بےفکری تھی، خوشیاں تھیں، دل بہت بڑا اور دکھ بہت چھوٹے ہوتے تھے۔ سب ساتھ ہوتے تھے۔ شرارت، ہنسی، مل جل کے رہنا پسند تھا۔اکٹھےکھانا، پینا ،سونا سب اچھا لگتا تھا۔ چھوٹے بڑوں کو کھیل میں شامل کرنا اچھا لگتا تھا۔ وقت اور محبتں سب کچھ تو وافر مقدار میں تھا۔ اپنے پرائے کا کوئی فرق نہ تھا۔ نہ بچوں کو سمجھایا جاتا تھا۔ آس پاس رہنے والے کیا پورا محلہ ایک ہوتا تھا۔ سب کے دکھ سکھ سانجھے ہوتے تھے۔
کسی ایک کی مشکل سب کے لئے مسئلہ بن جاتی تھی کہ ختم کیسے کریں ۔کسی ایک کے گھر ٹی وی ہوتا تھا۔ پورا محلہ ڈرامہ دیکھنے اکٹھا ہوتا تھا نہ صاحب خانہ کو اعتراض نہ لوگوں کو۔ کسی کے گھر فریج ہوتا یا فون اسے اپنا ہی سمجھا جاتا تھا۔ دن رات کی تمیز نہیں کی جاتی تھی ۔
پڑوسیوں کے گھر جانا ،ہم جولیوں کے ساتھ رہنے اور کھیلنے پر کوئی پابندی نہ گھر والوں کی طرف سے ہوتی تھی نہ معاشرہ کوئی پابندی عائد کرتا تھا۔خوبصورت رشتوں کا بہت مان رکھا جاتا تھا۔ کوئی ڈر، کوئی خوف کسی کو لاحق نہ تھا۔
کبھی لبوں پہ مسکان آتی اور کبھی آنکھ بھر آتی ۔دلوں میں کینہ اور بغض نہیں تھا ۔مقابلہ بازی نہیں ہوتی تھی،آزادی اور بےپرواہی سے ہر جگہ گھوما جا سکتا تھا۔دوستوں کے ساتھ رہنا اور ہر وقت رہ کر بھی دل نہیں بھرتا تھا۔زندگی کا خوبصورت ترین حصہ ہوتا ہے ۔
وقت کا پیہہ تھوڑا آگے چلتا ہے تو پھر یادوں کا پنچھی سکول و کالج کی منڈیر پہ جا بیٹھتا ہے پڑھائی، یونیفارم، سفر ،دوست، فیورٹ ٹیچر، مستیاں کیا کچھ یاد نہیں آتا ۔
ایک دوسرے کو کارڈز اور تحفے تحائف سے نوازا جاتا۔ عید آتی تو اپنی تیاری کے ساتھ عیدی دینے کی تیاری شروع ہوجاتی۔عید کے تیاریوں میں نیا سوٹ، پرس، مہندی، چوڑیاں پہن کر تیار ہونا اور دوستوں کے گھر جانا۔
انا دھیرے دھیرے سر اٹھانا شروع ہوجاتی ہے ۔
محبت، دوستی،ناراضگی، دکھ اورانا کے جذبے زندگی میں شامل ہو نے لگتے ہیں۔ سب اچھے لگتے ہیں اور لگتا ہے ہر کسی سے محبت ہوتی ہے۔ شرم وحیا کا پیراہین تو زیب تن کرنا شروع کردیتے ہیں ساتھ سجنا سنورنا بھی اچھا لگنے لگتا ہے۔پھر پابندیوں کی بیڑیاں راستہ روکنے لگتی ہیں۔ وہ بے فکری کے دن اور قہقہے سمٹنے لگتے ہیں۔محبت کی وادی کے راستوں اور وہاں کی مشکلوں سے انجان ہو کر بھی اس وادی میں جانے کے لیے سب بے قرار ہوتے تھے۔پھر بہت سے لوگ راستہ بھٹک کر منزل گنوا دیتے ہیں اور تاعمر راندہ درگاہ ہوجاتے ہیں ۔بہت کم لوگ منزل تک پہنچ پاتے ہیں ۔
کبھی یاد کا پنچھی اس دیس میں لے جا تا ہے جہاں وہ لوگ ہوتے ہیں جو ہم سب کو چھوڑ کر اپنی ایک الگ دنیا بسا چکے ہوتے ہیں. ہمارے آنسو اور آ ہیں بھی ان کو واپس نہیں بلاسکتے لیکن جب وہ ہمارے درمیان موجود تھے۔ ہمارے ساتھ ہوتے تھے۔ دکھ سکھ میں شامل ہوتے تھے۔ ان کا پیار ،احساس، غصہ سب بہت یاد آتا ہے۔ ہر قدم پہ، ہر خوشی ،ہر غم، ہر کامیابی اور ہر تکلیف میں ان کی کمی رلا تی ہے مگر یہی قانون قدرت ہے ۔ایک دن سب نے جانا ہے۔جانے والوں نے واپس نہیں آنا ہم نے ہی ان کے پاس جانا ہے۔دکھ وہ رب کائنات دیتا ہے تو پھر صبر بھی وہی دے دیتا ہے جن کے بنا ایک پل نہیں گزرتا تھا پھر ان کے بنا زندگی گزارنے کا ڈھنگ بھی وہی رب کائنات دیتا ہے ۔کتنے پیارے رشتے منوں مٹی تلے سو جاتے ہیں اور ہمیں دنیا کی سختیاں اور سردوگرم سہنے کے لئے چھوڑ جاتے ہیں۔
پتہ ہی نہیں چلتا وقت کتنی تیزی سے منزلیں طے کرتا ہے۔
اور پھر یادوں کا پنچھی اڑتے اڑتے اس زمانے میں لے جاتا ہے جب شعور بیدار ہو جاتاہے۔ ذمےداری کا احساس بڑھ جاتا ہے۔ جذبے حاوی ہو نے لگتے ہیں۔ وادئ محبت کے راستے سمجھ میں آنے لگتے ہیں ۔کوئی ایک محبت کے پنجرے میں قید کردیتا ہے اور دنیا اسی تک محدود ہوجاتی ہے۔ غم کے بادل، خوشی کے جگنو ، ہنسی کی کھنک، بارش کے قطرے ،اڑتےبادل، ہوا کی مستی ،خوشبو کا جادو ،ہر موسم سہانا لگتا ہے اور اپنی ذات تک اس کے بنا ادھوری لگتی ہے ۔کائنات کا ہر رنگ دلکش و دل آ ویز لگتا ہے۔ اور پھر محبت کرنے والے اگر نصیب کے چکر میں آجائیں تو ہجر کا زہر رگوں میں اتر کر دل میں بسی محبت کو تو مارتا ہی ہے اپنے ساتھ ہنسی،خوشی،اعتبار ،مستی، رونق اور موسم کی خوبصورتی تک ختم کر دیتا ہے ۔کائنات بے رونق لگتی ہے تو ہجوم میں دل گھبرانے لگتا ہے۔ ٹھوکر لگتی ہے تو شعور بیدار ہو تا ہے۔اچھے برے کی سمجھ آتی ہے تو لالچ،کینہ ،دھوکہ دہی اور مطلب کا ہر رویہ، ہر بات، ہر انداز سمجھ میں آنے لگتا ہے۔انسان وقت کے ساتھ سنبھل تو جاتا لیکن بےحس ہوجاتا ہے۔وقت کی دھول میں جذبات دفن ہوجاتے ہیں۔ جب انسان تنہا ہوجاتا ہے اور یادوں کا پنچھی ہم سفر بن جاتاہے تب ہم زندگی نہیں گزارتے بلکہ زندگی ہمیں گزار رہی ہوتی ہے۔ بہت اداسی ہو،تنہائی ہو اور یادوں کا پنچھی ہم سفر ہو تو وقت کے گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوتا۔
آج کے دور میں جب دنیا ترقی کی منازل طے کرتی جارہی ہے ۔مگر وہ اخلاص،محبتیں، ہمدردی و مروت، وہ اپنا پن، احساس ذمے داری بیگانوں کےلئے کیا اپنوں کےلیے ختم ہوتا جا رہا ہے۔رشتوں کا تقدس تک بھول رہے ہیں ۔شائد ہم لوگ محبت کی صدی میں جینے والی آخری نسل ہیں ۔اب وقت اور تمام جذبے ناپید ہوتے جارہے ہیں ۔
کتنی عجیب بات ہے ناں کہ جب باتوں اور رویوں کی سمجھ آنے لگتی ہے اور انسان خالق کائنات کے سب رنگ دیکھ کر سمجھنے لگتا ہے تو عمر کی نقدی ختم ہونے کے قریب ہوتی ہے ۔ زندگی کی عصر ہو جاتی ہے اور عشا کا وقت ہوا چاہتا ہے زندگی کو سمجھنے لگتے ہیں تو زندگی ختم ہونے لگتی ہے اور گذرا ہوا وقت واپس نہیں آتا سو زندگی ایسے گذارو کہ جانے کے بعد لوگ اچھے لفظوں میں یاد کریں۔
مزید پڑھیں






