یومِ اساتذہ: خراجِ تحسین یا تجدیدِ عہد؟تحریر: یاسمین اختر طوبیٰ
نقطہ نظر
اکتوبر آتا ہے تو ایک دن اچانک ہمیں استاد یاد آ جاتا ہے۔ پھول خریدے جاتے ہیں، تقریریں لکھی جاتی ہیں، سوشل میڈیا پر عقیدت کے جملے سجائے جاتے ہیں اور استاد کو قوم کا معمار، محسن اور رہبر قرار دیا جاتا ہے۔ چند گھنٹوں کے لیے الفاظ بہت خوب صورت ہو جاتے ہیں مگر اگلے ہی دن زندگی اپنی پرانی رفتار پر لوٹ آتی ہے۔ استاد پھر وہی کمروں، فائلوں، نصاب، امتحانات اور مسائل کے درمیان کھڑا نظر آتا ہے۔ تب سوال اٹھتا ہے کہ یومِ اساتذہ واقعی خراجِ تحسین ہے یا ہماری اجتماعی بے حسی پر ایک خوب صورت پردہ؟
استاد کو پھول دینا آسان ہے، استاد کی بات سننا مشکل۔ استاد کے لیے تقریر کرنا آسان ہے، استاد کے مسائل سمجھنا مشکل۔ استاد کو "قوم کا معمار" کہنا آسان ہے مگر معمار کو وہ ماحول دینا مشکل ہے جس میں وہ مضبوط عمارت تعمیر کر سکے۔ ہم عجیب قوم ہیں، ہمیں عمارت خوب صورت چاہیے مگر اینٹیں، سیمنٹ اور بنیاد کی فکر نہیں۔ ہم تعلیم کا معیار بلند دیکھنا چاہتے ہیں مگر استاد کے معیارِ زندگی، تربیت، ذہنی آسودگی اور پیشہ ورانہ آزادی پر بات کرتے ہوئے ہماری آواز مدھم پڑ جاتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ استاد کسی قوم کا صرف ملازم نہیں ہوتا، وہ اس قوم کے مستقبل کا نگہبان ہوتا ہے۔ ڈاکٹر جسم کا علاج کرتا ہے، انجینئر عمارتیں بناتا ہے، وکیل قانون کی زبان بولتا ہے مگر استاد انسان بناتا ہے اور انسان بنانا شاید دنیا کا سب سے مشکل کام ہے۔ استاد ایک خام ذہن کے سامنے کھڑا ہوتا ہے اور اسے محض کتاب نہیں پڑھاتا، اسے دنیا پڑھنے کا ہنر سکھاتا ہے۔ وہ بچے کو الفاظ دیتا ہے تاکہ وہ اپنی خاموشی توڑ سکے، سوال دیتا ہے تاکہ وہ اندھی تقلید سے بچ سکے اور علم دیتا ہے تاکہ وہ اپنے زمانے کے سامنے سر اٹھا کر کھڑا ہو سکے۔
مگر ہمارے ہاں استاد سے بھی عجیب توقعات وابستہ ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ سقراط کی طرح سوال اٹھائے، ارسطو کی طرح سوچ پیدا کرے، ابنِ سینا کی طرح علم دے مگر اس کے ہاتھ میں اکثر ایسا نظام تھما دیتے ہیں جو سوال سے زیادہ خاموشی، تحقیق سے زیادہ رٹنے اور تخلیق سے زیادہ نمبر کو اہمیت دیتا ہے۔ ہم بچے کو کہتے ہیں کہ "کیوں؟" پوچھو، پھر استاد سے کہتے ہیں کہ نصاب سے باہر مت جاؤ۔ ہم تخلیقی نسل چاہتے ہیں مگر تعلیم کو امتحانی پرچوں کی لکیر پر دوڑاتے ہیں۔ پھر حیران ہوتے ہیں کہ نوجوانوں میں سوال کیوں کم اور نقل کیوں زیادہ ہے۔
تعلیم صرف کتاب کے صفحات نہیں، ذہن کے دریچے کھولنے کا نام ہے۔ اگر کلاس روم میں بچے کے ذہن میں سوال پیدا نہیں ہو رہا تو چاہے وہ کتنی ہی کتابیں پڑھ لے، علم کا سفر ادھورا رہے گا۔ ایک اچھا استاد وہ نہیں جو اپنے شاگرد کو ہر سوال کا جواب بتا دے، اچھا استاد وہ ہے جو اسے ایسا ذہن دے کہ وہ اپنے سوال کا جواب خود تلاش کر سکے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں استاد محض معلّم نہیں رہتا، وہ تبدیلی کا محرک بن جاتا ہے۔
تاریخ پر نظر دوڑائیں، دنیا میں جتنے بڑے فکری اور سماجی انقلاب آئے، ان کے پیچھے کتاب، قلم اور استاد کا کردار کہیں نہ کہیں موجود تھا۔ انقلاب ہمیشہ میدانِ جنگ میں نہیں آتا۔۔ کبھی وہ ایک خاموش کلاس روم میں جنم لیتا ہے، کبھی ایک استاد کسی طالب علم سے ایسا سوال پوچھ دیتا ہے جو اس کی پوری زندگی کا رخ بدل دیتا ہے اور کبھی کسی کتاب کا ایک جملہ ذہن میں ایسی چنگاری پیدا کرتا ہے جو برسوں بعد پورے معاشرے کو روشن کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ بندوق جسم کو خاموش کر سکتی ہے مگر ایک بیدار ذہن کو ہمیشہ کے لیے خاموش نہیں کیا جا سکتا۔
اسی لیے استاد کی اصل طاقت اس کا ڈنڈا، اس کا عہدہ یا اس کی کرسی نہیں، اس کا علم اور کردار ہے۔ شاگرد کتاب سے پڑھ بہت کچھ سیکھتا ہے مگر استاد سے بہت کچھ دیکھ کر سیکھتا ہے۔ اگر استاد وقت کی پابندی کرتا ہے تو طالب علم وقت کی قدر سیکھتا ہے۔ اگر استاد دلیل سے بات کرتا ہے تو طالب علم اختلاف کا سلیقہ سیکھتا ہے۔ اگر استاد انصاف کرتا ہے تو طالب علم عدل کا مفہوم سمجھتا ہے اور اگر استاد خود مایوسی کا شکار ہو تو اس کی مایوسی بھی کلاس روم میں منتقل ہوتی ہے۔ اس لیے استاد کی شخصیت خود ایک خاموش نصاب ہے، جسے کوئی بورڈ، کوئی کتاب اور کوئی امتحانی پرچہ تبدیل نہیں کر سکتا۔
یہاں والدین اور معاشرے کو بھی اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے۔ ہم نے تعلیم کو ایک دوڑ بنا دیا ہے۔ بچہ نمبر لے تو خوشی، کم نمبر لے تو مایوسی۔۔ ڈاکٹر بنے تو فخر، استاد بنے تو خاموش مسکراہٹ۔ ہم اپنے بچوں کو بتاتے ہیں کہ بڑے ہو کر کامیاب انسان بننا، مگر بہت کم لوگ انہیں کہتے ہیں کہ اچھا انسان بھی بننا۔ شاید یہی وہ مقام ہے جہاں ہماری ترجیحات شکست کھا جاتی ہیں۔ ہم نے کامیابی کی تعریف اتنی مختصر کر دی ہے کہ کردار اس میں جگہ ہی نہیں پاتا۔
یومِ اساتذہ ہمیں اس تلخ حقیقت کا سامنا بھی کراتا ہے کہ اگر استاد معاشرے میں عزت کھو دے تو علم کی وقعت بھی کم ہونے لگتی ہے۔ استاد کی عزت محض اس کے لیے نہیں، پوری قوم کے لیے ضروری ہے لیکن عزت صرف الفاظ سے نہیں ہوتی۔ عزت یہ بھی ہے کہ استاد کو سیکھنے کا موقع ملے، تحقیق کے وسائل ملیں، اس کی پیشہ ورانہ رائے کو اہمیت دی جائے، اسے غیر ضروری بوجھ تلے نہ دبایا جائے اور اس کے منصب کو محض ملازمت سمجھنے کے بجائے ایک فکری ذمہ داری تصور کیا جائے۔ہ
آج ٹیکنالوجی نے علم کے دروازے پہلے سے کہیں زیادہ کھول دیے ہیں۔ ایک طالب علم چند لمحوں میں ہزاروں معلومات تک پہنچ سکتا ہے۔ مصنوعی ذہانت سوالوں کے جواب دے سکتی ہے، مشینیں زبانوں کا ترجمہ کر سکتی ہیں، کتابیں ایک چھوٹی سی اسکرین میں سما سکتی ہیں مگر ایک سوال آج بھی زندہ ہے: معلومات کو علم کون بنائے گا اور علم کو حکمت کون؟ یہاں استاد کی ضرورت ختم نہیں ہوتی بلکہ پہلے سے بڑھ جاتی ہے۔ آنے والے زمانے کا استاد شاید ہر سوال کا جواب جاننے والا شخص نہ ہو، مگر اسے یہ ضرور جاننا ہوگا کہ کون سا سوال پوچھنا ہے، کون سی بات قابلِ اعتبار ہے اور علم کو انسانیت کے فائدے کے لیے کیسے استعمال کرنا ہے۔
اس لیے یومِ اساتذہ پر ہمیں صرف استاد کو سلام نہیں کرنا چاہیے، ہمیں اس نظام کو بھی سلامتی دینی چاہیے جس میں استاد اپنا کام کر سکے۔ اگر ہم واقعی استاد کو قوم کا معمار سمجھتے ہیں تو پھر درس گاہوں کو قوم کی تعمیر کے مراکز بنانا ہوگا۔ اگر ہم واقعی نوجوانوں کو مستقبل کا سرمایہ سمجھتے ہیں تو پھر ان کے ذہنوں کو محض امتحانی پرچوں کا گودام بنانے کے بجائے فکر، تحقیق، سوال اور تخلیق کی تجربہ گاہ بنانا ہوگا۔
یومِ اساتذہ کا سب سے بڑا سوال یہی ہے: ہم استاد کو کیا دے رہے ہیں اور اس سے کیا توقع کر رہے ہیں؟ اگر ہم چاہتے ہیں کہ وہ نسلوں کے ذہن روشن کرے تو ہمیں اس کے اپنے راستے سے اندھیرے ہٹانے ہوں گے، اگر ہم چاہتے ہیں کہ وہ بچوں میں اعتماد پیدا کرے تو اسے خود بے یقینی میں نہیں رکھ سکتے اور اگر ہم چاہتے ہیں کہ وہ نوجوانوں کو مستقبل کے لیے تیار کرے تو ہمیں خود تعلیم کے مستقبل کے بارے میں سنجیدہ ہونا ہوگا۔
استاد کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا بہترین طریقہ یہ نہیں کہ ایک دن اس کے گلے میں پھول ڈال کر اگلے دن اسے بھول جائیں۔ اصل خراج یہ ہے کہ اس کے پڑھائے ہوئے سبق کو زندگی میں اتارا جائے، اگر اس نے سچ سکھایا ہے تو سچ بولا جائے، اگر سوال کرنا سکھایا ہے تو سوال کیا جائے، اگر کتاب سے محبت سکھائی ہے تو کتاب سے رشتہ قائم رکھا جائے اور اگر اس نے یہ بتایا ہے کہ ایک بہتر معاشرہ ممکن ہے تو پھر اس امکان پر یقین بھی رکھا جائے اور اسے حقیقت بنانے کے لیے کردار بھی ادا کیا جائے۔
بلآخرکار استاد تخت پر نہیں بیٹھتا۔مگر تخت پر بیٹھنے والوں کی تربیت ضرور کرتا ہے۔ وہ اقتدار کے ایوانوں میں نہیں ہوتا مگر انہی ایوانوں تک پہنچنے والے ذہنوں کی بنیاد رکھتا ہے۔ اس کے ہاتھ میں بظاہر صرف قلم ہوتا ہے مگر یہی قلم آنے والے وقت کی سمت متعین کر سکتا ہے۔ اس کے سامنے بظاہر ایک کلاس ہوتی ہے مگر حقیقت میں پوری نسل بیٹھی ہوتی ہے۔
سو اس یومِ اساتذہ پر پھول ضرور دیں مگر صرف پھول نہ دیں، تالیاں ضرور بجائیں مگر صرف تالیاں نہ بجائیں، چند خوب صورت جملے ضرور کہیں مگر ان جملوں کو عمل کی زبان بھی دیں کیونکہ استاد کو ایک دن یاد کرنا خراجِ تحسین ہے مگر استاد کے مقام، علم کی حرمت اور تعلیم کی عظمت کو اپنی قومی ترجیح بنانا تجدیدِ عہد ہے
اور قومیں صرف خراجِ تحسین سے نہیں بنتیں، قومیں اس وقت بنتی ہیں جب وہ اپنے معماروں کی قدر کرنا سیکھ لیتی ہیں۔





