ہم نے زندگی کو آسان نہیں، صرف مصروف بنایا ،تحریر:انجینیئرعلی رضوان چودھری
نقطہ نظر
ہم ایک عجیب دور میں داخل ہو چکے ہیں۔ ہمارے پاس وقت بچانے کے لیے موبائل ہے، فاصلے ختم کرنے کے لیے انٹرنیٹ ہے، خریداری کے لیے گھر بیٹھے ہزاروں سہولتیں ہیں، سفر کے لیے جدید گاڑیاں ہیں، علاج کے لیے جدید مشینیں ہیں اور رابطے کے لیے ایک لمحے میں پوری دنیا ہماری انگلیوں کے نیچے موجود ہے۔ بظاہر زندگی پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہو چکی ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم پہلے سے زیادہ پُرسکون بھی ہوئے ہیں۔
ہم نے زندگی کو آسان نہیں کیا، ہم نے صرف اسے مصروف بنا دیا ہے۔
صبح آنکھ کھلتے ہی موبائل ہاتھ میں آ جاتا ہے۔ رات سونے سے پہلے بھی آخری نظر اسکرین پر ہوتی ہے۔ دن بھر پیغامات، کالز، ای میلز، سوشل میڈیا، کاروباری مصروفیات اور نجی معاملات ایک دوسرے میں اس طرح الجھے رہتے ہیں کہ انسان اپنے آپ سے بات کرنے کے لیے بھی وقت نہیں نکال پاتا۔ ہم دوسروں سے مسلسل رابطے میں ہیں، مگر اپنے دل سے ہمارا رابطہ کمزور ہوتا جا رہا ہے۔
کبھی لوگ شام کے وقت گھر کے صحن میں بیٹھ کر ایک دوسرے کا حال پوچھتے تھے۔ بزرگ قصے سناتے، بچے کھیلتے اور گھر کے افراد ایک دوسرے کے دکھ سکھ بانٹتے تھے۔ آج ایک ہی کمرے میں بیٹھے پانچ افراد کے ہاتھوں میں پانچ موبائل ہیں۔ ہر شخص کسی دوسرے شخص کی زندگی دیکھ رہا ہے، مگر سامنے بیٹھے انسان کی آنکھوں میں چھپی تھکن دیکھنے والا کوئی نہیں۔
یہ کیسی ترقی ہے کہ رابطے بڑھ گئے مگر گفتگو کم ہوگئی؟
ہم نے مشینیں اس لیے بنائیں کہ انسان کا وقت بچے، مگر انسان نے بچا ہوا وقت بھی نئی مصروفیات کو دے دیا۔ پہلے خط لکھنے میں کئی دن لگتے تھے، آج پیغام چند سیکنڈ میں پہنچ جاتا ہے، لیکن جواب دینے کے لیے ہمارے پاس وقت نہیں۔ پہلے بازار جانے میں وقت لگتا تھا، آج گھر بیٹھے خریداری ہو جاتی ہے، مگر اس کے بعد بھی انسان کہتا ہے کہ وقت نہیں ملتا۔
اصل مسئلہ وقت کی کمی نہیں، وقت کی ترجیحات کا بحران ہے۔
ہم بچوں کو مہنگے کھلونے دے سکتے ہیں، مگر ان کے ساتھ بیٹھنے کا وقت نہیں۔ والدین کے لیے بہترین موبائل فون خرید سکتے ہیں، مگر ان کے پاس بیٹھ کر چند منٹ بات کرنے کی فرصت نہیں۔ دوستوں کی سالگرہ سوشل میڈیا پر یاد رہتی ہے، مگر دوست کی خاموشی محسوس نہیں ہوتی۔
اب کسی کا حال پوچھنے کے لیے بھی اکثر ایک مختصر سا پیغام کافی سمجھا جاتا ہے۔ کسی کے گھر جانے کے بجائے ایک ایموجی بھیج دیا جاتا ہے۔ کسی کی کامیابی پر چند الفاظ لکھ دینا تعلق نبھانے کے مترادف سمجھ لیا گیا ہے۔ مسئلہ ٹیکنالوجی نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے ٹیکنالوجی کو رشتوں کا متبادل بنا دیا ہے۔
ہماری زندگی میں سہولتیں بڑھتی گئیں اور توقعات بھی بڑھتی گئیں۔ پہلے انسان کم چیزوں میں خوش رہ لیتا تھا۔ آج خواہشوں کی فہرست لمبی ہے اور اطمینان مختصر۔ ایک فون ہے تو دوسرا چاہیے، ایک گاڑی ہے تو بہتر گاڑی چاہیے، ایک گھر ہے تو بڑا گھر چاہیے۔ ضرورت اور خواہش کے درمیان جو لکیر کبھی واضح تھی، وہ دھندلی ہوتی جا رہی ہے۔
نتیجہ یہ ہے کہ انسان چیزیں جمع کر رہا ہے، مگر سکون کھو رہا ہے۔
ہم نے گھروں کو خوبصورت بنایا مگر گھروں میں بیٹھنے کا وقت کم کر دیا۔ ہم نے دفاتر کو جدید بنایا مگر کام کا دباؤ بڑھا دیا۔ ہم نے رابطوں کو فوری بنایا مگر صبر ختم کر دیا۔ ہم نے معلومات کے دروازے کھول دیے مگر غور و فکر کی عادت کم کر دی۔
آج ایک معمولی سی تاخیر ہمیں بے چین کر دیتی ہے۔ پیغام کا جواب چند منٹ دیر سے آئے تو ہم پریشان ہو جاتے ہیں۔ انٹرنیٹ سست ہو جائے تو غصہ آتا ہے۔ ٹریفک میں چند منٹ رکنا مشکل لگتا ہے۔ ہم ہر چیز فوری چاہتے ہیں، شاید اسی لیے ہماری برداشت بھی کم ہوتی جا رہی ہے۔
زندگی کا المیہ یہ نہیں کہ انسان مصروف ہے۔ محنت اور مصروفیت زندگی کا حصہ ہیں۔ اصل المیہ یہ ہے کہ ہمیں یہ بھی معلوم نہیں کہ ہم کس مقصد کے لیے اتنے مصروف ہیں۔
ہمیں کبھی کبھی رک کر خود سے پوچھنا ہوگا کہ جس زندگی کے حصول کے لیے ہم آج اپنا سکون قربان کر رہے ہیں، اگر وہ زندگی مل بھی گئی تو کیا .
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سہولتوں کے مخالف نہ بنیں بلکہ ان کے درست استعمال کا شعور پیدا کریں۔ موبائل ہماری ضرورت ہے، ہماری زندگی نہیں۔ کاروبار ضروری ہے، مگر خاندان بھی ضروری ہے۔ کامیابی اہم ہے، مگر صحت، سکون، والدین، اولاد اور رشتے بھی زندگی کا حصہ ہیں۔
دنیا تیز رفتار ہو چکی ہے، مگر ہمیں ہر دوڑ میں شامل ہونا ضروری نہیں۔
کبھی موبائل ایک طرف رکھ کر والدین کے پاس بیٹھیں۔ کبھی بچوں کے ساتھ بغیر کسی اسکرین کے وقت گزاریں۔ کبھی کسی دوست کو صرف اس لیے فون کریں کہ اس کی آواز سننی ہے۔ کبھی شام کو خاموشی سے آسمان دیکھیں۔ کبھی اپنے آپ سے بھی ملاقات کریں۔
کیونکہ زندگی صرف یہ نہیں کہ ہم نے دن میں کتنے کام مکمل کیے؛ زندگی یہ بھی ہے کہ ان کاموں کے درمیان ہم نے کتنا جیا۔
ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم سہولتوں کے مالک بنیں گے یا سہولتیں ہماری زندگی کی مالک بن جائیں گی۔
یاد رکھیے، وقت بچانے والی ہر چیز ہمیں سکون نہیں دیتی۔ بعض اوقات زندگی کو تھوڑا آہستہ کرنا ہی زندگی کو دوبارہ محسوس کرنے کا پہلا قدم ہوتا ہے۔
ہم نے زندگی کو آسان بنانے کے لیے بہت کچھ ایجاد کر لیا، اب شاید ہمیں زندگی کو جینے کا ہنر دوبارہ سیکھنے کی ضرورت ہے۔
مزید پڑھیں





