تیسری منزل کا کمرا،تحریر: سیدہ الماس فاطمہ
نقطہ نظر
زندگی بھر کی جمع پونجی داؤ پر لگی تھی، تب کہیں جا کر اس پرانے ہاسٹل نما بلڈنگ کی تیسری منزل پر یہ فلیٹ ہمارا ہوا تھا۔ شفٹ ہونے سے پہلے ایک وہم سا دل میں جاگا، تو ہم نے برابر والے پڑوسی کا دروازہ کھٹکھٹا دیا۔ "یہاں سب خیریت تو ہے نا؟ کوئی مسئلہ تو نہیں؟" میں نے دبی زبان سے پوچھا۔ پڑوسی نے نظریں چرائیں، چہرے پر ایک ثانیے کو ہوائیاں اڑیں، لیکن پھر زبردستی مسکرا کر بولا، "جی جی، سب ٹھیک ہے۔" ہمیں کیا معلوم تھا کہ اس خاموشی کے پیچھے کتنے بھیانک راز چھپے ہیں۔ شفٹ ہونے کا پہلا ہی دن تھا۔ سامان بکھرا ہوا تھا اور تھکن سے برا حال تھا۔ میرے شوہر کمرے میں بستر پر لیٹے ہی تھے کہ اچانک ایک دل دہلا دینے والی چیخ گونجی۔ میں بھاگتی ہوئی کمرے کا راستہ پار کر کے پہنچی۔ وہ خوف سے ہانپ رہے تھے اور ان کا چہرہ سفید پڑ چکا تھا جسے دیکھ کر میرا خون جم گیا۔ "کیا ہوا؟" میں نے کانپتی آواز میں پوچھا۔ انہوں نے لرزتے ہوئے ہاتھ کو دیکھا اور بولے، "میں لیٹا ہی تھا کہ کسی نے اندیکھی قوت سے میرا ہاتھ پکڑ کر زور سے کھینچا۔۔۔ لیکن وہاں کوئی نہیں تھا!"
خوف کا یہ آغاز تھا۔ دوسرے دن ہم نے کمرہ بدل لیا۔ رات کو جیسے ہی دوسرے کمرے میں سونے کے لیے بستر پر لیٹے، ایک نیا تماشا شروع ہو گیا۔ دیوار پر لگا بلب خود بخود بند اور چالو ہونے لگا۔ "ٹک۔۔۔ ٹک۔۔۔ ٹک۔۔۔" بٹن خود ہی اوپر نیچے ہو رہے تھے لیکن بورڈ کے پاس کوئی نظر نہیں آ رہا تھا۔ "شاید بجلی کا بورڈ خراب ہوگا، کل الیکٹریشن کو دکھا لیں گے،" ہم نے ایک دوسرے کو تسلی دی، مگر دل جانتا تھا کہ خرابی بورڈ میں نہیں، اس فلیٹ کی فضا میں تھی۔ ہماری حالت دن بہ دن خراب ہو رہی تھی۔ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اب کیا ہوگا، کیونکہ فلیٹ ہم نے خرید لیا تھا، اب یہاں سے جانا ممکن نہ تھا اور ہم بہت مشکل سے خوف کے سائے میں رہ رہے تھے۔ ایک صبح جب میں گیلری میں گئی تو وہاں لکڑی کا ایک پرانا رحل کھلا ہوا ملا، جس پر عام طور پر قرآن مجید رکھ کر پڑھا جاتا ہے۔ وہ رحل وہاں پہلے سے موجود نہیں تھا۔ میرے شوہر نے خطرے کو بھانپتے ہوئے اسے اٹھایا اور فوراً قریبی مسجد میں رکھوا دیا۔ ڈر اور خوف کی سولی پر لٹکے دن گزرتے جا رہے تھے، ہر آہٹ پر دل حلق کو آتا تھا۔
آخر کار، ہم سے مزید ضبط نہ ہو سکا۔ ایک دن میرے شوہر مسجد گئے اور وہاں کے امام صاحب سے سارا ماجرا کھل کر بیان کر دیا۔ امام صاحب نے غور سے بات سنی، ان کے چہرے پر سنجیدگی چھا گئی۔ انہوں نے ہمیں روزانہ 'منزل' پڑھنے کی تاکید کی اور فرمایا کہ اس کا دم کیا ہوا پانی پورے فلیٹ کے کونوں میں چھڑکا جائے۔ ہم نے اسی دن سے علاج شروع کر دیا۔ لیکن جیسے ہی اللہ کے کلام کا اثر ہونا شروع ہوا، فلیٹ کے اندر چھپی برائی تلملا اٹھی۔ پانی چھڑکنے کے کچھ ہی دنوں بعد، فلیٹ کی دیواروں اور چھت پر عجیب و غریب اور بھیانک شکلیں ابھرنے لگیں۔ وہ کوئی عام سائے نہیں تھے۔ چھت پر نظر دوڑاتی تو کہیں آدھا انسان اور کہیں ہولناک سانپ کی شکل کا ہیولہ رینگتا ہوا دکھائی دیتا۔ دیواروں پر جگہ جگہ اکیلے انسان کے سر بنے نظر آتے، جن کی اندھی آنکھیں ہمیں گھورتی محسوس ہوتیں۔ وہ شکلیں اس بات کا ثبوت تھیں کہ گھر میں موجود ناپاک قوتیں اب کلامِ الٰہی کی مار سے بے بس ہو کر سامنے آ رہی تھیں۔ ہم سہمے ہوئے تھے، مگر اب ہمارے پاس ایمان کی طاقت تھی، اور اس تیسری منزل کے کمرے کا اندھیرا آہستہ آہستہ چھٹ رہا تھا۔
مزید پڑھیں





