Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

قوم کا المیہ ، ایک روپے کا سوال ،تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ

نقطہ نظر
Malik Zafar

قارئین آج ہم آپ کو ان اصولوں کے بارے میں بتائیں گے جو اپناتے وقت ہم شرم محسوس کرتے ہیں کیونکہ ہم اصول پسند قوم نہیں ۔صرف دکھاوا ہماری زندگی کا بہترین اصول ہے ۔ائیں آج اس پر تفصیلی تبادلہ خیال کرتے ہیں

ہم پاکستانی عجیب قوم ہیں۔ بڑے بڑے مسائل پر گھنٹوں گفتگو کرتے ہیں، اربوں اور کھربوں روپے کی کرپشن کی خبریں سنتے ہیں، مہنگائی پر احتجاج کرتے ہیں، ٹیکسوں پر بحث کرتے ہیں، سیاست دانوں سے حساب مانگتے ہیں، مگر ہماری روزمرہ زندگی میں ہونے والی چھوٹی چھوٹی مالی بے قاعدگیوں کو اکثر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں بعض ایسے رویے معمول بنتے جا رہے ہیں جنہیں اگر غور سے دیکھا جائے تو معاملہ صرف ایک، دو یا پانچ روپے کا نہیں رہتا بلکہ اصول، دیانت اور حقِ ملکیت کا بن جاتا ہے۔

پاکستان میں ایک، دو اور پانچ روپے کے سکے آج بھی موجود ہیں۔ یہ ہماری کرنسی کا حصہ ہیں، مگر عملی زندگی میں ان کی اہمیت جیسے ختم ہوتی جا رہی ہے۔ دکاندار کے پاس اکثر سکے نہیں ہوتے، صارف واپس مانگنے میں جھجکتا ہے اور پھر دونوں طرف سے ایک خاموش سمجھوتا ہو جاتا ہے۔ لیکن یہ سمجھوتا ہمیشہ برابر کا نہیں ہوتا۔ اکثر نقصان صارف کے حصے میں آتا ہے۔

ذرا روزمرہ زندگی پر نظر ڈالیں۔ آپ کسی رائیڈ سروس کے ذریعے سفر کرتے ہیں۔ کرایہ 198 روپے بنتا ہے، آپ 200 روپے ادا کرتے ہیں اور باقی دو روپے واپس نہیں ملتے۔ بظاہر دو روپے کوئی بڑی رقم نہیں۔ انسان سوچتا ہے کہ اتنی معمولی رقم کے لیے کیا بحث کرنی ہے؟ لیکن یہی سوچ جب ہزاروں اور لاکھوں افراد کے رویے کا حصہ بن جائے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ معمولی رقم مجموعی طور پر کتنی بنتی ہوگی؟

یہی صورتحال مارٹ، دکان، پٹرول پمپ، میڈیکل اسٹور، بیکری اور دیگر کاروباری مقامات پر بھی نظر آتی ہے۔ بل 997 روپے ہو تو 1000 روپے دے دیے جاتے ہیں اور تین روپے واپس نہ ملنے پر اکثر صارف خاموش رہتا ہے۔ کبھی دکاندار کہتا ہے کہ سکے نہیں ہیں، کبھی صارف خود کہتا ہے کہ رہنے دیں۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب "رہنے دیں" ایک عادت اور پھر کاروباری طریقہ بن جائے۔

سوال یہ ہے کہ اگر دکاندار کے حق میں تین یا پانچ روپے بنتے ہوں تو کیا ہم یہ رقم ادا نہیں کریں گے؟ یقیناً کریں گے۔ پھر ہمارے حق میں دو یا پانچ روپے بنتے ہوں تو انہیں واپس مانگنے میں ہمیں شرمندگی کیوں محسوس ہوتی ہے؟

ہمیں شاید اس بات کی تربیت ہی نہیں دی گئی کہ اپنا حق مانگنا اور کسی دوسرے کا حق ادا کرنا، دونوں ایک ہی اصول کے دو رخ ہیں۔

سبزی کے بازار کی مثال بھی ہمارے سامنے ہے۔ اگر ایک کلو سبزی 150 روپے کی ہے تو حساب کے مطابق آدھا کلو 75 روپے بنتا ہے۔ بعض جگہ صارف سے 80 روپے لیے جاتے ہیں۔ ہر معاملے کو ایک ہی نظر سے دیکھنا درست نہیں، کیونکہ وزن، پیکنگ، معیار یا دیگر حقیقی اخراجات مختلف ہو سکتے ہیں، لیکن اگر صرف اس لیے قیمت اوپر کر دی جائے کہ چھوٹے سکے دستیاب نہیں تو یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ قیمت کا تعین کس اصول کے تحت ہو رہا ہے؟

یہاں صارف کی بھی ذمہ داری ہے اور دکاندار کی بھی۔

دکاندار کو چاہیے کہ قیمت اور حساب واضح رکھے اور صارف کو اس کی مکمل بقایا رقم واپس کرے۔ اگر کسی وجہ سے سکے دستیاب نہ ہوں تو متبادل ادائیگی کا شفاف طریقہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔ دوسری طرف صارف کو بھی چاہیے کہ وہ دکاندار کے جائز حق میں ایک روپیہ بھی کم نہ کرے۔ صرف یہ کہہ دینا کہ "سکہ نہیں ہے" کسی کے حق کو ختم نہیں کر دیتا۔

اصل مسئلہ یہی ہے کہ ہم دوسروں کے حق کے بارے میں حساس اور اپنے حق کے بارے میں خاموش نہیں بلکہ اکثر اس کے برعکس رویہ اختیار کر لیتے ہیں۔

اسلامی تعلیمات میں لین دین میں دیانت، ناپ تول کی درستگی اور دوسروں کے مال کا احترام بنیادی اصول ہیں۔ قرآن مجید میں ناپ تول میں کمی سے منع کیا گیا ہے اور دوسروں کا مال ناحق طریقے سے کھانے سے روکا گیا ہے۔ اس لیے کسی بھی مالی معاملے کو صرف اس بنیاد پر معمولی نہیں سمجھنا چاہیے کہ رقم کم ہے۔ البتہ کسی مخصوص معاملے کو شرعی طور پر گناہ یا حرام قرار دینے سے پہلے اس کی مکمل صورتِ حال، رضامندی اور معاملے کی نوعیت دیکھنا ضروری ہے۔

یہاں ایک اور اہم سوال پیدا ہوتا ہے: کیا ہمیں اپنے حقوق کے بارے میں شعور ہے؟

ہم بڑے بڑے حقوق کی بات کرتے ہیں، لیکن روزمرہ کے چھوٹے حقوق سے غافل رہتے ہیں۔ اگر کوئی شخص روزانہ مختلف مقامات پر صرف دو یا تین روپے بھی چھوڑتا رہے تو مہینے کے اختتام پر یہ رقم کئی سو روپے تک پہنچ سکتی ہے۔ ایک سال میں یہی رقم ہزاروں روپے بن سکتی ہے۔ شاید کسی ایک فرد کے لیے یہ رقم بہت بڑی نہ ہو، لیکن لاکھوں صارفین کے مجموعی رویے کو دیکھا جائے تو تصویر مختلف ہو جاتی ہے۔

اس لیے بات سکوں کی نہیں، ذمہ داری کی ہے۔

ہمیں اپنے بچوں کو بھی یہ سکھانا ہوگا کہ ایک روپیہ بھی پیسہ ہے اور پیسے کے پیچھے کسی کی محنت ہے۔ مزدور کا ایک روپیہ، کسان کا ایک روپیہ، دکاندار کا ایک روپیہ اور ملازم کا ایک روپیہ سب محنت سے حاصل ہوتا ہے۔ ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم ایک ایسے معاشرے کی تعمیر چاہتے ہیں جہاں "چلتا ہے" کا کلچر غالب ہو یا ایسا معاشرہ جہاں ہر شخص دوسرے کے حق کا احترام کرے۔کیا یہ ممکن ہے جی ہاں صرف سوچ ۔

اپنا حق مانگنے میں شرمندگی نہیں ہونی چاہیے، البتہ انداز مہذب ہونا چاہیے۔ اگر آپ کے دو روپے واپس بنتے ہیں تو کہیں: "بھائی، باقی رقم دے دیں۔" یہ مطالبہ نہ بدتمیزی ہے نہ لالچ۔

اسی طرح اگر آپ کے حساب میں دکاندار کے دو روپے بنتے ہیں تو وہ بھی پورے ادا کریں۔ انصاف کا تقاضا یہ نہیں کہ صرف اپنے حق کا حساب رکھا جائے؛ انصاف یہ ہے کہ اپنے حق کے ساتھ دوسرے کے حق کا بھی حساب رکھا جائے۔

ہم اکثر کہتے ہیں کہ پاکستان کو کرپشن سے پاک ہونا چاہیے، اداروں میں دیانت ہونی چاہیے اور معاشرے میں قانون کی بالادستی ہونی چاہیے۔ مگر یہ تبدیلی صرف اسمبلیوں، عدالتوں اور سرکاری دفاتر سے نہیں آئے گی۔ تبدیلی ہمارے گھروں، بازاروں، دکانوں اور روزمرہ کے لین دین سے شروع ہوگی۔

اگلی مرتبہ جب آپ کے بل میں ایک، دو یا پانچ روپے واپس بنتے ہوں تو اسے معمولی سمجھ کر چھوڑنے سے پہلے ایک لمحہ رک کر سوچیں۔ اور اگر کسی دوسرے کے حق میں یہی رقم بنتی ہے تو اسے بھی پورا ادا کریں۔

کیونکہ قومیں صرف اربوں روپے بچانے سے نہیں بنتیں، قومیں اس وقت بنتی ہیں جب ایک روپیہ بھی امانت سمجھا جائے۔

بات واقعی چند سکوں کی ہے، مگر سوال بہت بڑا ہے:

ہم اپنے معاشرے میں "چلتا ہے" کو زندہ رکھنا چاہتے ہیں یا "اصول" کو؟

فیصلہ ہر فرد کو اپنے روزمرہ عمل سے کرنا ہے۔