اردو کے ممتاز پاکستانی شاعر صابر ظفر

صابر ظفر عہد حاضر کے ایک اہم غزل گو شاعر ہیں
0
37
poet

عمر بھر لکھتے رہے پھر بھی ورق سادہ رہا
جانے کیا لفظ تھے جو ہم سے نہ تحریر ہوئے

صابر ظفر

اردو کے ممتاز پاکستانی شاعر صابر ظفر 12 ستمبر، 1949ء کو کہوٹہ، راولپنڈی، پاکستان میں عبدالرحیم کےگھرپیدا ہوئےانہوں نے شاعری کی ابتدا 1968ء سے کی صابر ظفر نے دوسال بذریعہ ڈاک رئیس امروہوی سےاصلاح لی ماہ نامہ "اپنی زمین” میں کچھ عرصہ بطور معاون مدیر کام کیا-

صابر ظفر عہد حاضر کے ایک اہم غزل گو شاعر ہیں ان کی شاعری میں دو مختلف جہتیں ہیں۔ روایتی غزل ان کا بنیادی حوالہ ہے اور گیت نگاری میں بھی انہیں یدِ طولیٰ حاصل ہےکراچی سے 2013 میں صابرظفرکی کلیات کا حصہ اول ”مذہبِ عشق“ رنگ ادب پبلیکیشنزنے شائع کیا۔ اس کلیات میں ان کےپہلے 10 مجموعہ ہائے کلام کو یکجا کیا گیا جن کے نام ، ابتداء، دھواں اور پھول، پاتال، دریچہ بے صدا کوئی نہیں ہے، دکھوں کی چادر، بارہ دری میں شام، اک تری یاد رہ گئی باقی، عشق میں روگ ہزار، بے آہٹ چلی آتی ہے موت، اور چین ایک پل نہیں، ہیں۔ صابر ظفر کی یہ کلیات اپنے اندر بہت سے موضوعات سموئے ہوئے ہیں۔ دُکھ، انتظار، درد، لہو، ہجر، پیاس، صحرا، سمندر، قفس، نیند، عشق کے موسم اور وحشت کے تماشے جیسے موضوعات ان کی شاعری میں پوری طرح منعکس ہیں۔

صابر ظفر حساس دل اور سادہ طبیعت کے مالک ہیں، ان کی غزلیں غلام علی، منی بیگم، نیرہ نور، گلشن آراء سید نے گائیں۔ گیت گانے والے گلوکاروں میں نازیہ حسن، زوہیب حسن، محمد علی شہکی، سجاد علی، شہزاد رائے، نجم شیراز، حدیقہ کیانی، فاخر، راحت فتح علی خان، شفقت امانت علی خان، وقار علی اور دیگر شامل ہیں۔ صابر ظفر کے لکھے ہوئے درجنوں گیت پاکستانی ڈراموں کے ٹائٹل سونگ بن چکے ہیں، جنہیں مقبولیت ملی، ان میں سرفہرست ”میری ذات ذرہ بے نشاں“ ہے۔ دو قومی گیتوں کو بھی بہت شہرت ملی، پہلا ”ہے جذبہ جنوں تو ہمت نہ ہار“ تھا، جو 1996 میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ورلڈ کپ ہارنے پر مقبول ہوا۔ دوسرا ہالی وڈ کی فلم ’جناح“ کا ٹائٹل سونگ تھا۔

صابر ظفر غزل کی روایت کو مضبوط کرنے والے عہد حاضر کے شعراء میں ایک نمایاں شاعر کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔ ان کی شاعری میں زندگی اپنی تلخ حقیقتوں کے ساتھ دکھائی دیتی ہے۔ ان کے یہ چند اشعار اس بات کی گواہی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بھروں گا مٹھی میں الفاظ، جگنوؤں کی طرح
اور ان کو خالی فلک کی طرف اُچھالوں گا​

میں ایسے جمگھٹے میں کھو گیا ہوں
جہاں میرے سواکوئی نہیں ہے
۔۔۔۔۔
آوارگی شناس نہ تھا دست کوزہ گر
شاید اسی لیے مری مٹی کو تر کیا
۔۔۔۔۔
چین اک پل نہیں
اور کوئی حل نہیں
کیا بشر کی بساط
آج ہے کل نہیں

ہمارا عشق ظفر رہ گیا دھرے کا دھرا
کرایہ دار اچانک مکان چھوڑ گیا

نہ ترا خدا کوئی اور ہے نہ مرا خدا کوئی اور ہے
یہ جو قسمتیں ہیں جدا جدا یہ معاملہ کوئی اور ہے

Leave a reply