بھارت کواہمیت دینےکا امریکی طرزعمل قبول نہیں:بشریٰ بی بی اچھےمشورےدیتی ہیں:غریب بہت یادآتے ہیں:عمران خان

اسلام آباد:بھارت کواہمیت دینےکا امریکی طرزعمل قبول نہیں:بشریٰ بی بی اچھےمشورےدیتی ہیں:غریب بہت یادآتے ہیں: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ امریکا چین کی وجہ سے بھارت کو اہمیت دیتا ہے، خطے میں بھارت کو اہمیت دینے کا امریکی طرز عمل خامیوں پر مبنی ہے، نئی دہلی چین، بنگلا دیش، سری لنکا، پاکستان کے لئے خطرہ ہے۔

جرمن جریدے کوانٹریو دیتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان نے سمارٹ لاک ڈاؤن کیساتھ کورونا کا مقابلہ کیا، پاکستان کی حکومت کورونا وائرس کا مکمل ادراک رکھتی ہے۔ اسی لیے ہم نے کچھ علاقوں پر سخت پالیسی اپنائی، ہم نے زرعی سیکٹر کو دوبارہ کھولا، کنسٹرکشن سیکٹر کو کھولا تاکہ روزانہ کی بنیاد پر کمائی کرنے والے متاثر نہ ہوں۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت ہفتہ وار کی بنیاد پر دو لاکھ لوگوں کے ٹیسٹ ہو رہے ہیں۔ اور ہمارے متعلقہ ادارے اس پر بغور جائزہ لیتے رہتے ہیں۔

امریکی الیکشن سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ جو بائیڈن رائے عامہ میں مقبول نظر آرہے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ روایتی سیاستدان نہیں وہ کچھ بھی کر سکتے ہیں، میں نے کئی بار مختلف سوچ اپنائی، نوجوانوں کو اپنی طرف راغب کیا، ہم کافی غیر روایتی رہے ہیں اور ڈونلڈ ٹرمپ بھی اسی طرح کے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ کام سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں عمران کا کہنا تھا کہ ہم امریکا سے چاہتے کیا ہیں، امریکا سے بھارت کے تناظر میں مساوی رویہ دیکھنا چاہتے ہیں، مقبوضہ کشمیر پر امریکا سے دونوں ملکوں کے ساتھ یکساں پالیسی کی توقع ہے۔ خطے میں کشیدگی کسی وقت بھی بھڑک سکتی ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بھارت اپنے ہمسائے ممالک کو دھمکیاں لگاتا ہے، امریکا چین کی وجہ سے بھارت کو اہمیت دیتا ہے، خطے میں بھارت کو اہمیت دینے کا امریکی طرز عمل خامیوں پر مبنی ہے، بھارت چین بنگلا دیش ، سری لنکا، پاکستان کے لئے خطرہ ہے ۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کا نائن الیون حملے سے کوئی تعلق نہیں۔ القاعدہ افغانستان میں تھی۔ نائن الیون کے بعد ہمیں اپنی فوج کو اس جنگ میں شامل نہیں کرنا چاہیے تھا۔ میں پہلے سے ہی دن اس لڑائی میں شامل ہونے کا مخالف تھا۔ تاہم امریکا نے دباؤ ڈالا جس کے باعث سابق صدر پرویز مشرف یہ دباؤ برداشت نہ کر سکے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ 1980ء میں اسامہ بن لادن کو ہیرو بنا کر پیش کیا گیا، افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف جنگ میں مجاہدین کی حمایت کی۔ سی آئی اے اس معاملے پر اسامہ کا حامی تھا۔ پاکستان کا حق تھا کہ طالبان کو تسلیم کریں، لیکن پاکستان کا طالبان پر کوئی اثر و رسوخ نہیں تھا پاکستان نے طالبان سے درخواست کی کہ اسامہ بن لادن کو امریکیوں کے حوالے کیا جائے تاہم طالبان نے یہ درخواست مسترد کر دی۔

انٹرویو کے دوران انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں 27 لاکھ افغان مہاجرین موجود ہیں اسی کی وجہ سے ہمارے پاس تھوڑا بہت اثر و رسوخ تھا، جس کے باعث طالبان کو مذاکرات کی ٹیبل پر لے آئے۔

افغانستان سے متعلق پوچھے گئے سوال پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ افغانستان سے متعلق کیا کہوں، پاکستان ہمسایہ ملک میں امن چاہتا ہے، دہشتگردی کیخلاف جنگ میں ہم نے 70 ہزار سے زائد جانیں گنوائیں، ہماری سرحدی علاقے اس جنگ کی وجہ سے تباہ ہو گئے، ان علاقوں کے آدھے سے زائد لوگوں کو اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا، جس دن پاکستان تحریک انصاف کی حکومت آئی ہم نے مذاکرات کو ترجیح دی۔

حزب اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمت یار سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ افغانستان کے سابق وزیراعظم حکمت یار نے حالیہ الیکشن میں حصہ لیا اور وہ اپنے ملک کے آئین کو مانتے ہیں۔ میں نے افغانستان کی قومی مفاہمت کی اعلیٰ کونسل کے چیئرمین عبداللہ عبداللہ سے بھی بات کی۔ اور بتایا کہ جنگ زدہ ملک میں ہم کسی سائیڈ کی طرف نہیں ہیں۔ ہماری صرف دلچسپی اس امر میں ہے کہ افغانستان کی جو بھی نئی حکومت آئے اس پر بھارت کا اثر و رسوخ نہ ہو تاکہ ہمسایہ ملک کی زمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو سکے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں کسے اقتدار ملے پاکستان کا کوئی فیوریٹ نہیں، کابل حکومت بھارت کو وہاں سے پاکستان کے خلاف سرگرمی کی اجازت نہ دے۔

دوسری جانب چین نے 40 سال میں 70 کروڑ افراد کو غربت سے نکالا، اب دیکھ لیں چین میں جمہوریت نہیں لیکن میرٹ کا سسٹم کامیابی سے چل رہا ہے۔

کوئی بھی ملک وسائل کی کمی نہیں کرپشن سے بدحال ہوتا ہے اور ہم اصلاحات کے مشکل اور تکلیف دہ عمل سے گزر رہے ہیں، پاکستان کو لوٹنے والے اصلاحات کے ثمرات سے خوفزدہ ہیں۔

انٹرویو کے دوران عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں آزادی اظہار رائے مغربی ممالک سے زیادہ ہے، میں نے آزادی کے لفظ کا استعمال بہت محتاط انداز میں کرتا ہوں، میں اپنی زندگی کی دو دہائیاں برطانیہ میں گزاری، وہاں پر بہتان سے متعلق بہت زیادہ مضبوط قوانین ہیں، بدقسمتی سے پاکستان میں ایسا نہیں ہے، بطور وزیراعظم مجھ پر بہت سارے بہتان لگے، انصاف کے لیے عدالت بھی گیا تاہم انصاف نہ مل سکا۔

مشرق وسطیٰ میں امن کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) حکومت کی جب اقتدار میں آئی تو سب سے پہلے میری حکومت یمن میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کے لیے آگے بڑھی۔ اس کے لیے ایران سے بات بھی کی جبکہ سعودی عرب سے محمد بن سلمان سے بھی رابطہ کیا، تاہم یہاں بتاتا چلوں کہ ہم کسی پر مذاکرات کے لیے دباؤ نہیں ڈال سکتے۔

تہران اور ریاض کے درمیان جنگ سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یہ جنگ پوری دنیا کے لیے تباہ کن ہو گی۔ خاص طور پر غریبوں کے لیے جنگ بہت خوفناک ہو گی، تیل کی قیمتیں بڑھ جائیں جس سے بہت سارے ممالک کو مسائل در پیش ہوں گے۔

متحدہ عرب امارات، بحرین اور سوڈان کے اسرائیل سے تعلق کے حوالے سے عمران خان کا کہنا تھا کہ ہر ملک کی اپنی خارجہ پالیسی ہے کیونکہ یہ ممالک اپنی عوام کا سوچتے ہیں، پاکستان اسرائیل کو کبھی تسلیم نہیں کر سکتا۔ اس معاملے پر ہمارا موقف بڑا واضح ہے۔ ہمارا موقف قائداعظمؒ نے 1948 میں واضح کر دیا تھا کہ ہم اسرائیل کو کبھی تسلیم نہیں کر سکتے کہ جب تک فلسطینیوں کو ان کا حق نہیں ملتا۔ ان کی انصاف کے مطابق آبادکاری نہیں ہوتی جو کہ فلسطینوں کا دو قومی نظریہ تھا کہ ان کو ان کی پوری ریاست ملے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ چین نے 7 کروڑ لوگوں کو غربت سے نکال کر بہت بڑا کام کیا۔ یہی وہ منصوبہ ہے جو میں اپنانا چاہتا ہوں اور اپنے ملک سے غربت کا خاتمہ کرنا چاہتا ہوں، وہاں قانون بہت سخت ہیں، گزشتہ 7 سالوں کے دوران انہوں نے 450 وزیروں کو کرپشن کی وجہ سے جیل میں بھیجا۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہمارا ملک غریب اس لیے ہے کہ کیونکہ یہ وسائل کی کمی ہے، کیونکہ ملکی لیڈر شپ کرپٹ ہے، پانامہ پیپرز میں سب کچھ عیاں ہوا، جس میں بتایا گیا کہ پاکستان سے کروڑوں ڈالرز پراپرٹی حاصل کرنے کے لیے لندن بھیجے گئے۔

اپوزیشن سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میں ان کی بلیک میلنگ میں نہیں آؤں گا، یہ لوگ مجھے بدعنوانی کے مقدمات سے بری کرنے کے لیے بلیک میل کرنا چاہتے ہیں لیکن میں انہیں کوئی ریلیف نہیں دوں گا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ جب اقتدار میں آیا تو امپورٹ 60 ارب ڈالر تھی جبکہ ایکسپورٹ محض 20ارب ڈالر تھی، ملکی روپیہ کمزور ہوا جس کے باعث مہنگائی بڑھی، اور چیزیں مہنگی سے مہنگی ہوتی گئیں، ہم نے اپنا ریونیو بڑھانے کے لیے کچھ چیزیں مہنگی بھی کیں۔ تاہم اب اپنی ٹیکس نیٹ بڑھا رہے ہیں، اس کے لیے ہم نے سخت اصلاحات بھی کی ہیں، اصلاحات سے متعلق اپوزیشن والے پریشان ہیں اگر ہم کامیاب ہو گئے تو یہ کرپشن کیسز میں جیل چلے جائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ میری اہلیہ بہت سمجھدار خاتون ہیں، حکومت میں مسائل سے متعلق ان سے بات کرتا ہوں، ان سے پیچیدہ معاملات پر بھی بات ہوتی ہیں۔وہ میری ہمسفر ہیں، میں ان کے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.