والدین اور اولاد اور والد کی بد دعا تحریر: ذیشان علی

0
36

ہمارا پیارا اسلام سب سے زیادہ والدین کے حقوق کی بات کرتا ہے،
اسلامی تعلیمات کے مطابق ہمیں ہدایت دی گئی۔ جس کا مفہوم یہ ہے کہ اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو اور جب وہ عمر رسیدہ ہو جائیں تو ان کی خدمت کرو۔
اور ان کے اگے اف تک نہ کرو عاجزی کے ساتھ ان کے اگے جھکے رہو اور ان کے لئے دعا کیا کرو۔
اللہ تعالی نے دونوں کو بلند مقام و مرتبہ دیا ہے۔
اور شریعت میں اس سلسلے میں دو طرفہ حقوق اولاد کے والدین پر اور والدین کے اولاد پر واضح کیے ہیں،
والد ایک سائبان شفقت ہے اور اولاد اس سائے میں پروان چڑھتی ہے۔
وہ اپنی ساری زندگی بالخصوص اولاد کہ جوان ہونے تک ان کے لئے محنت مشقت کرتا ہے،
والد اللہ رب العزت کی طرف سے دنیا میں ایک عظیم نعمت ہے۔ جب تک اولاد پر باپ کا سایہ سلامت رہتا ہے اولاد بے فکری کے ساتھ اپنی زندگی بسر کرتی ہے۔
لیکن جب یہ سایہ شفقت قانون قدرت کے تحت اٹھا لیا جاتا ہے تب اولاد کو اس کی کمی محسوس ہوتی ہے اور اولاد کو زندگی کے اتار چڑھاؤ اور نشیب و فراز کا اندازہ ہوتا ہے،
کہ باپ اولاد کے لیے کتنی مشکلات سے گزرتا ہے اور اولاد کو اپنی مشکلات کا اندازہ بھی نہیں ہونے دیتا۔
والد ایک ایسا مقدس محافظ ہے جو ساری زندگی اولاد کی حفاظت کرتا رہتا ہے اور انہیں کامیاب دیکھنا چاہتا ہے،
دعا ہے رب العزت سے کہ وہ ہمارے آپ کے سروں پر باپ کا سایہ تادیر قائم و دائم رکھے،
اور جن کے والد اس دنیا سے گزر گئے ان کی بخشش و مغفرت فرمائے،
اولاد کو چاہیے کہ اپنے والدین کی نافرمانی سے اجتناب کرے کیونکہ یہ بہت ہی سخت گناہ ہے۔
والد کی ناراضی اور اس کی بد دعا آپ کی کوئی دعا قبول نہیں ہونے دیتی۔
والد کی بد دعا کے متعلق آپ سے ایک واقعہ شیئر کرتے ہیں،
شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمہ اللہ کے ہاں ایک شخص اپنے بیٹے کو بہت عرصے تک لے کر آتا رہا،
شاہ صاحب رحمہ اللہ کبھی اس کے لئے دعا کرتے، کبھی کوئی عمل اس کے باپ کو بتاتے،
تو کبھی تعویذ لکھ کر دے دیتے،
لیکن اس کی حالت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی،
ایک دن انہوں نے باپ سے پوچھا کیا تم نے کبھی اسے کوئی بد دعا دی ہے۔
تو باپ نے کہا ہاں حضور اس کی حرکتوں اور اس کی نافرمانیوں کو دیکھ کر مجھے بہت غصہ آیا اور بہت دکھ ہوا اور میں نے غصے میں اسے بد دعا دی،
تو شاہ صاحب نے فرمایا تو خود اس کا علاج کر۔
بد دعا دے کے علاج مجھ سے کروانے آیا،
ایک تو ہمیں والدین کی نافرمانی سے بچنا چاہیے اور دوسری طرف میری مخلصانہ عرض ہے کہ والدین کو چاہیے اٹھتے بیٹھتے نماز کے بعد اپنی اولاد کے لیے دعا کریں،
ان کے بہتر مستقبل کے لئے دعا کریں والدین کی دعا! اولاد کی نسلوں تک ان کا ساتھ دیتی ہے،
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی اولاد کے لیے دعا کی تھی، اور ان دعاؤں کا اثر قیامت تک ان کی نسلوں میں موجود رہے گا،
اس لیے اپنی اولاد کو ایسی دعائیں دے جائیں جو ان کی نسلوں میں بھی سب کو نظر آئے اور وہ خود بھی اس کا مشاھدہ کریں،
اللّٰہ سب کے والدین پر اپنا خصوصی کرم فرمائے، اور سب کی اولاد کو والدین کا فرمابردار بنائے، آمین

@zsh_ali

Leave a reply