fbpx

وقت کی پکار کشمیر بزور شمشیر ازقلم:غنی محمود قصوری

وقت کی پکار کشمیر بزور شمشیر

تقسیم پاکستان سے قبل ہی اس وقت کے ظالم راجے نے کشمیر کو بیچ کر کشمیری قوم کی آزادی پر شب خون مارا تھا اس کے بعد تقسیم ہند کے وقت یہ طے پایہ تھا کہ مسلم اکثریتی علاقے پاکستان کو دیئے جائیں گے اور ہندو اکثریتی علاقے بھارت کو مگر ہندو اور انگریز کی مشترکہ منافقت سے کشمیر مقبوضہ ہو گیا مقبوضہ کشمیر کی آزادی کی خاطر پاکستان نے 1947 میں جنگ لڑی اور آزاد کشمیر کا علاقہ آزاد کروایا جسے ہم آج ازاد ریاست کشمیر کے نام سے جانتے ہیں
یکم جنوری 1948 میں انڈیا سلامتی کونسل پہنچا اور سلامتی کونسل کے یقین استصواب رائے پر جنگ بندی ہوئی تاہم آج دن تک وہ استصواب رائے کے دن کا سورج طلوع نہیں ہو سکا-

26 جنوری 1950 کو کشمیری قوم کی خصوصی حیثیت کیلئے آرٹیکل 370 اے نافذ کرکے کشمیر کو خودمختاری کی حیثیت دی گئی بظاہر نا چاہتے ہوئے بھی سلامتی کونسل نے ابتک 13 قراردادیں کشمیریوں کے حق میں دی ہیں مگر سب بے سودکسی پر کوئی عمل درآمد نہیں ہو سکا23 مارچ 1987 کو کشمیری جماعت مسلم یونائیٹڈ فرنٹ نے انتخابات میں واضع برتری حاصل کی تاہم فاروق عبداللہ کی گورنمنٹ نے دھاندلی کا الزام لگایا اور مظاہرے شروع ہو گئے جو کہ رفتہ رفتہ 1989 میں مسلح تحریک میں بدل گئے 1947 سے 1989 تک کشمیریوں نے ہر حد تک کوشش کی کہ مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل نکالا جائے تاہم بھارت و سلامتی کونسل کی طرف سے مکمل انکار و منافقت دیکھ کر کشمیری قوم نے بندوق اٹھائی اور ہندو کے خلاف ڈٹ گئے اب تک کشمیریوں نے ایک ہی نعرہ لگایا ہے کشمیر بنے گا پاکستان تیرا میرا رشتہ کیا ؟لا الہ الا اللہ

یہی نعرے سلامتی کونسل اور انڈیا کو پریشان کئے ہوئے ہیں کہ اگر رائے شماری کروائی گئی اور کشمیری قوم کو استصواب رائے کا حق دیا گیا تو پوری کشمیری قوم الحاق پاکستان کے حق میں ووٹ دے گی اور کشمیر پاکستان کا حصہ بن جائے گا تاریخ کشمیر اور ہندو کی خصلت کو دیکھا جائے تو کشمیر کا مسئلہ قرار دادوں سے ہونا ناممکن ہے اس کا واحد حل جنگ ہے جیسا کہ 1947 سے 1948 کی پاک بھارت جنگ میں آزاد کشمیرکا علاقہ حاصل کیا گیا پھر پاک بھارت 1949 کے فائر بندی معاہدے کو ختم کرتے ہوئے بھارت نے پہل کی 1965 کی جنگ شروع کی کشمیر کا وکیل ہونے کی حیثیت سے بھارت نے 1971 کی جنگ کی شروعات کی اور بنگلہ دیش میں خانہ جنگی کروا کر 16 دسمبر 1971 کو بنگلہ دیش کو الگ کروایا کیونکہ بنگلہ دیش کے ہوتے ہوئے بھارت پاکستان اور بنگلہ دیش کے بیچ سینڈوچ بنا ہوا تھا-

21 جنوری 1999 کو پاکستان و بھارت کے اس وقت کے وزرائے اعظموں نے دو طرفہ معاملہ کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی یقین دہانی کروائی مگر مئی 1999 میں بھارت نے خود ہی پنگے بازی کرتے ہوئے کارگل جنگ کا آغاز کیا جو کہ جولائی میں سلامتی کونسل کی مداخلت پر ختم ہوااس سارے دورانیہ میں کشمیری قوم نے نا تو اپنا نعرہ بدلا اور نا ہی اپنے عزائم کشمیری قوم کے اس جذبہ حریت کو دیکھتے ہوئے بھارت سرکار نے 1949 میں کشمیر کی خودمختاری کی حیثیت کو ختم کرنے کی خاطر 5 اگست 2019 کو آرٹیکل 370 اے و 35 اے کا خاتمہ کر دیا جس سے کشمیری قوم کا غم و غصہ آسمان کو چھونے لگا اور کشمیری قوم نے مجاھدین کشمیر کا ماضی کی طرح کھل کر ساتھ دیا جو کہ تاحال جاری و ساری ہے-

بات اگر مسئلہ کشمیر کے حل کی کی جائے تو سوائے جنگ کے اس کا حل ناممکن ہے کشمیری مجاھدین کی گوریلا جنگ نے بھارتی فوج و عوام کا مورال بہت ڈاؤن کر دیا ہے جس کے باعث آئے روز بھارت مقبوضہ کشمیر میں فوجی اضافہ کرتا جا رہا ہے جیسے جیسے بھارت مقبوضہ کشمیر میں فوجی اضافہ کرتا جا رہا ہے ویسے ویسے ہی بھارتی فوج میں خودکشیوں کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے اوسطاً ہر تیسرے دن ایک بھارتی فوجی مقبوضہ وادی کشمیر میں خودکشی کرتا ہے تاہم دوسری جانب مجاھد تنظیموں میں کشمیری نوجوانوں کا رجحان بہت حد تک بڑھ گیا ہے حتیٰ کہ بہت زیادہ پڑھے لکھے نوجوان بھی مسلح تحریک آزادی کشمیر کا حصہ بن کا اپنی جانوں کا نذرانہ دے رہے ہیں کیونکہ وہ جان چکے ہیں کہ کشمیر بزور شمشیر اس کے علاوہ آزادی کا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے-

پاکستان میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے جلسے جلوس تو بہت نکالے جاتے ہیں جو کہ اظہار کی ایک اچھی مثال بھی ہیں مگر یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ کشمیر کا مسئلہ جنگ کے بغیر حل نہیں ہو گا کیونکہ ہندو کو پتہ ہے اگر کشمیر اس کے ہاتھ سے چلا گیا تو پھر اس کے بعد 36 سے زائد شورش زدہ بھارتی علاقے بھی نا ٹک سکیں گے اور ہندوستان ٹوٹ جائے گا سو انڈیا اسی خطرے کو دیکھتے ہوئے اپنا بہت سارا پیسہ کشمیر پر قبضہ برقرار رکھنے کیلئے لگا رہا ہے اور پوری دنیا کا کافر اس کی مدد کو ہے جبکہ اس کے برعکس اس معاملہ میں پاکستان کے ساتھ عملی طور پر ایک آدھ ملک ہی ساتھ ہے باقی محض بیانات ہی دیتے ہیں اور سلامتی کونسل سے رجوع کرتے ہیں جس کے باعث آج دن تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہو سکا ورنہ بفضل تعالی 1947 سے 1948 کی پاک بھارت جنگ میں ہمارے قبائل مجاھدین و پاک فوج موجودہ آزاد کشمیر کو آزاد کروانے کیساتھ بہت تیزی سے آگے بڑھ رہی تھی مگر پنڈٹ جواہر لال نہرو اور سلامتی کونسل کی منافقت سے جنگ بندی ہوئی اور جھوٹے وعدے کروائے گئے جو کہ آج دن تک ایفاء نا ہو سکے ہیں-