ہم لوگ تیرے شہر میں خوشبو کی طرح ہیں محسوس تو ہوتے ہیں دکھائی نہیں دیتے

0
121
breaking #Pakistan

ہم لوگ تیرے شہر میں خوشبو کی طرح ہیں
محسوس تو ہوتے ہیں دکھائی نہیں دیتے

تسنیم کوثر

پاکستان کی نامور ادیبہ اور شاعرہ

18 فروری 1957 یوم پیدائش
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر و تعارف : آغا نیاز مگسی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان کی نامور ادیبہ ،شاعرہ ،مصنفہ،افسانہ نگار، خواتین اور بچوں سمیت انسانی حقوق کی جدوجہد کی اہم رہنما محترمہ تسنیم کوثر صاحبہ 18 فروری 1957 میں ساہیوال پنجاب( پاکستان) میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد صاحب کا نام قاضی نسیم الدین اور والدہ محترمہ کا نام منور جہاں بیگم ہے ۔ وہ اپنے 8 بہن بھائیوں میں سب سے بڑی ہیں ۔ ان کے خاندان کے بڑے دہلی ہندوستان سے ہجرت کر کے پاکستان آ گئے۔ تسنیم کوثر نے پرائمری سے انٹر تک اوکاڑہ میں تعلیم حاصل کی جبکہ ایم فل علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے کیا۔ تسنیم صاحبہ اپنے خاندان میں پہلی اور واحد ادیبہ اور شاعرہ ہیں ۔ شعر و ادب کا شوق انہیں زمانہ طالب علمی سے ہی پیدا ہوا اور اسکول و کالج کے زمانے سے لکھنا شروع کیا۔ شاعری کی ابتدا میں انہوں نے اپنے کلام محشر زیدی صاحب کو دکھائے۔ ان کی اب تک 5 کتابیں شائع ہو چکی ہیں جن میں ایک شعری مجموعہ "سرگوشی” اور 4 نثری کتابیں ہیں۔ تسنیم کوثر صاحبہ ایک ترقی پسند خاتون ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ امن اور انسانی حقوق کے حوالے سے پاکستان میں کی جانے والی جدوجہد میں فعال کردار ادا کرتی رہی ہیں ۔ انہوں نے 30سال تک پاکستان میں انسانی حقوق کی جدوجہد کی علمبردار عاصمہ جہانگیر صاحبہ کے ساتھ مل کر کام کیا وہ اس دوران عاصمہ جہانگیر کے انسانی حقوق کے ادارے اے جی ایچ ایس لیگل ایڈ سیل کی میڈیا کو آرڈینیٹر رہیں۔ انہوں نے بچوں سے زیادتی اور خواتین پر ہونے والے تشدد اور زیادتیوں پر فیکٹ فائنڈنگ کیسز کیے اس کے علاوہ برن دکٹمز پر بھی فیکٹ فائنڈنگ کی اور اس موضوع پر آرٹیکلز بھی لکھے۔ جلسوں،جلوس، ورکشاپس اور سیمینارز میں بھی شرکت کی۔ سائوتھ ایشیا ہیومن رائٹس کی ممبر کی حیثیت سے امن وفد کے ساتھ بھارت کا دورہ کیا اس کے علاوہ ملائیشیا، مصر اور سعودی عرب کے بھی دورے کیے۔ تسنیم صاحبہ اس وقت روٹری انٹر نیشنل کے ساتھ منسلک ہیں اور روٹری کلب شادمان لاہور کی صدر ہیں ۔ وہ وہ تعبیر ادبی فورم کی چیئرپرسن ہیں جس کے زیر اہتمام متعدد پروگراموں کا انعقاد کرا چکی ہیں۔ وہ اپنے ملک اور بیرون ممالک میں منعقد ہونے والے مشاعروں میں شرکت کرتی رہتی ہیں ۔ وہ اہل زبان ہیں اردو ان کی مادری زبان ہے جبکہ پنجابی اور انگریزی زبان پر بھی انہیں عبور حاصل ہے۔ تسنیم صاحبہ کی 1980 میں اپنے خالہ زاد آصف صدیقی صاحب سے شادی ہوئی جن سے انہیں ماشاء اللہ 3 بچے پیدا ہوئے جن میں دو بیٹے اور ایک بیٹی شامل ہیں ۔ تسنیم صاحبہ کو ہر اچھا شعر پسند ہوتا ہے خواہ وہ کسی نوآموز شاعر یا شاعرہ کا ہی کیوں نہ ہو تاہم وہ میر تقی میر کی مداح ہیں۔
تسنیم کوثر صاحبہ اب تک کئی ایوارڈز اور اعزازات حاصل کر چکی ہیں اور متعدد اداروں سے وابستگی ہے اور ان کی اب تک شائع شدہ تصانیف کی تفصیل درج ذیل ہے۔

تعلیم:ایم فل اردو
ممبر:ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان
ملازمت: اے جی ایچ ایس لیگل
۔ ایڈ سیل کوآرڈینیٹر
۔ پیرا لیگلز ،وائیلنس
۔ اگینسٹ وومن،چائلڈ ابیوز
۔ پریزیڈنٹ روٹری کلب آف
۔ لاہور شادمان لاہور
۔ 2021۔2022
۔ ورکنگ پولیو مانیٹرنگ ٹیم
ایوارڈز
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔ (1)روٹری انٹرنیشنل ایوارڈ
۔ (2)ساحر لدھیانوی ایوارڈ
۔ (3)قتیل شفائی ایوارڈ
۔ (4)روشن اسکول ایوارڈ
۔ (5)مادل ٹاؤن لیڈیز کلب ایوارڈ
۔ (6)حسان بن ثابت ایوارڈ
زبان:اردو،پنجابی
اصناف: سفرنامہ، شاعری، افسانے
تصانیف
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔ (1)کہانی ان دنوں کی
۔ (سفرنامہ انڈیا)
۔ (2)سرگوشی
۔ (شعری مجموعہ)
۔ (3)چبھن
۔ (افسانوی مجموعہ)
۔ (4)جہاں رحمت برستی ہے
۔ (سفر نامۂ حجاز)
۔ (5)مجھے اس دیس جانا ہے
۔ (سفر نامۂ ملائیشیا)
۔ (6)چابی سے بندھی عورت
۔ (افسانوی مجموعہ)
۔ (7)محبت کا دوسرا کنارہ
۔ (شعری مجموعہ)

غزل

معیار اپنا ہم نے گرایا نہیں کبھی
جو گر گیا نظر سے وہ بھایا نہیں کبھی

ہم آشنا تھے موجوں کے برہم مزاج سے
پانی پہ کوئی نقش بنایا نہیں کبھی

حرص و ہوس کو ہم نے بنایا نہیں شعار
اور اپنا اعتبار گنوایا نہیں کبھی

اک بار اس کی آنکھوں میں دیکھی تھی بے رخی
پھر اس کے بعد یاد وہ آیا نہیں کبھی

تنہائیوں کا راج ہے دل میں تمھارے بعد
ہم نے کسی کو اس میں بسایا نہیں کبھی

تسنیم جی رہے ہیں بڑے حوصلے کے ساتھ
ناکامیوں پہ شور مچایا نہیں کبھی

نظم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محبت ہم سے کرنی ہے
تو پھروعدہ نہیں کرنا
یہ وعدے ہم نےدیکھا ہے کہ اکثرٹوٹ جاتے ہیں
محبت ہم سے کرنی ہے
تو پھر ضِد بھی نہیں کرنا
اِسی ضِد سے یہ دیکھا ہے کہ ساتھی چھوٹ جاتے ہیں
محبت ہم سے کرنی ہے
تو پھر تحفہ نہیں دینا
یہ تحفے ہم نے دیکھا ہے بہت مجبور کرتے ہیں
محبت ہم سے کرنی ہے
تو پھر شکوہ نہیں کرنا
کہ شکوے ہم نے دیکھا ہے دِلوں کو دورکرتے ہیں
محبت کے حسیں لمحوں میں دل رنجور کرتے ہیں

قطعہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پھولوں کا چاندنی کا نگر یاد ہے ہمیں
خوشیوں بھری تھی جس کی ڈگر یاد ہے ہمیں
چاہت سے جس پہ لکھا تھا اِک دوسرے کا نام
پیپل کا وہ گھنیرا شجر یاد ہے ہمیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم لوگ تیرے شہر میں خوشبو کی طرح ہیں
محسوس تو ہوتے ہیں دکھائی نہیں دیتے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیسے کیسے گمان میں گزری
زندگی امتحان میں گزری
بند تھے جس کے سارے دروازے
عمر ایسے مکان میں گزری

تسنیم کوثر

Leave a reply