عمران خان نے سلمان رشدی بارے جو کہا وہی ہم نے شائع کیا۔ برطانوی صحافی ڈٹ گیا

0
190

لندن:سلمان رشدی کے بارے میں عمران خان کے انٹرویو پرصحافی کا ردعمل بھی آگیا ،اطلاعات کے مطابق ملعون سلمان رشدی کے حوالے سے مشہوربرطانوی اخبار دی گارجین کی طرف سے سابق وزیراعظم عمران خان کے انٹرویو پر ہونے والی بحث میں ڈرامائی موڑ آگیا ہے جب انٹرویوکرنے والے صحافی نے اصل حقائق پیش کردیئے

برطانوی صحافی کا کہنا ہے کہ عمران خان نے جو کہا ہم نے وہی شائع کیا ہم اپنے موقف پر قائم ہیں

عمران خان کا انٹرویو کرنے والے دی گارجین کے صحافی جیولین بارگر نے اس حوالےسے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہےکہ عمران خان سے انٹرویو کے دوران سلمان رشدی کے حوالے سے جوسوالات کیے تھے اس پر اخبارکا دعویٰ ہے کہ عمران خان کاغلط حوالہ نہیں دیا۔ عمران خان بھی یہ مانتے ہیں کہ سلمان رشدی کے حوالےسے سوالات کیئے گئے ہیں

جیولین بارگر کا کہنا ہے کہ عمران خان یہ نہیں کہہ رہے کہ انٹرویو میں یہ باتیں نہیں ہوئی ، عمران خان کا اصرار صرف یہ ہےکہ اس انٹریو میں جوبات منسوب کی گئی ہے اور جو ریمارکس دیئے گئے ہیں وہ میں نے نہیں کہے ،

جیولین بارگر کا کہنا ہے کہ وہ اپنے موقف پرکھڑے ہیں اورکہ عمران خان کا انٹرویو لیا گیا اور عمران خان بھی یہ تسلیم کرتے ہیں سلمان رشدی کے حوالے سے اس انٹرویو میں سوالات پوچھے گئے تھے

 

جیولین بارگر کا کہنا ہے کہ ہم نے اس بات کے ازالے کے لیے اب انٹریوبھی پیش کردیا ہے تاکہ کسی قسم کی غلط فہمی نہ رہے ،عمران خان سے دی گارجین نے انٹرویو لیا اوراس انٹرویو میں سلمان رشدی کے قتل کے حوالےسے سوالات ہوئے

 

 

واضح رہے کہ عمران خان نے برطانوی جریدے گارڈین کو انٹرویو دیا جس میں انہوں نے سلمان رشدی پر حملہ افسوسناک قرار دے دیا، شاتم رسول سلمان رشدی نیویارک میں ایک تقریب کے دوران چاقو کے حملے میں بری طرح زخمی ہوا ، گارڈین نے عمران خان سے سوال کیا کہ سلمان رشدی پر نیویارک میں حملہ ہوا، اس کو کیسے دیکھتے ہیں؟ جس کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ "میرے خیال میں یہ خوفناک اور افسوسناک ہے،””رشدی (مسلمانوں کی نبی کریم سے محبت) سمجھ گئے، رشدی ایک مسلمان گھرانے سے آئے تھے، رشدی ہمارے دلوں میں بسنے والے نبی کی محبت، احترام، تعظیم کو جانتا ہے، "یہ غصہ میں عمل تو سمجھ گیا لیکن جو ہوا اس کا جواز آپ نہیں بتا سکتے،”

 

 

سابق وزیر اعظم عمران خان نے سلمان رشدی پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے "خوفناک” اور "افسوسناک” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جہاں سلمان رشدی کی کتاب The Satanic Verses پر عالم اسلام کا غصہ قابل فہم تھا، بالکل ویسا ہی اس طرح کے حملے کا جواز بھی نہیں بن سکتا ہے کہ ان پر حملہ کیا جائے

Leave a reply