اسلام آباد:ورلڈ کال ٹیلی کام نے پی ٹی اے کے خلاف مقدمہ جیت لیا ،اطلاعات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ نے ورلڈ کال ٹیلی کام لمیٹڈ (WTL) کے حق میں اپنا فیصلہ سناتے ہوئے وزارت داخلہ کوحکم دیا ہے کہ ورلڈ ٹیلی کام کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکال کرجلد رپورٹ دی جائے ، یہ کیس ورلڈ ٹیلی کام کی طرف سے دائر تھا جس کا اسلام آباد ہائی کورٹ نے ورلڈ ٹیلی کام کے حق میں فیصلہ دیا ،

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس سردار اعجازالحق خان نے مبشر لقمان، محمد شعیب اور دیگر 10 افراد کی فیڈریشن آف پاکستان اور دیگر کے خلاف دائر درخواست نمبر 2518/2022 پر فیصلہ سنایا۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ درخواست دہندگان کی طرف سے اپیل قبول کرتے ہوئے عدالت اس بات کا حکم صادر کرتی ہے کہ وہ 1 ہفتے کے اندر اس عدالت کو مطلع کرتے ہوئے درخواست گزاروں کے نام ای سی ایل سے نکال دیں۔

عدالت کو جواب جمع کراتے ہوئے پی ٹی اے کا کہنا تھا کہ وزارت داخلہ نے وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کی درخواست پر درخواست گزاروں کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈالے تھے۔

پی ٹی اے اور ایم او آئی ٹی کےنمائندے کی طرف سے پیش ہونےوالےماہروکلا نےاعتراف کیا کہ جن معاملات کےبارے میں درخواست گزاروں کےنام ای سی ایل میں ڈالنے کی سفارشات کی گئی تھیں وہ زیرسماعت ہیں۔

 

اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی گئی اس درخواست کے مدعلیہان مندرجہ ذیل تھے : میسرز ارشد ایم طیبلی، عاصم شفیع اور عبدالاحد نعیم، ایڈووکیٹ۔ چودھری. محمد طاہر محمود A.A.G. خرم صدیقی، ڈائریکٹر جنرل (قانون)۔ ایم نعیم اشرف، ڈائریکٹر (لٹی گیشن)۔ چوہدری عادل جاوید، ایڈووکیٹ (لٹیگیشن)۔ شہمیر شاہد، ایم ٹی او (قانون)۔ فرحان بہار، ایم ٹی او (قانون)۔ نعیم خان- ڈپٹی ڈائریکٹر اور ماجد نیازی، AD/FIA، امیگریشن۔ شردت خان، لیگل ایگزیکٹو بھی اس میں فریق تھے

ورلڈ کال کی طرف سے نیلامی کےلیے آکشن جاری کردیا گیا

Shares: