آپ بھی لکھاری بن سکتے ہیں تحریر :۔فرزانہ شریف

0
69

اچھا لکھنے کے لیے آپ کا امیر ہونا۔خوبصورت ہونا یا کسی عہدے پر ہونا ضروری نہیں جیسا اس مالک پروردیگار نے بنایا بہت بہت خوبصورت بنایا اس کا ہر دم شکر بجالایا کریں آپ کو لکھنے کے لیے اپنی اندر سے صلاحیتی قوت کو خود ابھارنا ہوگا کچھ لوگوں کو اللہ کی طرف سے لکھنے کی صلاحیت گفٹ کی ہوئی ہوتی ہے کچھ لوگ اللہ کی دی ہوئی عقل سے اپنے اندر یہ صلاحیت تلاش کرلیتے ہیں اور اللہ کا نام لیکر لکھنا شروع کردیتے ہیں پھر وقت کے ساتھ ان کے قلم میں روانئ آنی شروع ہوجاتی ہے جب آپ کسی بھی ٹاپک پر لکھنا شروع کرتے ہیں سب سے پہلی بات نوٹ کرلیں۔۔آپکو پہلے اپنے دل ودماغ میں کہانی کا پلاٹ ترتیب دینا ہے اور جو خاکہ آپکے دماغ میں چل رہا ہوتا ہے اس کے مطابق آپ نے کرداروں کو لیکر چلنا ہوتا ہے پوری سٹوری میں دوسری بات ۔جس ٹاپک پر آپ لکھ رہے ہیں اس ٹاپک پرآپکی گرفت مضبوط ہونی چاہئیے اگر آپ کی گرفت کمزور ہوگی تو آپ اس سٹوری پر اچھا فوکس نہیں رکھ پائیں گے تو تحریر ذہنوں پر اچھا اثر نہیں چھوڑے گی اچھا لکھنے کے لیے آپکے پاس بہت ذیادہ معلومات ہونی چاہئیں جتنا ذیادہ آپکا مطالعہ وسیع اور معیاری ہوگا اتنا اچھا آپ لکھ پائیں گے اور اپنی لکھی ہوئی تحریر کے ضمن میں ہونے والے لوگوں کے سوالات کو اچھی طرح جواب بھی دے سکیں گے ورنہ کوئی بھی مضبوط دلیل کےساتھ آپکو لاجواب کردے گا اور آپ بے بسی سے ہاتھ ملتے رہ جاو گے اور شرمندگی الگ سے اٹھانی پڑے گی ۔۔۔
آپ کی لکھی تحریر میں اتنی تاثیر ہونی چاہئیے کہ آپکو پڑھنے والا سٹوری کے کرداروں میں کھو جائے اس کے لیےپھر یہ ہی کہوں گی کہ آپکا اردو ادب میں حد درجے دلچسپی آپکے قلم کو چار چاند لگا دے گی کیونکہ آپکے الفاظ ہی آپکی شخصیت ہوتے ہیں ۔اور ایک شاندار شخصیت کے عامل فرد کے ساتھ بہترین الفاظ کا ساتھ بہت ضروری ہے۔۔۔۔
ہمیشہ حق و سچ کے لیے اپنی آواز بلند کریں ۔حق سچ لکھیں کیوں کہ حق کی فتح ہے باطل مٹنے والی چیز ہے یہ پہلو آپکی شخصیت میں مزید اعتماد لاۓ گا ایک دفعہ آپ اس کوشش میں کامیاب ہوگے پھرآپ کا قلم کبھی سچ لکھنے سے ڈگمگائے گا نہیں۔۔
معاشرے کی برائیاں آپ قلم سے لکھ کر لوگوں کو ان برائیوں کی روک تھام کرنے کے لیے اچھے مشورے دلائل کے ساتھ سمجھا سکتے ہیں بشرطیکہ آپکے لفظوں میں تاثیر ہو آپ کے الفاظ متاثر کن ہوں۔ کسی بات پر تنقید مہذب اور نرم الفاظ کے ساتھ کیجئے کیونکہ سخت الفاظ اتنے پراثر نہیں ہوتے جتنے نرم الفاظ سامنے والے انسان کے دل پر اثر چھوڑتے ہیں ۔”لکھنے والے پڑھنے والوں کے محتاج ہوتے ہیں” آپ کو پڑھنے والے جب تک ہیں آپ لکھ سکتے ہیں لہذا دوسروں کی پسندنا پسند کا خیال رکھنا ایک اچھے لکھاری کی خوبیوں میں شامل ہے ہمیشہ کردار میں ڈوب کر لکھیں کہ پڑھنے والا آپ کے لکھے ہوئے کرداروں کے ساتھ ساتھ سفر کرتا ہوا محسوس کرے ایسا میرے ساتھ ہوتا رہا ہے جب میں خواتین ۔شعاع پڑھتی تھی تو ایسے لگتا تھا میں ان کرداروں کے ساتھ چل رہی ہوں ۔اور اپنے دل میں ایک نقشہ سا بنا لیتی تھی کہ مصنفہ کسی کہانی کےکردار کی ہیروئن کی طرح ہی ہوگی ۔پھر وقت گزرا کافی مضنفات کو سوشل میڈیا پر دیکھا اور اپنی اس وقت کی سوچ پر ہنسی آئی کہ ہم کیسے مصنفہ کے الفاظ سے اس کی شخصیت کا اندازہ لگانے لگ جاتے ہیں یہ نہیں کہ وہ خوب صورت نہیں تھیں یا مجھے دھچکا لگا تھا انھیں دیکھ کر ۔ بات بس اتنی سی ہے کہ جیسا انسان اپنے ذہین میں خاکہ بنا لیتا ہے تو پھر اسی خاکے کے حساب سے دیکھتا ہے ۔اللہ کی بنائی ہر چیز خوب صورت ہے ہم اس کا کروڑ دفعہ شکر ادا کرتے ہیں اس نے ہمیں نہ صرف خوبصورت ۔خوب سیرت بنایا بلکہ متحاجی سے بھی بچا کر رکھا ہوا ہے یہ بس اس کی کرم نوازی ورنہ ہم پر کوئی سرخاب کے پر نہیں لگے ہوئے ۔۔وہ دے کر بھی ازماتا ہے اور لےکر بھی اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ۔اللہ آزمائش اپنے پیاروں پر لاتا ہے تو وہ انسان اور اللہ کے قریب ہوجاتا ہے کیونکہ بظاہر وہ انسان کرب میں ہوتا ہے لیکن اس انسان پر اللہ کی خاص نظر ہوتی ہے اور اللہ اسے سجدے کی توفیق دے دیتا ہے اور جن سے ناراض ہوتا ہے ان کی رسی ڈھیلی چھوڑ دیتا ہے وہ اس بات پر کبھی خوش نہ ہوں کہ وہ آسمان سے اتری کوئی الگ مخلوق ہیں ان کو ہر دم اللہ کی پکڑ سے بچ کر رہنا چاہئیے کیونکہ جب وہ رسی کھینچتا ہے تو انسان منہ کے بل گر جاتا ہےکہ پھر انسان کو سنبھلنے کا موقع بھی نہیں ملتا ۔۔بس اللہ سے دعا ہے اللہ ہمیں اپنا قرب نصیب فرما دے ہم سب پر اپنی خاص کرم نوازی فرمائے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اپنا خاص فضل فرمائے ہم پر اپنے کرم کی بارش فرما دے کہ پھر کوئی زوال ہمیں شیطان کے بہکاوے میں نہ لاسکے ۔۔آمین

Leave a reply