یوٹیوب کا بھی تخلیق کاروں کے لیے این ایف ٹی پر غور

0
23

سان فرانسسكو:یوٹیوب بھی تخلیق کاروں کے لیے این ایف ٹی پر غور کررہی ہے۔

باغی ٹی وی : میڈیا رپورٹس کے مطابق یوٹیوب کی سی ای او سوسن ووچسکی نے ایک خط میں کہا ہے ہم نے یوٹیوب ایکوسسٹم میں ہمیشہ کوشش کی ہے کہ تخلیق کار ابھرتی ٹیکنالوجی سے مالی فوائد حاصل کریں جن میں این ایف ٹی جیسی چیزیں بھی شامل ہیں اس لیے ویڈیو بنانے والوں اور مداحوں کے لیے ان تجربات کو جاری رکھا جائے گا-

اسی خط میں گیمنگ اور شاپنگ کے لیے بھی یوٹیوب کا دائرہ وسیع کرنے کا کہا گیا ہے لیکن خط میں زور دے کر کہا گیا ہے کہ وہ ’ویب تھری‘ سے متاثر ہیں جن میں کرپٹو، ڈی سینٹرلائزڈ آٹونومس آرگنائزیشن (ڈے اے او) اور این ایف ٹی شامل ہیں۔

مودی حکومت نے پاکستان کے 35 یوٹیوب چینلز اور ویب سائٹس پر پابندی عائد کردی

اس سے قبل ٹویٹر نے صارفین کو سہولت فراہم کی تھی کہ وہ پروفائل تصویر میں این ایف ٹی بطور نقل لگاسکیں اب سے چنددن پہلے میٹا نے بھی کہا تھا کہ وہ بالخصوص میٹاورس اور انسٹاگرام کے لیے این ایف ٹی کی تجارت پر غور کررہی ہے پہلے مرحلے میں لوگ ٹوکن کو بطور ڈسپلے رکھ سکیں گے۔

واضح رہے کہ تخلیق کار پہلے ہی اپنی مشہور ہوجانے والی ویڈیو کو بطور این ایف ٹی فروخت کررہے ہیں ان میں سے ایک ویڈیو گزشتہ برس این ایف ٹی کے طور پر فروخت ہوئی تھی۔ اس ویڈیو کا نام ’چارلی بٹ می‘ تھا جس میں ایک چھوٹے بچی اپنے بھائی کی انگلی پر کاٹ رہی ہے یہ ویڈیو 7 لاکھ 61 ہزار ڈالر میں فروخت ہوئی پھر ڈیوڈ آفٹر ڈینٹسٹ نامی ایک ویڈیو این ایف ٹی کے طور پر 11 ہزار ڈالر میں بکی تھی-

سعودی عرب میں ہزاروں میل رقبے پر پھیلے 4500 سال قبل بنائے گئے مقبرے دریافت

این ایف ٹی کیا ہے؟
این ایف ٹی سے مراد نان فنجیبل ٹوکن ہے یہ ایک خاص قسم کا ڈیجیٹل سرٹیفیکیٹ ہے جو کہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ کسی تصویر، ویڈیو یا دیگر قسم کے آن لائن مواد کا اصل مالک کون ہے معاشیات کی زبان میں فنجیبل اثاثے سے مراد کوئی ایسی چیز ہے جس کا فوری تبادلہ ممکن ہے، جیسے روپے پیسے۔ اگر کوئی آپ کو 100 روپے کا نوٹ دیتا ہے تو آپ اس کا تبادلہ دو 50 روپے کے نوٹوں سے کرسکتے ہیں۔

مائیکروسافٹ نے ’کینڈی کرش‘ بنانے والی کمپنی خرید لی

این ایف ٹی ڈیجیٹل دنیا میں ‘اپنی نوعیت کے واحد’ اثاثے ہیں جن کی خرید و فروخت کسی دوسرے اثاثے کی طرح ممکن ہے۔ لیکن یہ مواد آن لائن موجود ہوتا ہے، ہمارے ہاتھوں میں کسی ٹھوس شکل میں نہیں این ایف ٹی میں جاری ہونے والے ڈیجیٹل ٹوکن یا سرٹیفیکیٹ کے ذریعے یہ پتا چل سکتا ہے کہ کسی آن لائن اثاثے کا اصل مالک کون ہے اسی طرح ہم ٹھوس حالت میں پائے جانے والے اثاثوں کے لیے بھی این ایف ٹی جاری کر سکتے ہیں جو اس کے اصل ہونے کی دلیل دیتا ہے۔

امریکا: میڈیکل سائنس کی دنیا میں پاکستانی ڈاکٹر کا شاندار کارنامہ،انسان میں خنزیر…

ہانگ کانگ میں پرائیویٹ ایکویٹی فرم اوسیرس گروپ میں پارٹنر سردار احمد درانی کا خیال ہے کہ این ایف ٹی کا اصل مقصد یہ ہے کہ ڈیجیٹل آرٹ (تصاویر، ویڈیوز یا دیگر آن لائن مواد) کی نقل تیار نہ ہوسکے اور اس میں تحریف نہ ہوسکے۔ یہ ایک قسم کی ڈیجیٹل آئی پی (انٹیلیکچوئل پراپرٹی) ہے وہ کہتے ہیں کہ امریکہ میں بھی کھیلوں کی مختلف لیگز نے اپنے کولیکٹیبلز (کھیلوں کے سامان یا کارڈز) کو این ایف ٹیز میں تبدیل کیا اور اب وہ لاکھوں ڈالر میں فروخت ہوتے ہیں۔

سردار درانی کے مطابق ڈیجیٹل اثاثوں اور آن لائن مواد کو این ایف ٹی میں تبدیل کیا جا رہا ہے تاکہ اصل مالکان یا فنکار اپنا کام اور اس کے جملۂ حقوق محفوظ رکھ سکیں۔

خواجہ سراؤں پر تشدد کی رپورٹنگ کیلئے موبائل ایپ تیار

Leave a reply