ضمنی الیکشن، انتخابی مہم کا آج آخری دن،لاہور، بھکراورملتان میں رینجرز تعینات کرنے کا فیصلہ

0
45

پنجاب اسمبلی کے 20 حلقوں میں ضمنی الیکشن کیلئے آج انتخابی مہم کا آخری دن ہے، رات 12 بجے کے بعد انتخابی مہم پر پابندی ہوگی۔الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ تمام جماعتیں اور امیدوار آج رات انتخابی مہم ختم کردیں، رات 12 بجے کے بعد جلسہ جلوس کارنر میٹنگز پر پابندی ہوگی۔الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ پابندی کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔پنجاب اسمبلی ضمنی انتخابات کے سلسلے میں جاری انتخابی مہم آج رات 12 بجے ختم ہو جائے گی۔

عمران خان سیاسی وفاداریاں بدلنے والے کیساتھ کھڑے کر لوٹوں کو ووٹ نہ دینے کا کہتے رہے

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب اسمبلی کی 20 نشستوں پر ضمنی انتخاب 17 جولائی کو ہوگا۔ پی پی 7راولپنڈی، پی پی83 خوشاب،پی پی90 بھکر ، فیصل آباد کے حلقہ پی پی 97 ، جھنگ میں حلقہ پی پی125 ،127 اور شیخوپورہ میں پی پی 140 پر ضمنی انتخاب ہوگا۔اس کے علاوہ لاہور کی نشست پی پی 158، 167، 168 اور پی پی 170 پر ضمنی انتخاب ہوگا جبکہ ساہیوال میں پی پی202 ، پی پی217 ملتان، لودھراں کے حلقہ پی پی 224 اور 228 پر ضمنی الیکشن ہوگا۔بہاولنگر میں پی پی 237 اور مظفر گڑھ کے 3 حلقوں پی پی 237، 272، 273 پرضمنی انتخاب ہوگا۔ لیہ کے حلقہ پی پی 282 اور ڈیرہ غازی میں پی پی 288 پر بھی ضمنی انتخاب کا میدان سجے گا۔

 

آئین توڑنے والوں کے خلاف غداری کا مقدمہ چلنا چاہیے،مریم نواز

 

پنجاب میں 20 سیٹوں پر ضمنی الیکشن کے لیے امیدواروں کی جانب سے جوڑ توڑ کا سلسلہ جاری ہے۔پنجاب کے 20 حلقوں میں ضمنی انتخاب کے لیے مہم کا آج آخری دن ہے جس کے لیے امیدوار ووٹروں کو منانے کے لیے آخری جتن کر رہے ہیں اور وعدے قسموں کا کھلا استعمال کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب ضمنی انتخابات کے دوران ماحول سازگار رکھنے کے لیے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے چیف سیکرٹری، آئی جی پنجاب اور متعلقہ اداروں کو ضمنی انتخابات کے دوران پر امن ماحول کو یقینی بنانے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی زیر صدارت اجلاس میں کہا گیا کہ الیکشن کے دوران اسلحہ بردار اکٹھے کرنے والے امیدوار کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائےگی۔ پولنگ کے دوران شر پسند عناصر سے متعلق قانون نافذ کرنے والے اداروں کو تحریری طور پر آگاہ کرنےکی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

صوبائی وزیر داخلہ عطا اللہ تارڑ کی زیر صدارت امن و امان اور ضمنی الیکشن کے دوران سکیورٹی صورتحال کے حوالے سے اجلاس منوقد ہوا. ئی وزیر داخلہ عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ اسلحہ رکھنا اور اس کی نمائش پر دفعہ 144 کا نفاذ عمل میں لایا جا چکا ہے،الیکشن کے دوران کسی کو اسلحہ رکھنے کی اجازت نہ ہوگیی،اسلحہ سے پاک کمپین کے دوران پولیس نے بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد کیا ،دھاندلی کا الزام لگانے والے اب افسران کو دھمکیاں دینے پر اتر آئے ہیں، تحریک انصاف یقینی شکست دیکھ کر لوگوں کو بدامنی پر اکسا رہی ہے ،امن و امان کی صورتحال کو یقینی بنانے کے لیے علی امین گنڈا پور اور مقبول گجر کے پنجاب داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے ۔پنجاب حکومت کی اطلاعات تھیں اور الیکشن کمیشن کی طرف سے بھی خط موصول ہوا ہے کہ علی امین گنڈا پور اور مقبول گجر پنجاب میں پرتشدد کاروائیاں کرنا چاہتے ہیں،پنجاب میں پرامن ،صاف اور شفاف انتخابات کو یقینی بنایا جائے گا.اسلحہ کے خلاف مکمل کریک ڈاؤن کیا جائے گا ، بد امنی پھیلانے والے عناصر سے قانون آہنی ہاتھوں سے نمٹے گا ۔ تحریک انصاف کے مسلح جتھے اپنی سازش میں ناکام ہوں گے ۔

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب اسمبلی کے 20 حلقوں میں 17 جولائی کو ہونے والے ضمنی الیکشن کی تیاریاں آخری مرحلے میں داخل ہو گئی ہیں۔ذرائع کا بتانا ہے کہ الیکشن کمیشن نے 20 حلقوں کے لیے 47 لاکھ 30 ہزار 600 بیلٹ پیپرز چھاپے گئے ہیں جبکہ ایک لاکھ 53 ہزار657 اضافی بیلٹ پیپرز بھی چھاپے گئےہیں۔

ذرائع الیکشن کمیشن کے مطابق ضمنی الیکشن کے لیے بیلٹ پیپرز اور فارمز کی ریٹرننگ افسران کو ترسیل شروع کر دی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن نے آر اوز کے مجاز نمائندوں کو بیلٹ پیپرز وصولی کے لیے طلب کیا ہوا ہے، تمام بیلٹ پیپرز کی چھپائی اسلام آباد میں ہوئی، تمام بیلٹ پیپرز سخت سکیورٹی میں متعلقہ حلقوں میں پہنچائے جائیں گے۔

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق 17 جولائی کو ہونے والے ضمنی انتخابات کے لئے لاہور کے 4 حلقوں سمیت بھکراورملتان میں رینجرز تعینات کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کے مطابق یہ تمام حلقے انتہائی حساس ہیں اس لئے سکیورٹی میں رینجرز کو ڈالا گیا ہے، پاک فوج کو 4 حساس حلقوں میں تعینات کرنے کی درخواست دی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملتان، بھکر اور لاہور کے حلقے انتہائی حساس ہیں، تمام انتخابی حلقوں میں پولیس کے ساتھ رینجرز بھی تعینات ہو گی۔

دوسری جانب رپورٹ کے مطابق ضمنی انتخاب کے محاذ پر پی پی 158 کا حلقہ سیاسی طورپر انتہائی متحرک نظر آرہا ہے، تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن کے امیدواروں کے درمیان کانٹے دار مقابلہ متوقع ہے، سیاسی جماعتوں کے ووٹ بینک کے ساتھ ساتھ امیدواروں کا اپنا اثرو رسوخ اہم کردار ادا کرے گا۔

پی پی 158 واحد حلقہ ہے جہاں ڈی سیٹ ہونے والے سابق صوبائی وزیر علیم خان مقابلے میں نہیں، تحریک انصاف نے میاں اکرم عثمان اور مسلم لیگ ن نے رانا احسن شرافت کو انتخابی اکھاڑے میں اتار دیا.پی پی 158 کے حلقے میں ٹوٹل آباد ی تین لاکھ 64 ہزار 205 ہے، کل ووٹر ایک لاکھ 95 ہزار 777 ہیں، مرد ووٹرز ایک لاکھ پانچ ہزار دو سو انہتر جبکہ خواتین ووٹرز نوے ہزار پانچ سو آٹھ ہیں، پی پی 158 میں گلبر گ ، گلدشت کالونی، اپرمال، شاد مان ،شاہ جمال، دھر م پورہ ،گڑھی شاہو اورصدر کے علاقے شامل ہیں،اس حلقہ کے عوام مسائل بارے شکایات کرتے نظر آتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کی انتخابی مہم کے سلسلے میں اس حلقے میں پارٹی چیئرمین عمران خان بھی ایک ورکر کنونشن سے خطاب کرچکےہیں جبکہ مسلم لیگ ن کے امیدار رانا احسن شرافت کی مہم میں لیگی رہنما بھی پیش پیش ہیں۔ سابق صوبائی وزیرعلیم خان ڈی سیٹ ہونے کے بعد الیکشن تو نہیں لڑ رہے لیکن رانا احسن کے ساتھ مکمل تعاون ضرور کر رہے ہیں۔لاہور ہی کے حلقہ پی پی 167 میں مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کے درمیان کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے.

پنجاب کے ضمنی انتخابات میں خوشاب کے حلقے پی پی 83 نے خاص اہمیت حاصل کر لی ہے۔پاکستان تحریک انصاف کے ناراض کارکن ملک حامدمحمود ڈھل ٹوانہ جبکہ مسلم لیگ ن کے سابقہ ممبر صوبائی اسمبلی ملک محمد آصف بھاءاپنی اپنی پارٹیوں کی جانب سے ٹکٹ جاری نہ کیے جانے پر آزاد حیثیت سے میدان میں اتر رہے ہیں۔حلقہ پی پی 83 خوشاب میں ووٹوں کی کل ووٹوں کی تعداد 3 لاکھ 22 ہزار 428 ہے۔ جس میں مرد ووٹروں کی تعداد ایک لاکھ 68 ہزار 279 ہے جبکہ اس حلقہ میں خواتین ووٹرز کی تعداد ایک لاکھ 54 ہزار149 ہے۔ اس حلقے میں ٹوٹل پولنگ اسٹیشنز کی تعداد 215 ہےجس میں53 خواتین کے پولنگ اسٹیشنز ہیں اور53 ہی مردوں کے لیے وقف کیے گئے ہیں اور 109 مشترکہ پولنگ اسٹیشنز ہیں۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے حلقے میں قائم کیے جانے والے پولنگ بوتھ کی کل تعداد 626 ہے جن میں سے 328 مردوں کیلئے اور 298 خواتین کیلئے مختص کیے گئے ہیں۔ خوشاب کے حلقے پی پی 83 میں سات آزاد امیدواروں سمیت 10 امیدوار انتخابی میدان میں مدِ مقابل ہوں گے۔حلقہ پی پی 83 سے کسی بھی خاتون امیدوار نے انتخابی میدان میں حصہ نہیں لیا۔

مسلم لیگ ن نے ملک امیر حیدر سنگھا کو میدان میں اتارا ہے۔ ملک امیر حیدر سنگھا منحرف سابق ایم پی اے ملک غلام رسول سنگھا کے بھائی ہیں۔ اس حلقے میں تحریک انصاف نے ملک حسن اسلم اعوان کو مقابلے کے لیے میدان میں اتارا ہے، جن کا بطور امیدوار یہ پہلا الیکشن ہے۔ملک حسن اسلم خان خوشاب سابق وفاقی وزیر تجارت و سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ملک نعیم خان اعوان مرحوم کے بھانجے ہیں اور پی ٹی آئی کے موجودہ مستعفی ایم این اے ملک اعوان کے چھوٹے بھائی ہیں۔تحریک لبیک پاکستان نے اپنے فعال کارکن زمرد عباس خان کو ٹکٹ جاری کیا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کو جھنگ میں بڑا دھچکا لگ گیا، مخدوم فیصل صالح حیات نے مسلم لیگ ن کے امیدواروں کی حمایت کا اعلان کر دیا۔ مخدوم فیصل صالح حیات نے جھنگ آمد پر پی پی 125 فیصل حیات جبوانہ اور پی پی 127 مہر اسلم بھروانہ کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا اور الیکشن مہم میں بھرپور کردار ادا کرنے کا عزم بھی کیا۔

واضح رہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کو ووٹ دینے والے تحریک انصاف کے 25 منحرف اراکین کو الیکشن کمیشن کی جانب سے ڈی سیٹ کیے جانے کے بعد 20 حلقہ میں ضمنی انتخاب 17 جولائی کو ہوگا جب کہ 5 مخصوص نشستوں پر الیکشن کمیشن نوٹیفکیشن جاری کر چکا ہے۔

زرائع کے مطابق پنجاب میں عام انتخابات سے قبل 17 جولائی کو صوبائی اسمبلی کی 20 نشستوں پر سیاسی جماعتوں میں ایک ایسا سیاسی معرکہ ہونے جا رہا ہے جو کہ ناصرف پنجاب میں سیاسی بحران کو ختم کرے گا بلکہ اگلے وزیراعلیٰ کا انتخاب بھی انہی سیٹوں پر منحصر ہے۔ ان ضمنی انتخابات میں ملک کی دو بڑی جماعتوں مسلم لیگ ن اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان کانٹے دار مقابلہ متوقع ہے۔

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق راولپنڈی جو کہ ماضی میں مسلم لیگ ن کا مضبوط قلعہ سمجھا جاتا تھا، مگر گزشتہ انتخابات میں مسلم لیگ کو اصل ضرب اسی ضلع سے پڑی تھی اور مسلم لیگ ن کو اپنے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی شکست سمیت بڑے بڑے اپ سیٹ کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس مرتبہ راولپنڈی کے حلقہ پی پی 7 سے چھ امیدواران انتخابی میدان میں اتر رہے ہیں۔ حلقہ پی پی 7 میں کل 3 لاکھ 35 ہزار 295 ووٹ رجسٹرڈ ہیں، جن میں سے ایک لاکھ 71 ہزار 464 مرد ووٹرز جبکہ ایک لاکھ 63 ہزار 831 خواتین ووٹرز حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ حلقہ پی پی 7 راولپنڈی کے اہم علاقوں کہوٹہ،کلرسیداں، مٹور ، نرڑ، بیور، نارہ، کلر سیداں شہر، چوآخالصہ اور دوبیرن کلاں پر مشتمل ہے۔ پی پی 7 میں دو بڑی برادریوں راجپوت اور اعوان کا اثر رسوخ ہے

اس حلقے میں قومی اسمبلی کا حلقہ این اے 57آتا ہے جس میں صداقت علی عباسی ایم این اے ہیں جبکہ مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما شاہد خاقان عباسی کا تعلق بھی اسی حلقے سے ہے اور وہ کھل کر راجہ صغیر کی حمایت اور مہم چلا رہے ہیں۔ گزشتہ ا لیکشن میں مسلم لیگ ن کی اس حلقے میں کاررکردگی زیادہ متاثر کن نہیں تھی اور وہ یہاں سے قومی اور صوبائی اسمبلی کی سیٹیں ہار گئی تھیں۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے حلقے میں کل 266 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں، جن میں سے 36 مردوں، 35 خواتین اور195 مشترکہ پولنگ اسٹیشن ہیں، جبکہ قائم کیے جانے والے پولنگ بوتھ کی تعداد 789 ہے ، جن میں سے 396 مردوں اور 393 خواتین کے لیے مختص ہیں۔

پاکستان مسلم لیگ ن نے راجہ صغیر احمد کو انتخابی میدان میں اتارا ہے، جو دوسری مرتبہ انتخابی عمل میں قسمت آزمانے جارہے ہیں۔ راجہ صغیر احمد نے 2018ء کے عام انتخابات میں اس حلقے سے آزاد حیثیت سے کامیابی حاصل کی تھی، جس کے بعد انہوں نے پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر لی، ان کے مقابلے میں تحریک انصاف نے تجربہ کار سیاست دان کرنل (ر) محمد شبیر اعوان پر انحصار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
دیگر جماعتوں کی بات کی جائے تو جماعت اسلامی پاکستان نے تنویر احمد جبکہ تحریک لبیک پاکستان نے منصور ظہور کو ایک بار پھر آزمانے کا فیصلہ کیا ہے۔ تحریک لبیک کے امیدوار کو تحصیل کلرسیداں اور کہوٹہ میں کافی پزیرائی مل رہی ہے۔ اس حلقے میں لوگ ووٹ برادری اور شخصیت کو دیکھ کر ڈالتے ہیں۔

پی پی 7 میں تحریک لبیک پاکستان جو کہ اپنی انتخابی مہم بھی زور و شور سے چلا رہی ہے اس حلقے میں حیران کن نتائج دینے کی صلاحیت رکھتی ہے اور اس کے امیدوار منصور ظہور نے 2018 کے عام انتخابات میں 15 ہزار 68 ووٹ حاصل کیے تھے۔ پی پی 7 سے کسی بھی خاتون امیدوار نے انتخابی میدان میں حصہ نہیں لیا۔

کل مسالک کے علماء بورڈ کے مرکزی قائدین نے پنجاب کے ضمنی الیکشن میں پی ٹی آئی کے امیدواروں کی حمایت کا اعلان کر دیا۔

پاکستان تحریک انصاف سینٹرل پنجاب کے جنرل سیکرٹری حماد اظہر نے سیکرٹری اطلاعات سینٹرل پنجاب عندلیب عباس اور کل مسالک علماء بورڈ کے چیئرمین مولانا مخدوم عاصم محمود کے ہمراہ پارٹی دفتر جیل روڈ میں پریس کانفرنس کرتے ھوئےکہاکہ میں شکریہ ادا کرتا ہوں علما کرام کا جنہوں نے ہماری حمایت کا علان کیا۔

پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما اسد عمر نے کہا ہے کہ صوبائی مشینری استعمال کر کے الیکشن میں دھاندلی کی کوشش کی جارہی ہے، حمزہ شہباز پہلے دن سے غیر آئینی وزیراعلیٰ ہیں ،ہمارے امیدواروں کو نامعلوم نمبرز سے فون کالز آرہی ہیں۔

سابق وفاقی وزیر اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اسد عمر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حمزہ شہباز پہلے دن سے غیر قانونی وزیر اعلیٰ ہے لیکن ہم نے ضمنی الیکشن کے نتائج آنے تک انہیں وزیراعلیٰ مان لیا۔ سپریم کورٹ نے کہا تھا حمزہ شہباز نے کسی طور پر انتظامی طور پر اثر انداز نہیں ہونا ہے۔انہوں نے کہا کہ حمزہ شہباز کی حیثیت نگراں وزیراعلیٰ سے زیادہ نہیں ہے جبکہ ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز کی جانب سے پٹواریوں کے پاس کالیں جا رہی ہیں، ڈی پی او جھنگ کے خلاف پہلے ہی تحریک جمع تھی کیونکہ ضمنی الیکشن شیڈول کے بعد انہیں خلاف قانون ڈی پی او جھنگ لگا دیا گیا۔

اسد عمر نے کہا کہ پولیس ہمارے لوگوں کے خلاف پرچے کاٹ رہی ہے جبکہ ڈپٹی کمشنر، ڈی سی او لیہ اور ایس ایچ او چیچہ وطنی کے خلاف بھی شکایات آ رہی ہیں، یہ لوگ جو کام کر رہے ہیں وہ قانون اور الیکشن قواعد کی خلاف ورزی ہے۔انہوں نے کہا کہ ضمنی الیکشن میں دھاندلی کی پوری کوشش کی جا رہی ہے، غیر قانونی کام کرنے والے افسروں کو اس کی قیمت چکانی پڑے گی۔

Leave a reply