صحافی، انتظامیہ کا آسان ہدف۔۔۔۔۔۔۔۔

صحافی، انتظامیہ کا آسان ہدفصحافی معاشرے کی آنکھ ہوتا ہے بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ قوموں کی تربیت کرنے، ان کی ترقی کا رخ متعین کرنے، حکومتیں بنانے اور گرانے میں قلم کا کردار سب سے زیادہ ہے لیکن آئے دن صحافیوں پر تشدد اور ہراسمنٹ کے واقعات نے صحافیوں میں خوف و ہراس پیدا کر رکھا ہے سرمایہ کاروں اور انتظامیہ کی جانب سےتیار کردہ صحافی یا وہ لوگ جنہوں نے اپنے مجرمانہ ریکارڈ کو چھپانے کے لیے صحافت کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے وہ سچ لکھنے اور حقائق چھپانے کو مصلحت کا نام دے کر اپنا طرہ بلند رکھے ہوئے ہیں صحافیوں پر تشدد کے واقعات عموما سیاستدانوں، محکمہ صحت اور پولیس کے اہلکاروں کی جانب سے دیکھے گئے ہیں تشویش ناک عمل تو یہ ہے کہ پولیس کی جانب سے تشدد کے واقعات کی انکوائری پولیس ملازم ہی کرتا ہے ایسی صورت میں انصاف ملنا تو درکنار الٹا مدعی صحافی کو ہی مجرم ٹھہرا دیا جاتا ہے اور اس سارے عمل میں مندرجہ بالا مذکورہ اقسام کے صحافی مصلحت قرار دے کر ظالم کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں بس یہی وجہ ہے کہ صحافیوں پر تشدد اور ہراسمنٹ کے واقعات کو روکنے کے لیے جلد از جلد قانون سازی کے ضرورت ہے

پاکستان پریس فاونڈیشن کے جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق سال 2002 سے 2019 تک صحافیوں پر تشدد کے 699 واقعات ریکارڈ کیئے گئے ہیں ان 17 سالوں میں 42 صحافیوں کو پولیس نے ہراست میں لے کر حبس بے جا میں رکھا، 22 صحافیوں کو اغواء کیا گیا ان تمام واقعات میں 185 صحافی زخمی ہوئے اور 73 صحافی پیشہ ورانہ امور انجام دیتے ہوئے جان کی بازی ہار گئے

صحافتی امور انجام دینے پر تشدد کا ایک واقعہ لیہ میں ڈان اخبار کے رپورٹر فرید اللہ چوہدری کے ساتھ بھی پیش آیا جو واضح کرتاہے کہ صحافیوں کو خود اپنے لئے انصاف کے حصول میں کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتاہے فرید اللہ چوہدری نے سماء سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ستمبر 2010 کے پہلے ہفتے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال لیہ میں نرسنگ سکول کی طلبات نے احتجاج کیا اور کوریج کے لیے میڈیا کو کال دی ہم پریس کلب سے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال پہنچے تو نرسنگ سکول کی پرنسپل وکٹوریہ نے میڈیا نمائندگان کو اندر جانے سے منع کر دیا اور ہمیں گیٹ پر روک لیا گیا اندر طلبات کا شور تھا اس لیے ہم وہیں موجود رہے تاکہ حالات کا جائزہ لے سکیں لگ بھگ دس منٹ گزرنے کے بعد ای ڈی او ہیلتھ لیہ ڈاکٹر مختار حسین شاہ ہنگامی طور پر وہاں پہنچے اور صحافیوں کو گیٹ پر ہی چھوڑ کر طلبات کے پاس چلے گئے تاکہ مسئلہ سنا جائے اورمذاکرات کیے جا سکیں۔نرسنگ سکول کی طلبات نے احتجاج کیا کہ ہم معاملہ میڈیا نمائندگان کی موجودگی میں ہی سنائیں گی ورنہ احتجاج جاری رہے گا حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے مجبورا ای ڈی او نے میڈیا نمائندگان کو اندر آنے کی اجازت دے دی۔ ہماری موجودگی میں نرسنگ سکول کی طلبات نے بتایا کہ فیئرویل پارٹی کے موقع پر ہماری پرنسپل وکٹوریہ نے ای ڈی او ہیلتھ ڈاکٹر مختار حسین شاہ کی بیگم( جو کہ اسی سکول میں لیکچرار تھیں) کو کچھ قیمتی تحفے دیئے اور پارٹی ختم ہونے پر وہ بھاری رقم ہمارے وظیفے سے کٹوتیاں کر کے پوری کی جا رہی ہے جو کہ ہمیں نا منظور ہے

فریداللہ چوہدری نے سماء سے گفتگو کرتے ہوئے مزید بتایا کہ ہم میڈیا نمائندگان نے نرسنگ سکول کی طلبات کے بیانات قلم بند کر لیے اور میں نے اگلے دن ڈان اخبار میں تمام سٹوری چھاپ دی جس کے بعد مجھے بذریعہ فون دھمکیاں ملیں کہ نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہنا اور کچھ دستوں سے پیغام ملا کہ ای ڈی او کی بیوی کا نام چھپنے کی وجہ سے وہ غصے میں ہے اس لیے محتاط رہیں میں نے معاملے کو زیادہ سنجیدہ نہیں لیا۔ تھوڑے ہی دنوں بعد ہمارے دوست عزیز عدیل علیل تھے تو ان کی تیمارداری کے لیے رات 8 بجکر 30 منٹ پر ہمراہ غلام مصطفی جونی ایڈووکیٹ اور عبدالستار علوی کے میں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال پہنچا تیمار داری کے بعد خبر کے فالو اپ کے حوالے سے ڈان اخبار کے ڈیسک سے کال آئی تو میرے ساتھیوں نے مجھے فون پر مصروف چھوڑ کر آگے آگے چلنا شروع کر دیا بجلی نہ ہونے کہ وجہ سے اندھیرا تھا۔ کچھ لوگ میرے قریب آئے اور مجھے پوچھا کہ کیا آپ کا نام فرید اللہ ہے میں نے جواب دیا کہ ‘جی’ تو انہوں نے مجھے پر ہلہ بول دیا اور یہی کہتے رہے کہ آج تمہیں رپورٹنگ سیکھاتے ہیں ہم آج تمہیں رپورٹر بناتے ہیں ان افراد کی تعداد 6 تھی ایک نے مجھ پر چھری سے وار کیا لیکن کپڑے کھلے ہونے کے وجہ سے چھری قمیض کےدائیں جیب پر لگی اور وہاں پھنس گئی شور شرابہ ہونے اورموٹر سائیکل گرنے پر میرے ساتھیوں سمیت سب لوگ متوجہ ہوئے اور ہماری طرف لپکے لیکن اتنی دیر میں حملہ آور بھاگنے میں کامیاب ہوچکے تھے

فریداللہ چوہدری نے سماء سے گفتگو کرتے ہوئے مزید بتایا کہ ہم نے پولیس کو کال کی اور سامان پورا کیا تو پتہ چلا کہ فرنٹ والی جیب پھٹنے کی وجہ سے جیب میں موجود 13 ہزار روپے اور موبائل غائب ہے تلاش کرنے پر موبائل تو مل گیا لیکن پیسے نہ مل سکے اس سارے واقعے کا اندراج پولیس تھانہ سٹی لیہ میں مقدمہ نمبر623/10 زیر دفعات 379/506 اور 147/148 درج کر لیا گیا ہمارے اپنے نیٹ ورک کے ذریعے ہم حملہ آوروں کے نام تلاش کرنے میں کامیاب ہوگئے اور اس وقت کے صدر ڈسٹرکٹ پریس کلب محمد یعقوب مرزا نے ملزمان نامزد کروا دیئے چونکہ ای ڈی او ہیلتھ ڈاکٹر مختار حسین شاہ اس وقت کے ڈی سی او جاوید اقبال مرحوم کے قریبی دوست تھے اس لیے ڈی سی او کے توسط سے اس وقت کے ڈی پی او چوہدری محمد سلیم کو کہلوا کر بغیر انکوائری کےمیرا مقدمہ خارج کروا دیا گیا سارے معاملے کی سٹوری ڈان میں چھپی معاملہ گرم ہوا لیکن انتظامیہ کی ملی بھگت سے پردہ ڈال دیا گیا۔ وقت گزرتا رہا لگ بھگ 3 ماہ کے بعد علاقہ مجسٹریٹ نے خارج ہونے والے مقدمات کو دیکھتے ہوئے میرے مقدمے کا نوٹس لیا اور اپنی عدالت میں ہی اس معاملے کی سماعت کے لیے مجھے مدعو کر لیا پیش ہوکر میں نے بتایا کہ مقدمے کا اخراج میرے علم میں نہیں اور نہ ہی پولیس نے مجھے انکوائری کے لیے ایک سے زائد بار بلایا ہے اور یوں میرا مقدمہ دوبارہ کھول دیا گیا اور سماعت شروع ہوگئی

فریداللہ چوہدری نے سماء سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ابھی مقدمے کی انکوائری چل رہی تھی کہ نرسنگ سکول کی طلبہ نے ایک بار پھر احتجاج کی کال دے دی لیکن اس بار وہ صدر بازار لیہ میں دھرنا دینے کے لیے آئی تھیں انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ رات کو نرسنگ سکول کی پرنسپل وکٹوریہ نوجوان طلبات کو انتظامیہ کے بڑے آفیسرز اور سیاستدانوں کی کوٹھیوں اور رہائش گاہوں پر جانے کے لیے مجبور کرتی ہے ہمیں برے کام کی دعوت دی جاتی ہے ہمیں برائی سے بچایا جائے۔ یہ یقینا بہت پریشان کن اور حیران کن خبر تھی جس نے پورے پاکستان میں کھلبلی مچادی ہر انسان ادھر متوجہ تھا اس احتجاج میں اس وقت کے پاکستان پیپلز پارٹی کے منتخب ایم پی اے افتخار بابر خان کھتران ، وزیر زراعت پنجاب ملک احمد علی اولکھ، مسلم لیگ ن کے ایم پی اے مہر محمد اعجاز اچلانہ سمیت بڑی بڑی سیاسی شخصیات نے طلبات کا ساتھ دیا ای ڈی او ہیلتھ ڈاکٹر مختار حسین شاہ فورا 3 ماہ کی چھٹیوں پر چلے گئے اور یہ دھرنا صدر بازار سے ختم ہو کر پریس کلب لیہ کے سامنے مسلسل 7 دن جاری رہا بلآخر انتظامیہ نے طلبات کے مطالبات مانے اور انہیں سکول واپس جانے کے لیے قائل کر لیا گیا البتہ یہ کیس وفاق محتسب کے پاس چلا گیا

فریداللہ چوہدری نے سماء سے گفتگو کرتے ہوئے مزید بتایا کہ معاملے کو یہاں تک پہنچتے 2 سال لگ گئے اس دوران محکمہ ہیلتھ نے نئے صحافیوں کا ایک گروپ لانچ کیااخراجات کر کے انہیں مختلف اخبارات اور چینلز کی نمائندگی لے کر دی تاکہ محکمہ صحت کی کرپشن اور بے ضابطگیوں کے خلاف جو صحافی خبریں لگائے اس کی تردید بھی کی جاسکے اور متعلقہ صحافی کی ذات پر کیچڑ بھی اچھالا جا سکے۔ انہیں دنوں ای ڈی او ہیلتھ کے چھوٹے بھائی سید گلزار حسین شاہ نے ایل ایل بی مکمل کرنے کے بعد بار ایسوسی ایشن لیہ کو جوائن کر لیااور میرے گواہ وکیلوں کو ووٹ کے لالچ پر پیش ہونے سے قاصر کر دیا گیا مجھے معاشرتی دباو پر صلح کے لیے آمادہ کیا گیا۔ میرے گواہ منحرف ہونے کے بعد میں صلح پر مجبور ہوگیا اس لیے کمرہ عدالت میں ملزمان کی جانب سے معافی مانگنے پر انہیں معاف کردیا۔ معافی کے وقت علاقہ مجسٹریٹ مسلسل مجھے سوچنے کی مہلت لینے کا کہتے رہے اور بار بار کہا کہ مجرموں کو کیفرکردار تک پہنچنے دو لیکن گواہوں کی انحراف کی وجہ سے میں مجبور تھا اس لیے معاف کر دینا ہی واحد حل بچتا تھا

سباق صدر پریس کلب لیہ محمد یعقووب مرزا نے اس معاملے پر سماء سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ صحافیوں پر تشدد اور ہراسمنٹ کے زیادہ تر واقعات انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے ہوتے ہیں اس وقت ہم گواہوں کے منحرف ہو جانے کی وجہ سے عدم پیروی کاشکار ہوگئے تھے نرسنگ سکول کی طلبات والا معاملہ قائمہ کمیٹی ویمن رائٹس کے پاس چلا گیا تھا سیکٹری کے طلب نہ ہونے پر انکوائری کمیٹی کی انچارج اے این پی کی ایم این اے نے ایڈیشنل سیکرٹری کو ڈانٹ پلائی تھی اور معاملہ وفاقی محتسب کو بھیج دیا گیا تھا کیونکہ کیس بیورو کریسی کے خلاف تھا اور پیروی طلبات نے کرنی تھی اس لیے کوئی خاطر خواہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کیپٹن (ر) رانا طاہرالرحمان نے سماء سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فریداللہ چوہدری پر تشدد کا واقعہ مجھ سے پہلے کا ہے مجھے اس واقعے کے حالات و واقعات کے بارے میں علم نہیں ہے صحافیوں پر تشدد کے واقعات انتہائی افسوس ناک ہیں ایجنسیز کی رپورٹ کے مطابق ہمیں علم ہوتا ہے کہ اچھے اور برے صحافی کون کون ہیں آئندہ میٹنگ میں ایماندارصحافیوں کے ساتھ اچھے رویے کو زیر بحث لایا جائے گا فریداللہ چوہدری تربیت یافتہ اور منجھے ہوئے صحافی ہیں صحافیوں پر تشدد کے واقعات عموما عدم برداشت کا نتیجہ ہیں

چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیلتھ لیہ ڈاکٹر امیر عبداللہ نے اس واقعے کی متعلق سوال پر سماء کو بتایا کہ جن دنوں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں فرید اللہ چوہدری کے ساتھ تشدد کا واقعہ پیش آیا تو ان دنوں میں میڈیکل آفیسر تھا اس لیے وہ واقعہ مکمل طور پر یاد ہے عموما لیہ کے ہسپتالوں میں صحافیوں پر تشدد کے واقعات پیش نہیں آتے یہ اس وقت اپنی نوعیت کا شاید پہلا واقعہ تھا جس پر سب حیران تھے ہماری پوری کوشش ہے اور تمام عملے کو ہدایت بھی کہ اس بات کو یقینی بنایا جائےکہ ہسپتالوں میں تشدد کے واقعات پیش نہ آئیں بلکہ صحافیوں کے معاملات با احسن طریقے سنے جائیں اور ان سے متعلق شکایات متعلقہ پریس کلب کو بھیجی جائیں اگر وہاں مسائل حل نہ ہوں تو قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے۔

صدر ڈسٹرکٹ پریس کلب لیہ عبدالرحمان فریدی نے اس مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے سماء کو بتایا کہ صحافیوں پر تشدد اور ہراسمنٹ کے واقعات کے پیش نظر ہم اپنے صحافی بھائیوں کا بھرپور ساتھ دیتے ہیں ڈاکٹرز کی جانب سے ہمارے سینئر بزرگ صحافی عارف نعیم ہاشمی پر تشدد کے واقعے پر ڈپٹی کمیشنر اور محکمہ صحت کے آفیسران سمیت ڈاکٹرز نے بھی صحافیوں سے معافی مانگی تھی مختلف این جی اوز کے تحت صحافیوں کے لیے تربیتی ورکشاپس منعقد کرواتے رہتے ہیں انشااللہ جلد صحافیوں کی فیزیکل سیفٹی کے حوالے سے تربیتی نشست کا اہتمام کریں گے

اسی نوعیت کا ایک واقعہ 5 اپریل 2019 کو تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال تونسہ میں نجی ٹی وی چینل کے نمائندے غضنفر ہاشمی کے ساتھ بھی پیش آیا غضنفر ہاشمی نے سماء سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اجتماعی زیادتی کیس پر ڈاکٹرز میڈیکل رپورٹ کے لیے متاثرہ بچی کے لواحقین کو گزشتہ 14 گھنٹے سے ذلیل کر رہے تھے ہم متاثرین کی کال پر کوریج کرنے وہاں پہنچے تو ہمیں ڈاکٹرز کی جانب سے گالم گلوچ اور دھکم پیل کا سامنا کرنا پڑا جب یہ سارا معاملہ ڈپٹی کمیشنر کے نوٹس میں لایا گیا تو انہوں نے انکوائری کمیٹی بنا دی جس نے آج تک کوئی پیش رفت نہیں کی اور معاملہ سرد خانے کی نظر ہے۔ آئے دن صحافیوں کے ساتھ تشدد اور ہراسمنٹ کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر جلد ازجلد قانون سازی کی ضرورت ہے پریس کلبز کے رہنماوں کو چاہیے کہ صحافیوں کی فیزیکل سیفٹی کے حوالے سے تربیتی نشستوں کا اہتمام کریں اور صحافیوں کو اطلاعات تک رسائی کے قانون (رائٹ ٹو انفارمیشن لاء) کو استعمال کرنے کی بھی تربیت دی جائے تاکہ قانون کا اطلاق موثر ہوسکے ہر شہر کے پریس کلب کے صدر کو چاہیے کہ صحافیوں پر مقدمات اور صحافیوں کی جانب سے مقدمات کا ریکارڈ مرتب کرنے کے لیے پولیس سٹیشنز حکام کے ساتھ میٹنگز کریں اور پریس کلب ممبر شپ کے لیے سکیورٹی اداروں سے سکیورٹی کلیئرنس لازمی قرار دی جائے تاکہ جرائم پیشہ عناصر کی بیخ کنی ہو سکے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.