اقوام متحدہ کی ترکیہ کے زلزلہ متاثرین کیلئے 1 ارب ڈالر امداد کی اپیل

0
71

نیویارک:ترکیہ اور شام میں زلزلے سےتباہی کے بعد اقوام متحدہ (یو این) نے ترکیہ کے زلزلہ متاثرین کی امداد کیلئے 1 ارب ڈالرامداد کی اپیل کر دی ہے۔اس سے قبل اقوام متحدہ کی جانب سے شام کے زلزلہ متاثرین کیلئے بھی 40 کروڑ ڈالرز کی امداد کی اپیل گئی تھی۔

ترکیہ اور شام میں زلزلہ؛ جاں بحق افراد کی تعداد 37,000 سے تجاوز

یو این ایڈ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ شام اور ترکیہ کے زلزلہ متاثرین ناقابل بیان مصیبت سے گزر رہے ہیں، ہمیں اس مشکل وقت میں ان کے ساتھ کھڑا ہونے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ انہیں وہ مدد مل رہی ہے جس کی انہیں اس وقت سخت ضرورت ہے۔

ترک زلزلہ متاثرین کے لیے10ارب 8 کروڑروپے عطیہ کرنے والےپاکستانی کون ہیں:دلچسپ…

واضح رہے کہ دونوں ممالک میں زلزلے سے مجموعی اموات 42 ہزار تک پہنچ چکی ہیں، زلزلے کے نتیجے میں ترکیہ میں اموات کی تعداد 36 ہزار 187 جبکہ شام میں مجموعی اموات 5 ہزار 800 سے تجاوز کر گئی ہیں۔

ادھر کل انقرہ میں صدارتی محل میں وزیراعظم کی ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات ہوئی۔ وزیراعظم نے صدر اردوان سے تباہ کن زلزلے سے جانی ومالی نقصان پر اظہار افسوس کیا۔وزیراعظم ترک عوام سے اظہار یکجہتی کے لیے دو روزہ دورے پر ہیں، صدارتی محل پہنچنے پر ترک صدر رجب طیب اردوان نے ان کا استقبال کیا۔

وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب، وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی اور نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر بھی وزیراعظم کے ہمراہ ہیں۔ٹویٹر پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ اپنے بھائی صدر طیب رجب اردوان سےملاقات کی ہے، صدر اردوان کو اپنی مستقل حمایت کا یقین دلایا۔ پاکستانی عوام اور حکومت کی جانب سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ یقین ہے صدر اردوان کی قیادت میں ترکیہ تباہی سے مضبوطی سے نکلے گا۔

ترکیہ زلزلہ،اسپتال میں نرسوں کی نوزائیدہ بچوں کو بچانے کی ویڈیو وائرل

ترکیہ روانگی سے قبل ٹویٹر پیغام میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ترک بھائیوں کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کیلئے ترکیہ کا دورہ کر رہا ہوں۔ترکیہ اور پاکستان ایک قوم ہیں جو دو ملکوں میں بستے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ ترکیہ کے نقصان کو اپنا نقصان سمجھتے ہیں، ترکیہ اورشام میں زلزلے کے نقصانات سے نمٹنا کسی ایک حکومت کی استعداد سے کہیں زیادہ ہے۔ کوئی بھی ملک چاہے کتنا ہی وسائل سے مالا مال ہواس پیمانے کی تباہی سے اکیلے نہیں نمٹ سکتا۔وقت کا تقاضا ہے کہ عالمی برادری مشکل کا شکار انسانیت کی مدد کیلئے آگے آئے۔

Leave a reply