fbpx

ایک نئی قسم کا طوفان”فضائی جھیل” دریافت

واشنگٹن: سائنسدانوں نے سمندر کے اوپر منڈلانے والے ایک بالکل نئے قسم کے طوفان کو ’فضائی جھیل‘ کا نام دیا ہے اسے مغربی بحرِہند سے افریقی سمندروں تک جاتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔

باغی ٹی وی: سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ طوفان ہوائی بگولوں کی وجہ سے بنتا ہے جس کی رفتار بہت مدھم ہوتی ہے اور پانی کے وسیع ذخائر پر مشتمل یہ نظام بارش برسانے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے اس کی تفصیلات امریکن جیوفزیکل یونین کی موسمِ خزاں کی حالیہ کانفرنس میں بیان کی گئی ہیں۔

"خودکش مشین” کو استعمال کرنے کی قانونی منظوری مل گئی

رپورٹ کے مطابق سمندری ماحول کے عین اوپر اس سے قبل تنگ اور طویل فضائی کیفیات نوٹ کی گئیں جن میں پانی کی وسیع مقدار بھری ہوتی ہے جنہیں سائنسدانوں نے فضائی دریا کا نام دیا تھا عین نمی سے بھرپور یہ گول دائرے ہوتے ہیں جنہیں فضائی جھیل یا ایٹماسفیئرک لیک کہا گیا ہے فضائی جھیل پورے فضائی موسم سے الگ تھلگ کٹ کر رہتی ہے-

ڈائنو سار سے بھی قدیم اور دیوقامت سمندری جانور کےفوسلز دریافت

تحقیق کے مطابق نمی سے بھرے چھوٹے چھوٹے نظاموں کو افریقی ساحلوں تک جاتے ہوئےدیکھا گیا ہےجہاں یہ نیم بنجر علاقوں اور ساحلوں پربارش برسارہے ہیں ماہرین نے مسلسل 5 سال تک فضائی جھیلوں پر غور کیا ہے جو سست روی سے آگے بڑھتے ہیں اور طویل ترین طوفانی جھیل 27 روز تک برقرار رہی تھی۔

ناسا نےمشتری کے چاند کی پراسرار آوازوں کی ریکارڈنگ جاری کر دی

5 سال میں مجموعی طور پر 17 جھیلوں کو دریافت کیا گیا ہے جو خطِ استوا کے اردگرد 10 ڈگری پر دکھائی دی ہیں۔ خیال ہے کہ دیگر علاقوں میں یہ فضائی کیفیات پیدا ہوسکتی ہیں جہاں وہ بڑے سائیکلون کی شکل اختیار کرلیتی ہیں سائنسدانوں نے فضائی جھیلوں کی تشکیل اور دیگر موسمیاتی کیفیات سے الگ ہونے کے سوالات پر بہت غور کیا ہے پہلا مفروضہ تو یہ ہے کہ شاید اندر کی جانب تیز ہوا سے یہ سب کچھ بنتا ہے اور دوم مجموعی فضائی اور موسمیاتی کیفیات اسے جنم دے رہی ہے۔

ہمالیائی گلیشیئر غیرمعمولی تیزی سے پگھل رہے،رقبہ 8,400 مربع کلومیٹر کم ہو گیا

سائنسدانوں کے مطابق کلائمٹ چینج کا پہلو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا اور وہ اندرونی قوت کے تحت ایک جگہ سے دوسرے ملک جاتے رہتے ہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ اس سے مشرقی افریقا کے ساحلی علاقوں میں بارشیں ہونے لگی ہیں لیکن بارشوں کی یہ مقدار بہت کم ہوتی ہے۔ ایک مصنوعی جھیل پورے سال ایک کلومیٹر وسیع سوئمنگ پول کو چند سینٹی میٹر تک ہی بھر سکتی ہے۔

بحری جہاز کو دھکیلنے والی دنیا کی پہلی پیرافوائل پتنگ کا کامیاب تجربہ