fbpx

22جولائی کوجو بھی رزلٹ آیا، قبول کروں گا،حمزہ شہباز

وزیر اعلی حمزہ شہباز نے کہا کہ صوبہ پنجاب کئی ماہ سے آئینی بحران کا شکار ہے،کبھی الیکشن ملتوی تو کبھی حلف کا معاملہ التوا ، کبھی گورنر آ رہا تو کبھی وہ سمری کو مسترد کررہے ہیں، پنجاب میں جتنے آئینی بحران تین ماہ میں آئے تو گینز ورک آف ریکارڈ میں آ جائیں.

پنجاب اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حمزہ شپہباز نے کہا کہ کابینہ نہ ہونے کے باوجود گندم کسانوں سے بائیس سو روپے من خریدی جو ساڑھے پانچ من بین الاقوامی سطح پر ہے، دس کلو آٹے پر دو سو ارب روپے کی سبسڈی دی،پہلے جولائی ہے پنجاب کے تمام اضلاع ٹی ایچ کیو اور چودہ ہسپتال میں مفت ادویات ملنے جارہی ہیں.

وزیراعلی پنجاب حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ میں نے یہ نہیں کہا کہ تین ماہ دے دو، دودھ کی نہریں بہا دوں گا.انہوں نے بتایا کہ سپریم کورٹ میں پرویز الہی اور پی ٹی آئی کا موقف الگ تھا، جمہوری انسان ہوں ستائیس سال جدوجہد کی، عدالت عظمی کو بتایا کہ اگر میرے پاس نمبر نہ ہوتے تو سامنے پیش نہ ہوتا ،گھر چلا جاتا.

حمزہ شہباز نے کہا کہ ابھی الیکشن کروائیں جو ایوان فیصلہ کرے گا دل سے قبول کروں گا،ضمنی الیکشن کے بعد بائیس کو دوبارہ الیکشن کروائیں ،تو بھی قابل قبول ہوگا ،،سترہ کوبھی عوام کا فیصلہ قبول کروں گا، آئینی بحران کےباوجود عوامی منصوبوں سے کوئی نہ روک سکے گا۔ پہلے عدالت عالیہ کا فیصلہ آیا آج چیف جسٹس خود بیٹھے رہے،ان کے اپنے وکلاء، پارلیمانی لیڈر نے جو موقف دیا بائیس جولائی کو انتخاب ہوگا جو بھی رزلٹ آئے گا قبول کریں گے.

حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ اللہ سے ڈر کر کہتاہوں پنجاب کی عوام نوازشریف اور شہبازشریف پر اعتماد کااظہار کریں گے،پیٹرول کی قیمتیں عمران خان کی وجہ سے بڑھیں، عمران خان ایک طرف آئی ایم ایف سے وعدے کررہا تھا،اور دوسری طرف کہہ رہا تھا کہ عوام کو سستا پیٹرول دوں گا، ہم نے دل پر پتھر رکھ کر حکومت بچانے کےلئے نہیں پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچانے کےلیے سخت فیصلے کئے.

وزیر اعلی پنجاب کا مذید کہنا تھا کہ سیاسی بوجھ سے جو مسلم لیگ ن نے اٹھایا ہے عوام کو معلوم ہے جب بجلی کے اندھیرے آئے تو ایٹمی قوت کے بعد بجلی کی لوڈ شیڈنگ ختم کی،انہون نے کہا کہ پنجاب اسمبلی سے میڈیا پر پابندیاں اٹھائیں گے،گرانٹ اس ماہ صحافیوں کو دیں گے ،عسکری ادارے کے سربراہ کے خلاف زہر اگلا گیا ،نیازی کی سازش کاپول کھل گیا ہے،فرح گوگی، توشہ خانہ ،چوریاں چھپانے کا پروگرام تھا.

حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ سترہ جولائی کا دن دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوگا ،ن لیگ سترہ جولائی کو جیتے گئ، مشکل وقت ہے دل پر پتھر کر فیصلے کررہۓ سخت فیصلے کے بعد عوام کےلئے آسانیاں آئیں گی.عدالت عظمی میں کہا آپ کا وقت قیمتی ہے جس طرح ڈپٹی سپیکر پر جان لیوا حملہ کیاگیا کون شاباشی کے اشارے کرتا رہا،کس منہ سے حراساں کا ہم انتقام نہیں لیں گے قانون اپنا راستہ ضرور لےگا.

قبل ازیں وزیرِ اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف نے بڑا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ میرے پاس گنتی پوری ہے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے طلب کیے جانے پر وزیرِ اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف نے لاہور رجسٹری پہنچنے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کے دوران انہوں نے یہ بات کہی۔

 

 

عدالت نے تحریک انصاف کو سات دن کی مہلت دینے سے انکار کردیا

 

 

قبل ازیں وزیرِ اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز اور اسپیکر پرویز الہٰی سپریم کورٹ لاہور رجسٹری پہنچے تھے.حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ میں جہاں سے آ رہا ہوں وہاں گنتی پوری کر کے آ رہا ہوں، معاملہ ابھی کورٹ میں ہے، دیکھتے ہیں کہ کیا ہوتا ہے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے لاہور ہائی کورٹ کے گزشتہ روز کے فیصلے کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواست کی سماعت کے دوران وزیرِ اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز اور اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہٰی کو طلب کر رکھا تھا.

قبل ازیں چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس جمال خان مندوخیل بینچ میں شامل ہیں پی ٹی آئی کے وکیل ڈاکٹر بابر اعوان روسٹرم پر آگئے ویڈیو لنک پر لاہور سے وکیل امتیاز صدیقی پیش ہوئے ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ 5درخواستیں ہیں کس کی طرف سے کون سا وکیل پیش ہورہا ہے ؟ بابر اعوان نے کہا کہ میں درخواست گزار سبطین خان کی طرف سے پیش ہورہا ہوں 16 اپریل کو حمزہ شہباز کو وزیر اعلیٰ منتخب کرنے کا انتخاب ہوا، وزیراعلیٰ کے انتخاب کے روز فلور پر پرتشدد ہنگامہ ہوا، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جس جج نے اختلافی نوٹ دیا ہے وہ ایک نکتے پر متفق بھی ہوئے ،فیصلے میں کہا ہے کہ جنہوں نے 197 ووٹ لیے ان میں سے25 نکال دیئے ہیں،جب وہ 25 ووٹ نکال دیتے ہیں تودوبارہ گنتی کرائیں، 4 ججز نے یہ کہا ہے کہ پہلے گنتی کرائیں اگر 174 کا نمبر پورا نہیں تو پھر انتخاب کرائیں،آپ یہ کہنا چاہتے ہیں آپ کے کچھ ممبران چھٹیوں اور حج پر گئے ہیں،جتنے بھی ممبرا یوان میں موجود ہوں گے اس پر ووٹنگ ہوگی،جو کامیاب ہوگا وہ کامیاب قرار پائے گا،آپ کی درخواست ہے کہ وقت کم دیا گیا ہے،

بابر اعوان نے کہا کہ استدعا ہے زیادہ سے زیادہ ممبران کو ووٹ ڈالنے کی اجازت دی جائے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کی درخواست میں یہ بات نہیں ہم درخواست کو پڑھ کر آئے ہیں،بنیادی طور پر آپ یہ مانتے نہیں کہ فیصلہ آپ کے حق میں ہوا ہے،بابر اعوان نے کہا کہ اصولی طور پر اس فیصلے کو مانتے ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ 4ججز نے آج کی اور ایک جج نے کل کی تاریخ دی ہے،کیا آپ کل کی تاریخ پر راضی ہیں ؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو ممبران کہیں گئے ہوئے ہیں وہ 24سے48 گھنٹوں میں پہنچ سکتے ہیں؟ بابر اعوان نے عدالت سے استدعا کی کہ ہم الیکشن لڑنا چاہتے ہیں ، لیول پلینگ فیلڈ کیلئے وقت دیا جائے،ہمیں سات دن کا وقت دیا جائے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سات دن کا وقت مناسب نہیں ہے۔ بابر اعوان نے کہا کہ
ہم تو دس دن چاہتے تھے ، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ بتائیں جو مناسب وقت آپ کو چاہیئے، بابر اعوان نے کہا کہ ہماری پانچ مخصوص نشستوں پر خواتین کا نوٹیفیکیشن ہونا ہے اس کو سامنے رکھا جائے،

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے بابر اعوان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ سات دن صوبہ وزیر اعلی کے بغیر رہے گا۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آئین میں کیا ہے لکھا ہے کہ اگر وزیر اعلی موجود نہ ہوتو صوبہ کون چلائے گا۔ بابر اعوان نے کہا کہ اس صورت میں گورنر اس وزیر اعلی کو نئے وزیر اعلی آنے تک کام جاری رکھنے کی ہدایت کرتا ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ صوبہ دو دن بغیر وزیر اعلی کہ رہ سکتا ہے، بابر اعوان نے کہا کہ ایسی صورت میں عبوری حکومت آئے گی اگر وزیر اعلی بیمار ہو تو سینیئر وزیر انتظامات سنبھالے گا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اب ہم سمجھے ہیں کہ ہائیکورٹ کے 5 رکنی ججز نے ایسا فیصلہ کیوں دیا،وہ چاہتےہیں کہ صوبے میں حکومت قائم رہے۔ موجودہ وزیراعلی ٰنہیں تو پھر سابق وزیر اعلی ٰکا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا،سابق وزیر اعلی کی اکثریت میں سے 25 میمبران تو نکل گئے ہیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر25 ووٹرز نکال لیں تو پھر موجودہ وزیر اعلی ٰبھی برقرارنہیں رہتا ،وکیل فیصل چودھری نے کہا کہ اگر ہمارے 25ممبران نکل بھی جائیں تو 169 ہمارے پاس ہیں،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر وزیراعلی کے پاس 186 ووٹ نہیں ہیں تو انکا فی الحال وزیراعلی برقرار رہنا مشکل ہے،بابر اعوان نے کہا کہ پنجاب میں ایک قائم مقام کابینہ تشکیل دی جا سکتی ہے،