سیشن کورٹ اسلام آباد میں شہباز گل کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی
انسپکٹر ارشد ریکارڈ سمیت ڈسٹرکٹ سیشن کورٹ اسلام آباد میں پیش ہوئے جج نے استفسار کیا کہ ملزم کی طرف سے کون اور مدعی کی جانب سے کون ہے؟ وکیل نے استدعا کی کہ کیا ہم ریکارڈ دیکھ سکتے ہیں ۔ہمارے خلاف کیا شہادت ہے، عدالت نے پولیس کو ملزم کے خلاف ریکارڈ وکیل کا دکھانے کا حکم دیدیا،پولیس نے کہا کہ آپ وکلاکو ہدایت دیں ایک یا دو وکلا ریکارڈ دیکھ لیں تصویریں نہ بنائیں،
وکیل نے کہا کہ پولیس نے 161 کا بیان نہیں دکھایا، عدالت نے حکم دیا کہ تفتیشی کدھر ہے اسکو بلائیں، کمرہ عدالت میں رش ہونے کی وجہ سے عدالت نے غیر متعلقہ افراد کو باہر نکالنے کا حکم دے دیا،عدالت نے حکم دیا کہ جب تک ضمانت کی آواز نہیں آجاتی غیر متعلقہ افراد باہر چلے جائیں، ملزم شہباز گل کا بیان نہ دیکھانے پر وکلا نے اعتراض کیا اور کہا کہ پولیس ملزم کا بیان نہیں دکھا رہی باقی سارے دکھا دئیے ہیں،عدالت نے پولیس کو ملزم کا پہلا بیان دکھانے کا حکم دے دیا
شہباز گل کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا،اسپیشل پراسیکیوٹر راجہ رضوان عباسی کے دلائل مکمل ہو گئے ہیں،کیس کی سماعت کل تک کے لیے ملتوی کر دی گئی کل 11 بجے شہباز گل کی درخواست ضمانت پر فیصلہ سنایا جائیگا، پراسیکیوٹر نے کہا کہ تشدد کے الزامات کی تصدیق کروائی گئی،میڈیکل بورڈ نے تشدد کے الزامات کو رد کیا،ثبوت اتنے واضح ہیں کہ مزید کسی بات کی گنجائش ہی نہیں رہتی،
عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش
شہباز گل کی گرفتاری، پی ٹی آئی کے ڈنڈا بردار کارکن بنی گالہ پہنچ گئے
شہباز گل کی گرفتاری پی ٹی آئی نے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا
نعرے ریاست مدینہ کےاورغلامی امریکہ کی واہ شہبازگل باجوہ
شہباز گل پر ایسا تشدد ہوا جو بتایا جا سکتا اور نہ دکھایا جا سکتا ہے، بابر اعوان
کہا گیا ضمانت ہو گئی،اور عدالت لے آئے، شہباز گل کا بیان
واضح رہے کہ شہباز گل کو عدالت نے جوڈیشل ریمانڈ پر بھیجا ہے ،شہباز گل نے عدالت پیشی کے موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انکے ساتھ جنسی زیادتی نہیں ہوئی بلکہ جنسی تشدد ہوا ہے، شہباز گل کو گرفتار کیا گیا تھا تو دو روزہ جسمانی ریمانڈ کے بعد انہیں اگلے ریمانڈ سے قبل ہسپتال منتقل کر دیا گیا تھا تا ہم پولیس نے شہباز گل کے ساتھ چال چلی اور پھر دو روز کا مزید ریمانڈ لے لیا، شہباز گل کے کمرے پر چھاپہ مارا گیا تو وہاں سے پستول برآمد ہوا جس کے بارے میں شہباز گل نے کہا کہ یہ میرا نہیں ہے، پستول کی برآمدگی کا مقدمہ بھی شہباز گل کے خلاف درج کیا جا چکا ہے
دوسری جانب وفاقی دارالحکومت کی پولیس نے کہا ہے کہ شہباز گل پر تشدد کی من گھڑت مہم چلائی جا رہی ہے۔اسلام آباد پولیس نے کہا ملزم شہباز گل پر کوئی تشدد نہیں کیا گیا ہے۔ شہباز گل پر تشدد اور جنسی زیادتی سے متعلق بعض افراد کی طرف سے من گھڑت مہم چلائی جارہی ہے۔ عدالتی حکم پر تشدد سے متعلق ابتدائی رپورٹ پر کام شروع ہوچکا ہے اور بیانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔








