کرک مندر از خود نوٹس اوراقلیتوں کے حقوق سے متعلق کیس سماعت کیلئے مقررکر دیا گیا

سپریم کورٹ کے جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ 30 نومبر کو سماعت کرے گا جسٹس منیب اختر اور جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی 3رکنی بینچ میں شامل ہونگے اٹارنی جنرل،صوبائی ایڈووکیٹ جنرلز اورآئی جی خیبرپختونخوا سمیت دیگر فریقین کو نوٹسز جاری کر دیئے گئے ہیں

واضح رہے کہ دسمبر 2020 میں کرک کے علاقہ ٹیری میں تاریخی ہندو مندر مسمار کر دیا گیا تھا،خیبر پختوںخواہ کے علاقے کرک میں مشتعل افراد نے ہندوؤں کے ایک مندر کو جلا کر مسمار کر دیا تھا، کرک کے علاقے ٹیری میں قائم قدیم ترین ہندو مندر میں توسیعی کام جاری تھا کہ سینکڑوں مشتعل افراد وہاں پہنچے اور مندر کو آگ لگادی، جس کے بعد عمارت کے زیادہ تر حصے کو بھی مسمار کردیا گیا، مشتعل افراد کئی گھنٹوں تک مندر کے اطراف موجود رہے۔ اس موقع پر مقامی پولیس بھی موجود تھی لیکن پولیس نے کسی قسم کا کوئی ایکشن نہیں لیا،پولیس خاموش تماشائی بنی رہی ،

تاریخی مندر کی مسماری پر سپریم کورٹ نے از خود نوٹس لیا تھا، از خود نوٹس کی کئی سماعتیں ہو چکی ہیں، ایک سماعت میں سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ ایک ماہ میں مندر حملہ واقعے میں ملوث ملزمان سے رقم وصول کی جائے،ایک ماہ میں 3 کروڑ 30 لاکھ روپے سے زائد رقم ہر ملزم میں برابر تقسیم کرکے وصول کریں،سپریم کورٹ نے چیف سیکریٹری خیبرپختونخوا کورقم وصولی کا حکم دیا تھا

قادیانی آئین کی خلاف ورزی اور توہین عدالت کا مسلسل ارتکاب کر رہے ہیں، حافظ عاکف سعید

مندر کی تعمیر کے خلاف مزید دو درخواستیں، عدالت نے فیصلہ سنا دیا

تاریخی ہندو مندر مسماری کا معاملہ،ن لیگ اور جمعیت علماء اسلام کے رہنماؤں پر مقدمہ درج،گرفتاریاں شروع

مندر جلائے جانے کے واقعے میں فرائض سے غفلت برتنے والے پولیس اہلکاروں کو ملی سزا

اقلیتوں کے حقوق،سپریم کورٹ نے اہم شخصیت کو طلب کر لیا

وزیراعظم کی اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کے حوالے سے فنڈز جاری کرنے کی ہدایت

اگر یہ مندر ہوتا ۔۔۔ لیکن یہ تو مسجد ہے ، تحریر: محمد عاصم حفیظ

مندر گرا دیا اگر مسجد گرا دی جاتی تو کیا ردعمل سامنے آتا؟ چیف جسٹس کا بڑا حکم

مندر حملہ کیس، متعلقہ ایس ایچ او کو ابھی تک گرفتار کیوں نہیں کیا گیا؟ چیف جسٹس

Shares: