عالمی کتب میلہ میں عوام کی بڑی تعداد میں شرکت ، سابقہ تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے

0
36

عالمی کتب میلہ میں عوام کی بڑی تعداد میں شرکت ، سابقہ تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے
کتابوں کے شوقین کو لائن میں کھڑے ہو کر اپنی باری کا انتظار کرتے پہلی بار دیکھا گیا
آج بروز پیر نمائش کا آخری دن ہے،اسٹالرز میں کتابوں کی رعایتی سیل لگاد ی گئی ہے
کراچی ایکسپو سینٹر میں جاری 5روزہ عالمی کتب میلے میں اتوار کو طلباءوطالبات سمیت شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کر کے سابقہ تمام ریکارڈ توڑدئیے۔ آج بروز پیر نمائش کا آخری دن ہے۔ عوام نے کتاب دوستی کا ثبوت دیتے ہوئے آج چوتھے روز بھی ہجوم کو برقرار رکھا جس کی وجہ سے ایکسپو سینٹر میں تل دھرنے تک کی جگہ نہ تھی ۔کتب میلے میں طلبا ءکی معلومات میں اضافے کے علاوہ ان کی تربیت سے متعلق کتابیں بھی موجود ہیں۔کراچی ایکسپو سینٹر میں جاری کراچی انٹرنیشنل بک فیئرمیں ہر جنس، عمر اور سوچ کے لوگ کثیر تعداد میں شامل ہیں۔ کتابیں خریدنے والوں کو لائن میں کھڑے ہو کر اپنی باری کا انتظار کرتے پہلی بار دیکھا گیا ۔ اتوار کی صبح سے ہی ایکسپو سینٹر میں کتب بینی کے شوقین لوگوں کا رش تھمنے میں نہیں آرہا تھا۔کراچی علم و ادب، شعور و آگہی، مذہبی مراکز، سیر و تفریح نیز ہر مزاج اور ذوق رکھنے والوں کے یکساں کشش رکھتا ہے۔کتاب سے محبت کرنے والوں، کتابوں سے دوستی رکھنے والوں اور علم کے متوالوں کے لیے یہ پانچ روزہ کتب میلہ جس کا انتظار عاشقانِ کتب بے چینی سے کررہے ہوتے ہیں۔ پاکستان کا سب ست بڑا کتب میلہ کراچی انٹرنیشنل بک فیئر کا انعقاد 2005 سے ہورہا ہے۔ اس نمائش سے ایک ہی چھت تلے مختلف موضوعات پرکتابیں مناسب قیمت پر دستیاب ہیں جس سے کتب بینی کی حوصلہ افزائی ہو رہی ہے ۔اس نمائش کا مقصد لوگوں میں کتابوں کی اہمیت، قدر و قیمت کو اجاگر کرنا ہے کہ آج کل کی نوجوان نسل کتابوں سے دور ہے اور موبائل یا کمپیوٹر پر آن لائن پڑھنے کو ترجیح دیتی ہے۔یہ صرف ایک کتاب میلہ نہیں ہوتابلکہ اس میں پریشانیاں، تفکرات، ایڈونچر، ادیبوں سے ملنے کی خوشی سمیت کئی جذبات شامل ہوتے ہیں۔آج اس نمائش کا آخری روز ہے،8 تا 12 دسمبر 2022 ایکسپو سینٹر کراچی کے ہال نمبر 1، 2 اور 3 میں کتابوں کے ملکی اور غیر ملکی پبلشرز اور تقسیم کنندہ ادارے اپنے، اپنے اسٹال سجائیں بیٹھے ہیں جہاں سے کتب بینی کا ذوق رکھنے والے اپنے شوق اور دلچسپی سے متعلق کتب رعایتی قیمتوں میں حاصل کررہے ہیں۔ اس عالمی کتب میلہ کی ایک انفرادیت یہ بھی ہے کہ یہاں بچوں، بڑوں اور خواتین سب کی ہی دلچسپیوں کے مطابق کتابیں دستیاب ہیں اور خصوصاً بچوں کے لیے رسائل، کتابیں ذہنی مشقوں کے کھیل کا مواد اور تعلیمی تحائف بڑے پیمانے تقسیم ہورہے ہیں۔

ہر سال کی طرح اس مرتبہ بھی لاکھوں عاشقان کتب اس نمائش میں شرکت کررہے ہیں۔ کتب میلے میں خیر پور سے آئے ایک شہری نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم سالانہ تھکن اتارنے کے لیے اس دربار میں شامل ہوتے ہیں۔ جہاں گھٹن زدہ ماحول کے برعکس چند آزاد سانسیں لینے کا موقع ملتا ہے۔ کتابوں کے آخری صدی ہونے کی بات یہاں آ کر دم توڑ دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کتاب میلے کا حاصل قیمتی کتابیں اور مشہور لکھاری، سوشل میڈیا کے ہردلعزیز شخصیت، روایتی اور مزاح سے بھرپور تصنیفات کے مصنفوں سے ملاقات ہوجاتی ہے۔اورنگی ٹاﺅن سے آئی ہوئی ایک خاتون نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نئی نسل کی کتب میں دلچسپی قابلِ دید و فخر، قوم کے معماروں کی تربیت کی کوشش کرنے والے تمام افراد اور اداروں کو سلام ہے،دور جدید میں کتب سے زیاد ہ انٹر نیٹ کو اہمیت دی جارہی ہے مگر کتاب سے دوری حقیقت میں علم سے دوری ہے۔شہر میں ہر سو تاریکی نظر آتی ہے جو لوگ کتاب کا ذوق رکھتے ہیں ان کے لیے یہ میلہ امید کی کرن ہے۔بچوں میں بھی کتب بینی کا شوق پروان چڑھانے کی ضرورت ہے، ہر دو ماہ بعد اسکولز اور کالجز سطح پر کتب میلہ کاانعقاد ہونا چاہیے۔ایک اور شہری نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کراچی انٹرنیشنل بک فیئر میں جانے کا موقع ملا، بہت خوشی ہوئی کہ کراچی میں اتنے سارے پبلشرز اور کتابیں ایک جگہ جمع ہیں۔ خوشی اس بات کی بھی تھی کہ کراچی کے مرد خواتین اور بچوں نے بک فیئر کا شاندار استقبال کیا ہے اور ایک جم غفیر بک فیئر سے مستفید ہونے کیلئے موجود ہے۔ گذشتہ کئی سال سے یہ سالانہ بک فیئر دسمبر کے مہینے میں منعقد ہوتی ہے۔ اور اس ایونٹ کا مجھ سمیت میرے گھر والوں کو بے چینی سے انتظاررہتا ہے۔ میں نے پانچ گھنٹے بک فیئر میں گذارے لیکن وقت گذرنے کا احساس ہی نہ ہوا۔

مبشر لقمان پاکستان برج فیڈریشن کے صدر منتخب

سپریم نیشنل برج چیمپئن شپ:باغی ٹی وی ٹیم کی شاندار کاکردگی

لاہور میں تین روزہ پاکستان نیشنل برج ٹورنامنٹ اختتام پذیر 

برج گیم میں جوا اور پیسے نہیں لگتے:برج پلیئرغیاث ملک ، جہانگیر اور سعید اختر

جورڈن(اردن) انٹرنیشنل برج فیسٹول میں باغی ٹی وی کی ٹیم شرکت 

محکمہ تعلیم سرکاری اسکولوں کی لائبری دوبارہ فعال کریگا،اکبر لغاری
جدید ٹیکنالوجی کے دور میں بھی عوام کی کتابوں سے رغبت کم نہ ہوئی،ڈاکٹر فاروق ستار
درآمد کاغذ پر عائد ڈیوٹی کم کرانے میں تجارتی انجمن بھی اپنا کردار ادا کریگی،فراز الرحمن
کتب میلے کے دورہ کے موقع پر سیکریٹری اسکول، سیاسی اورکاروباری شخصیات کی گفتگو
سندھ حکومت سرکاری اسکولوں کی لائبری کو دوبارہ فعال کریگی ، جدید ٹیکنالوجی کے دور میں بھی عوام کی کتابوں سے رغبت کم نہ ہوئی، پاکستان میں کتابوں کی صنعت کو بچانے کیلئے درآمد کاغذ پر عائد ڈیوٹی کو کم کرانے میں تجارتی انجمن بھی اپنا کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہے ۔ ان خیالات کا اظہار سیکریٹری اسکول ایجوکیشن سندھ غلام اکبر لغاری ،سربراہ تنظیم بحالی کمیٹی ڈاکٹر فاروق ستار اور کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے صدر فراز الرحمن نے پاکستان پبلشرز اینڈ بک سیلرز ایسوسی ایشن کے تحت کراچی ایکسپو سینٹر میں جاری5روزہ عالمی کتب میلے کے دورہ کے موقع پر صحافیوں سے علیحدہ علیحدہ گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔نمائش کے چوتھے دن مختلف ممالک کے سفارتکارں ، علمی و ادبی شخصیات نے بھی دورہ کیا اور اپنے پسند کی کتابوں میں دلچسپی ظاہر کی ۔پاکستان پبلیشرز اینڈ بک سیلرز ایسو سی ایشن کے چیئرمین عزیز خالد، کراچی انٹر نیشنل بک فیئر کے کنوینئر وقار متین ، ڈپٹی کنوینئر ناصر حسین، ندیم مظہر، ندیم اختر، کامران نورانی اور وسیم عبدالحسن نے مہمانو ں کا استقبال کیا ۔ سربراہ تنظیم بحالی کمیٹی ڈاکٹر فاروق ستارنے کہا کہ عالمی کتب میلہ کراچی کی شناخت بنتا جارہا ہے جس کو کوئی کتاب کہیں نہیں ملتی یہاں وہ کتاب دستیاب ہوتی ہے۔ لڑکیاں بھی تعلیم حاصل کریں اوراپنا مستقبل روشن بنائیں۔

اس موقع پر سیکریٹری اسکول ایجوکیشن غلا م اکبر لغاری کا کہنا تھا کہ یورپ میں سب سے زیادہ کتابیں چھپتی ہیں مگر وہاں لوگوں کی آسانی کے لیے الیکٹرانک بک متعارف ہوچکی ہیں پاکستان میں ہر شخص کتاب نہیں پڑھتا مگر پڑھنے والے اب بھی کتابیںپڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کتب بینی کو فروغ دینے کیلئے سرکاری اسکولوں میں قائم پرانی لائبریریوں کو فعال کرنے کا پروگرام بنایا ہے اور نئی سرکاری اسکولوں کی عمارتوں میں ہال بھی تعمیر کر ہے ہیں جس میں ہم نصابی سرگرمیوں کے علاوہ کتابوں کا مطالعہ بھی کیا جا سکے گا ۔ گورنگی ایسو سی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری ( کاٹی ) کے صدر فراز الرحمن نے نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈالر کی قدر بڑھنے سے کاغذ کی قیمتوںمیں اضافہ ہوا مگر کاغذ کی قیمتوں میں کمی کے لئے ہر پلیٹ فارم پر آواز اٹھائیں گے۔انہوں نے کہا کہ اس جدید دور میں جہاں یہ سمجھا جارہا تھا کہ کتابوں کا رجحان کم ہوگیا ہے لیکن کتب میلے میں آکر ایسا لگتا نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ کتابیں کاروباریہ طبقہ کی بھی ضرورت ہیں کیونکہ اسی کتانوں کے ذریعے وہ اچھے بزنس مین بنے ہیں اس لئے وہ بھی کتابوں سے اپنا رشتہ جوڑے رکھنا چاہتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہاگر کاغذ کی قیمتیں کم نہ ہوئی یا درآمدی کاغذ پر عائد ٹیکس میں کمی نہ کی گئی تو اندیشہ ہے کہ مستقبل میںکتابیںناپید ہو جائیں گی۔بعد ازاں اہم سیاسی ،کاروباری ،علمی و ادبی شخصیات نے نمائش کا دورہ کیااور اپنی پسندیدہ کتابیں بھی خریدیں ۔

Leave a reply