ہالینڈ کی عدالت کا حکومت کو اسرائیل کو ایف 35 کے پُرزوں کی فراہمی روکنے کا حکم

ے عدالت نے ہالینڈ کی حکومت کو سات دن کی کے اندر عمل در آمد کا وقت دیا ہے۔
0
55

ہیگ: ہالینڈ کی ایک مقامی عدالت نے حکومت کو اسرائیل کو ایف 35 کے پُرزوں کی فراہمی روکنے کا حکم دے دیا۔

باغی ٹی وی : عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ہالینڈ کی عدالت کی جانب سے اسرائیل کو ایف 35 کے پُرزوں کی فراہمی بند کرنے کے احکامات فلسطین میں جاری عالمی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے پیش نظر دیے، انسانی حقوق کی تنظیم کی جانب سے دائر کی گئی درخواست پر دیا گیا جس میں عالمی قوانین کی خلاف ورزیوں کا ذکر کیا گیا۔

عدالت نے حکم دیا ہے کہ حکومت وہ تمام ترسیلات اور برآمدات اسرائیل کو روک دے جن کا تعلق ایف 35 طیاروں کے پرزوں کے ساتھ ہے، تاہم اس کے لیے عدالت نے ہالینڈ کی حکومت کو سات دن کی کے اندر عمل در آمد کا وقت دیا ہے۔

حماس سربراہ اسماعیل ہانیہ کے بیٹے کی اسرائیلی حملے میں شہادت کی اطلاعات

گزشتہ سال ہالینڈ (نیدرلینڈز) میں انسانی حقوق کی تنظیم کی جانب سے حکومت پر اسرائیل کی جانب سے جنگی جرائم میں اسرائیل کا ساتھ دینے کا الزام عائد کیا گیا تھا جبکہ ایمنیسٹی انٹرنیشنل اور آکسفام برانچز کی جانب سے بھی آواز اٹھائی گئی تھی اور نشاندہی کی گئی تھی کہ پُرزوں کی فراہمی سے اسرائیل غزہ شہر میں سنگین جرائم کا مرتکب ہو رہا ہے۔

واضح رہے کہ عالمی میڈیا پر اس حوالے سے بھی خبر سامنے آئی تھی کہ اسرائیل غزہ پر حملے کے لیے ایف 15، ایف 16 اور ایف 35 فائٹر جیٹس کا استعمال کر رہا ہے اسرائیلی ائیر فورس 7 اکتوبر سے اب تک ایف 15، ایف 16 اور ایف 35 فائٹر جیٹس کے ذریعے 22 ہزار 400 فلسطینیوں کو شہید کر چکا ہے جبکہ 57 ہزار سے زائد زخمی ہوئے ہیں، ان میں 70 فیصد فلسطینی بچے اور عورتیں شامل ہیں۔

کچھ ملکوں کے اثاثوں کو منجمد کرکے امریکا نے دنیا کو ایک غلط سگنل …

خیال رہے کہ امریکی ساختہ جدید جنگی طیاروں کے فاضل پرزوں کے ہالینڈ میں گودام ہیں جن ملکوں کو امریکہ ایف 35 طیارے فروخت کرتا ہے وہ بعد ازاں فاضل پرزے ہالینڈ سے لیتےہیں انسانی حقوق گروپوں کا استدلال یہ تھا کہ اس طرح ہالینڈ غزہ میں اسرائیلی جرائم کا حصہ بن رہا ہے جو کہ انسانی حقوق کے علاوہ بین الاقوامی قوانین کی بھی خلاف ورزی ہے۔

گزشتہ سال دسمبر میں عدالت نے اس بارے میں کہا تھا کہ جنگی طیاروں کے پرزے اسرائیل کو دینا ایک سیاسی فیصلہ ہو سکتا ہے اور عدالت سیاسی فیصلوں میں مداخلت نہیں کرنا چاہتی ہے۔ جبکہ ہالینڈ کے حکومت کا کہنا تھا کہ اسے نہیں معلوم کہ اس کے پاس یہ اختیار بھی ہے کہ وہ یہ فاضل پرزے روک سکے۔

آزاد فلسطینی ریاست کے قیام تک اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم نہیں ہوں گے،سعودی عرب

ہالینڈ کے حکام نے یہ بھی موقف اختیار کیا تھا کہ ہالینڈ سے اگر اسرائیل کو فاضل پرزوں کی ترسیل روک بھی دی گئی تو اسرائیل کسی اور جگہ یا طریقے سے یہ حاصل کرسکے گا، بین الاقوامی قوانین کے ماہرین کا کہنا ہے جنگ کے دوران فریقوں کی طرف سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہوئی ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیم ‘پیکس ہالینڈ ‘ نے عدالت کے اس فیصلے پر کہا ہے ‘ عدالت کے اس حکم نے ہمارے اعتماد کو مضبوط کر دیا ہے۔ ہمارے مقدمے میں ایک مثبت فیصلہ دیا گیا ہے۔

Leave a reply