fbpx

بھارت میں آکسجن کے بعد شمشان گھاٹوں کی بھی کمی

بھارت نے کورونا کے ایک دن میں سب سے زیادہ نئے کیسوں کے معاملے میں پوری دنیا کو پیچھے چھوڑ دیا، جب کہ متاثرین کے لیے انتہائی ضروری آکسیجن گیس کی قلت پیدا ہوگئی اور اس ضمن میں بلیک مارکیٹ بھی سرگرم ہوگئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ شمشان گھاٹوں کی بھی کمی ہو گئی ہے.

بھارت کے مختلف علاقوں میں کورونا وائرس کی وبا کا قہر جاری ہے اور اس میں کمی کے بجائے دن بہ دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ بھارت اس وقت دنیا میں کورونا کے پھیلاؤ کا نیا مرکز بنتا جا رہا ہے۔ ہفتہ کے روز ملک میں تقریباً3 لاکھ 46 ہزار کورونا سے متاثرین کے نئے کیس درج کیے گئے۔ دنیا کے کسی ملک بھی میں ایک دن کے اندر اب تک کا یہ سب سے بڑا اضافہ ہے۔

جان ہاپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق اس وبا کے آغاز کے بعد سے اب تک دنیا کے کسی بھی ملک میں ایک دن کے اندر اتنی بڑی تعداد میں لوگ متاثر نہیں ہوئے تھے۔ گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران 2,624 مزید افراد کی موت بھی ہوگئی۔ یہ اعداد و شمار سرکاری ہیں، جب کہ بعض آزاد ذرائع کے مطابق اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ بھارت میں کووڈ 19 سے متاثرین کی مجموعی تعداد ایک کروڑ70 لاکھ کے قریب ہے، جب کہ تقریباً ایک لاکھ 90 ہزار لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔

بھارت میں آکسجن کے بعد اب شمشان گھاٹوں کی بھی کمی ہو گئی ہے.لاشوں کو جلانے کے لئے شمشان گھاٹ میں جگہ نہیں مل رہی.جب کہ ہلاک ہونے والوں کے لواحقین میں سے صرف 4 افراد شمشان گھاٹ جا سکتے ہیں. لوگوں کو ایک ہفتہ انتظار کا کہا جا رہا ہےجس سے لاشوں میں بدبو پھیل رہی ہے اور لوگ ان لاشوں کو گندے نالوں میں بہانے پر مجبور ہورہے ہیں.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.