fbpx

ایک برس میں 10 ہزار سے زائد کسانوں نے کس ملک میں خودکشی کی؟

ایک برس میں 10 ہزار سے زائد کسانوں نے کس ملک میں خودکشی کی؟

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں کسانوں کی خودکشی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے،بھارتی نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو نے جرائم اور کسانوں کی خودکشی سے متعلق ایک رپورٹ جاری کی ہے جو مودی سرکار کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ رپورٹ کے مطابق سال 2018 میں 50 لاکھ 74 ہزار 634 جرائم کے واقعات ہوئے جو کہ 2017 کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 2018 میں قتل کے 29017 مقدمات درج کیے گئے جب کہ 2017 میں قتل کی تعداد 28653 تھی۔ یعنی اس میں 1.3 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا۔ 2018 میں اغوا کے 105734 کیس درج کیے گئے جو 2017 میں درج ہوئے 95893 کیس سے 10.3 فیصد زیادہ ہیں۔

رپورٹ کے مطابق سال 2018 میں زراعتی شعبہ سے جڑے کل 10349 لوگوں نے خودکشی کی ، سال 2017 میں ملک بھر میں 10655 کسان اور زراعتی مزدوروں نے خودکشی کی تھی۔ بھارت میں ایک سال میں 134516 خودکشی کے واقعات سامنے آئے۔ سال 2017 میں بھارت میں کل 129887 لوگوں نے خودکشی کی تھی۔

مہاراشٹر میں کسانوں کی خود کشی پر بھارت سرکار پر جوں تک نہیں رینگتی کیونکہ گزشتہ برس یعنی سال 2018 میں بھی ابتدا کے چار ماہ میں 896 کسانوں نے خود کشی کی تھی.  بھارتی ریاست مہاراشٹر کے ودربھ علاقے میں سب سے زیادہ کسانوں نے خودکشی کی۔ اپریل کے آخر تک اس علاقے میں 344 کسانوں نے خود کشی کی.پانی کے بحران کی وجہ سے مراٹھواڑا میں 269 کسانوں نے خودکشی کی۔ شمالی مہراشٹر میں 161، مغربی مہاراشٹر میں 34 کسانوں نے خودکشی کی۔ بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے بھارتی کسانون کی فصلیں تباہ ہوئیں ،

 

ا نہیں بھاری نقصان اٹھانا پڑا لیکن مودی سرکار نے کسانون کی مدد نہ کی جس کی وجہ سے کسان خود کشیاں کر رہے ہیں. حکومت نے 2017 میں کسانوں کے قرض معافی کا اعلان کیا تھا مگر عملدرآمد نہ ہوا. کسانوں کا کہنا ہے کہ پانی کے بحران کی وجہ سے فصلیں تباہ ہوئیں تو ساتھ میں دودھ کی پیداوار بھی متاثر ہوئی کیونکہ جانورون کو دینے کے لئے چارہ نہیں ملتا .

مہاراشٹر حکومت نے گذشتہ سالوں میں خودکشیوں کے اعدادوشمار بتائے ہیں۔ حکومت کے مطابق 2015 سے 2018 تک چار سالوں میں 12021 کسانوں نے خودکشی کی۔ 2013 میں 1296 کسانوں نے موت کو گلے لگایا جب کہ 2018 میں یہی تعداد2761 ہو گئی۔ اعداد و شمار کے مطابق 2013 کے مقابلے میں 2018 میں کسانوں کی خودکشی کی تعداد دوگنا سے بھی زیادہ ہو گئی۔

مقبوضہ جموں وکشمیر، بھارتی بارڈرپولیس کے افسرکی خودکشی

صرف گذشتہ سال کے دوران ریاست میں روزانہ 7 کسانوں نے اپنی جان دی۔اگر گذشتہ چارسالوں میں خودکشی کی بات کی جائے تو 2015 میں کسانوں کی خودکشی کی تعداد3263 تھی۔ 2016ءمیں یہ تعداد 3080 ہو گئی جبکہ 2017 میں کل 2917 کسانوں اور 2018 میں 2761 کسانوں نے موت کو گلے لگا یا۔ اعداد و شمار کے مطابق ریاست میں پچھلے 4 سال میں روزانہ 8 کسانوں نے خودکشی کی ۔

بھارتی کسان نے کس پارٹی کی ٹی شرٹ پہن کر خودکشی کی؟

رپورٹ کے مطابق گزشتہ 5 سالوں کے دوران ریاستی حکومت نے کسانوں کو دیے جانے والے معاوضے کی تعداد کو گھٹا دیا ہے۔ سال 2014 میں حکومت کی جانب سے 1358 کسانوں جبکہ 2018 میں محض 1316 کسانوں کو معاوضے جاری کیے گئے۔

بھارتی فوجی نے کتنے فوجیوں کو قتل کر کے خودکشی کی، مقبوضہ کشمیر سے بڑی خبر آگئی

حکومتی اعدادوشمار کے مطابق رواں سال 2019 کے ابتدائی دو مہینوں میں مہاراشٹر میں کل 396 کسانوں نے خودکشی کی۔ اس سال کے ابتدائی دو ماہ میں روزانہ 6 کسانوں نے موت کو گلے لگا لیا۔

بھارت، آندھرا پردیش کے سابق اسپیکرشیو پرساد کی خودکشی

بھارتی فوجی خاتون کو شادی کا جھانسہ دے کر 14 برس تک عزت لوٹتا رہا،مقدمہ درج

واضح رہے کہ ایک کسان نے درخت سے لٹک کر خودکشی کر لی۔ کسان نے بی جے پی کی ٹی شرٹ پہنی ہو ئی تھی۔ 38 سالہ راجو تلوڑے نامی کسان کی لاش درخت سے لٹکی ملی۔ راجو کی ٹی شرٹ پر بی جے پی کا کمل نشان چھپا ہوا تھا اور مراٹھی زبان میں لکھا ہوا تھا ’پنہا آنیو آپلے سرکار‘ یعنی ’پھر سے ہماری سرکار بنائیں‘۔

یاد رہے کہ بھارتی طلبہ میں خودکشی کا رحجان بڑھ گیا، 26 ہزار سے زائد طلبہ نے موت کو گلے لگا لیا.

بھارتی پولیس اہلکاروں کی غیر ملکی خاتون سے 5 ماہ تک زیادتی

ایک ہزار سے زائد خواتین، ایک سال میں چار چار بار حاملہ، خبر نے تہلکہ مچا دیا

جسمانی خواہشات پوری نہ کرنے پر ڈانسر کے کپڑے اتارکر…….

بیس ہزار کے عوض خاتون نے ایک ماہ کی بیٹی کو فروخت کیا تو اس کے ساتھ کیا ہوا؟

بھارت ، سال کے ابتدائی چار ماہ میں کی 808 کسانوں نے خودکشی

بھارت میں اعلٰی تعلیمی اداروں میں داخلے کی دوڑ اور بہتر تعلیمی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے بوجھ تلے دب کر طلبہ کی خودکشی کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ طلبہ کی خودکشی کے سب سے زیادہ واقعات 2016ء میں پیش آئے۔ اس کے دوران 9474 طلبہ، یعنی تقریباً ہر ایک گھنٹے میں ایک طالب علم نے اپنی زندگی کا خود اپنے ہاتھوں خاتمہ کر لیا۔ نریندر مودی حکومت نے چند ماہ قبل پارلیمان میں ایک سوال کے جواب میں بتایا تھا کہ 2014ء سے 2016ء کے درمیان 26.5ہزار سے زائد طلبہ نے خودکشی کرلی۔ 2016ء میں 9474، 2015ء میں 8934 اور 2014ء میں 8068 طلبہ نے پڑھائی اور بہتر کارکردگی کے بوجھ تلے دب کر خودکشی کی۔ ان اعداد و شمار سے واضح ہے کہ طلبہ میں خودکشی کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔