fbpx

اک زرداری سب پر بھاری،آج واقعی ایک بار پھر ثابت ہو گیا

اک زرداری سب پر بھاری،آج واقعی ایک بار پھر ثابت ہو گیا

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق صدر آصف زرداری واقعی ایک زرداری سب پر بھاری ثابت ہوئے

شہباز شریف زرداری کو سڑکوں پر تو نہ گھسیٹ سکے البتہ زرداری نے نہ صرف مریم نواز بلکہ ن لیگ کے سب رہنماؤں کی چیخیں نکلوا دیں، اور مولانا فضل الرحمان کو بھی راضی رکھنے کی بھرپور کوشش کی. حکومت کے خلاف مولانا فضل الرحمان جو 15 برس کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رہے ہیں، 2018 کا الیکشن ہارنے کے بعد میں نہ مانوں کی ضد پر اڑے ہوئے ہیں، گزشتہ برس مولانا فضل الرحمان نے آزادی مارچ کا اعلان کیا تو اسلام آباد پہنچا کر مولانا فضل الرحمان کے ساتھ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن دونوں ہاتھ کر گئیں،پھر چوھدری برادران کو میدان میں کودنا پڑا اور مولانا فضل الرحمان کو عزت سے واپسی کا راستہ مہیا کیا

اس دوران حکومت کے خلاف مختلف تحریکیں چلانے کی کوشش کی گئی، چیئرمین سینیٹ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک آئی اور کم ووٹ ہونے کے باوجود چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کامیاب ہو گئے،مولانا فضل الرحمان نے ہمت نہ ہاری اور پی ڈی ایم کی تشکیل کر دی، پی ڈی ایم کے پہلے گوجرانوالہ جلسے میں عوام کا رش تھا لیکن سابق وزیراعظم نواز شریف کی تقریر کے بعد پی ڈی ایم کے غبارے سے ہوا نکل گئی تھی، پی ڈی ایم نے ملک کے بڑے شہروں میں جلسے کئے لیکن جلسوں میں بندوں کی تعداد کم ہوتی گئی اور لاہور مین مینار پاکستان کا پی ڈی ایم کا جلسہ نہیں بلکہ جلسی ہوا تھا.

اک زرداری سب پر بھاری، ن لیگ پر اسوقت بھاری ہوئے جب مریم نواز اور کیپٹن ر صفدر کراچی کے ہوٹل میں ٹھہرے تھے ، سندھ پولیس نے کمرے کے دروازے توڑ کر کیپٹن صفدر کو گرفتار کیا اور مریم دیکھتی رہ گئیں، شہباز شریف کا زرداری کو سڑکوں پر گھیسٹنے کا وعدہ زرداری نے پورا کیا اور مریم نواز کے شوہر کو کراچی کی سڑکوں پر گھسیٹ دیا

اک زرداری سب پر بھاری ، پی ڈی ایم پر اسوقت بھاری ہوئے جب سینیٹ کے الیکشن آئے، اسلام آباد سیٹ کے لئے یوسف رضا گیلانی کو منتخب کروا لیا اور جب چیئرمین سینیٹ کے انتخاب آئے تو اس میں بھی یوسف رضا گیلانی کو امیدوار نامزد کر دیا،یوسف رضا گیلانی سینیٹر تو منتخب ہو گئے البتہ چیئرمین سینیٹ منتخب نہیں ہوسکے، اک زرداری سب پر بھاری اپنی اننگز کھیلتے رہے ، پی ڈی ایم کی جانب سے لانگ مارچ اور استعفوں کے معاملے پر 16 مارچ کو اجلاس ہوا تو آصف زرداری خاموش نہ رہ سکے اور اپنے جذبات کا کھلے دل سے اظہار کر دیا کہ میاں صاحب پاکستان آئیں ملکر حکومت کے خلاف تحریک چلائیں گے

اک زرداری سب پر بھاری نے شہباز شریف کے بھائی نواز شریف کو لاہور کی سڑکوں پر گھسیٹنے کی کوشش کی لیکن مریم نواز رکاوٹ بنیں اور کہا کہ کسی کوحق نہیں نواز شریف کو واپس بلائے، یوں پی ڈی ایم کا اجلاس ختم ہوا مولانا فضل الرحمان میڈیا ٹاک کر کے روانہ ہوئے تو مریم بلاتی رہ گئیں مولانا نے مڑ کر ہی نہ دیکھا، پھر رابطے ہوئے ،مولانا نے نواز شریف ،زرداری سے گلے شکوے کئے، زرداری نے پھر یقین دہانی کروائی ہم ساتھ ہیں،

اسی عرصے میں بلاول لاہور آئے، مریم سے سوال کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ بلاول میرے بھائی ہیں لیکن بلاول سے جب مریم کے سوال کا پوچھا گیا تو بلاول کا کہنا تھا کہ مریم ن لیگ کی نائب صدر ہے میرا نائب صدر ہی جواب دے گا، بلاول نے بھی اننگز کھیلتے ہوئے مریم نواز کو لاہور آ کر یہ بیان دے کر سڑکوں پر گھسیٹ دیا

سینیٹ میں قائد حزب اختلاف کی باری آئی تو ن لیگ کی خواہش تھی کہ حزب اختلاف پی ڈی ایم کا مشترکہ آئے اور ن لیگ کا آئے تا ہم اک زرداری سب پر بھاری نے کراچی میں بیٹھ کر ایسا چھکا لگایا کہ مولانا فضل الرحمان کو دن میں تارے نظر آنے لگے، یوسف رضا گیلانی نے اپوزیشن کی چھوٹی جماعتوں کو ساتھ ملایا اور قائد حزب اختلاف کے لئے درخواست دے دی، جس کے بعد ن لیگ پیٹتی رہ گئی، آخر میں سینیٹ سیکرٹریٹ نے یوسف رضا گیلانی کا بطور قائد حزب اختلاف سینیٹ نوٹفکیشن جاری کر دیا

اک زرداری سب پر بھاری نے پی ڈی ایم میں رہ کر ایسی سیاست کی جس کے بارے میں وہ جانے اور مانے جاتے ہیں،اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد پی ڈی ایم آج یوسف رضا گیلانی کا سینیٹ میں قائد حزب اختلاف مقرر ہونے کے بعد اپنے انجام کو پہنچ گیا کیوںکہ جہاں راہیں اور منزل جدا ہوں تو وہاں اتحادوں میں ایسے ہی ہوتا ہے

اک زرداری سب پر بھاری اس لئے بھاری رہے کہ انہوں نے ن لیگ کے رہنماؤں کی جانب سے ماضی میں کی گئی باتوں کو جو انہوں نے پوری کرنی تھیں کو پورا کر دیا، اک زرداری سب پر بھاری واقعی بھاری رہے کیونکہ ن لیگ کو اس پی ڈی ایم کی ساری تحریک میں کچھ بھی نہ ملا اور مولانا بھی مریم نواز سے ملاقاتیں کر کے ، نواز شریف سے ٹیلی فونک گفتگو کر کے خوش ہو رہے ہیں.

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!