fbpx

سپریم کورٹ کے فیصلے پراعتزاز احسن اور دیگرماہرین کا ردعمل آگیا

نامور ماہر قانون اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ پہلے ووٹ کاسٹ ہوں گے جب تک ووٹ کاسٹ نہیں ہو گا پارٹی کا کچھ نہیں ہو سکتا ووٹ کاسٹ ہونے کے بعد پارٹی ہیڈ شوکاز نوٹس دے گا پھر ممںر وضاحت دے گا اسکے بعد چیف الیکشن کمشنر بلائے گا نوٹس متذکرہ کو ملے گا اگر ممبر مطمئن کرتا ہے تو کچھ نہیں ہو گا اور اگر مطمئن نہ کر سکا تو الیکشن کمیشن پھر ڈی سیٹ کرے گا

اعتزاز احسن کا مزید کہنا تھا کہ پارٹی ہیڈ کے فیصلے کو الیکشن کمیشن ری کنفرم کرے گا اور آخری فیصلہ اسی کا ہو گا ممبر پارلیمنٹ میں بھی جا سکتا ہے جب تک ووٹ نہ دے پارٹی پالیسی کے خلاف تو جرم کا تصور ہی نہیں ۔ ووٹ کاسٹ کرنے کی سب کو اجازت ہو گی ۔جو بھی اپوزیشن ہو گی مہنگائی رہنی ہے روس یوکرین جنگ کی وجہ سے گندم تیل بھی مہنگی ہو گی ویسے اسوقت بندے کو اپوزیشن میں ہونا چاہیے

سپریم کورٹ بار کے سابق صدر یاسین آزاد کا کہنا تھا کہ صدر کے ریفرنس پر میرا موقف تھا کہ بدنیتی پر مبنی تھا اگر کوئی پارٹی وفاداری سے ہٹ کر ووٹ دیتا ہے اس حوالہ سے اعتزاز احسن نے بتا دیا ایک ماہ کے اندر الیکشن کمیشن نے اسکا فیصلہ کرنا ہے وہ ڈی سیٹ ہو گا اسکے بعد وہ الیکشن لڑ سکے گا اس پر کوئی پابندی نہیں ہو گی آئیں میں واضح طریقہ کار دیا گیا ہے دستور جب کلیئر ہے تو اس پر رائے کی ضرورت نہیں تھی ۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد طے ہے کہ جو ووٹ دے گا وہ گنا جایے گا اور اسکے بعد پارٹی ہیڈ ایکشن لے گا ۔

یاسین آزاد کا مزید کہنا تھا کہ جنرل ضیا کے دور میں یہ آرٹیکل بڑھائے گئے ڈکٹیٹر کے بڑھائے گئے آرٹیکل کو حکومتوں کو ختم کرنا چاہیے تھا